پرائمری سطح کی ہوم اسکولنگ ـ الیاس نعمانی

کرونا نے ہماری زندگی کے ہر شعبہ کو متاثر کیا ہے، لیکن جس قدر نقصان بچوں کی تعلیم کا ہوا ہے، غالبا کسی اور چیز کا نہیں ہوا ہے۔ تعلیم میں بھی پرائمری سطح کی تعلیم شدید متاثر ہوئی ہے، متبادل نظام تعلیم (آن لائن تعلیم) میں طالب علم کے اندر جس قدر پختگی اور یکسوئی کی ضرورت ہوتی ہے چونکہ وہ فطری طور پر کم سن بچوں میں کم ہوتی ہے اس لیے وہ اس نظام تعلیم سے بالکل فائدہ نہیں اٹھا پاتے ہیں، نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ سال گزر جاتا ہے، اسکول کو فیس مل جاتی ہے، بچے کو اگلے درجہ میں داخلہ بھی مل جاتا ہے، لیکن اس کی علمی سطح میں کوئی اضافہ نہیں ہوپاتا۔
ایسی صورت میں ایک ممکنہ متبادل ہوم اسکولنگ ہوسکتی ہے، گزشتہ برس ان ہی ایام میں جب ہوم اسکولنگ سے متعلق اپنا تجربہ احباب فیس بک کی خدمت میں عرض کیا تو ان میں سے کئی حضرات نے اس سلسلہ میں چند سوالات کیے، جن کے بعد درج ذیل وضاحتی تحریر لکھی گئی، امید ہے کہ اپنے بچوں کی تعلیم کے حوالے سے متفکر حضرات کے لیے اس میں کچھ راہنمائی ہوسکے گی۔

* پرائمری سطح تک اسکولوں میں بنیادی طور پر چار مضامین کی تعلیم ہوتی ہے، ۱۔ انگریزی، ۲۔ ہندی، ۳۔ ریاضی، ۴۔ ماحولیات/ انوائر مینٹل اسٹڈیز (سائنس و سماجی علوم)۔
ان میں سے ماحولیات کی تعلیم درحقیقت صرف درجۂ سوم تا پنجم میں ہوتی ہے، اور بہت ابتدائی سطح تک کی ہوتی ہے، اس لیے اس کی تدریس کچھ رک کر شروع کی جا سکتی ہے، ہندی اب چونکہ ہمارے گرد و پیش کی غالب زبان ہے اس لیے اس کی تدریس بھی آسان ہوگئی ہے۔ البتہ ان دونوں مضامین (ماحولیات وہندی زبان) کے لیے کتابوں کا انتخاب کرتے وقت یہ بات ذہن میں رہے کہ حکومتی نصاب میں ان مضامین کی کتابوں میں ہی سب سے زیادہ دیومالائی مشرکانہ تہذیب کے فروغ کی کوشش کی گئی ہے، اس لیے لازمی ہےکہ کسی اسلامی پبلشر کی کتابیں ہی منتخب کی جائیں.ہندی کے لیے جماعت اسلامی کے شعبہء نصابیات کی شائع کردہ ہماری پوتهی بہت اچهی اور مفید ہے، ماحولیات کے لیے القلم یا ملت جیسے پبلشرس کی کتابیں حاصل کی جاسکتی ہیں.
* اس سطح کی تعلیم میں اصل توجہ طلب انگریزی اور ریاضی کی تعلیم ہے۔
انگریزی کے لیے بہت سی اچھی کتابیں اب دستیاب ہیں، میں نے اپنی بچی کے لیے آکسفورڈ یونیورسٹی پریس کی شائع کردہ کتاب آکسفورڈ ریڈنگ سرکل اور نیو لرنرس گرامر اینڈ کمپوزیشن کا انتخاب کیا تھا، جو بہت مفید ثابت ہوا۔
ریاضی کے لیے بہت مفید کتابوں کی بڑی تعداد بازار میں دستیاب ہے، آپ کسی بھی اچھے اسکول کی کتاب کا انتخاب کرسکتے ہیں۔

یہاں تک تو گفتگو اسکول کے مضامین کے حوالے سے کی گئی، ان مضامین کی ہوم اسکولنگ سے جو فوائد حاصل ہوتے ہیں ان میں سے ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ ہمیں بطور ایک مسلمان کے جو مضامین اپنے بچوں کو لازمی طور پر پڑھانے ہوتے ہیں ان کی تعلیم کے لیے بچے کے پاس بہت وقت ہوتا ہے، یہ مضامین بھی چار ہیں: ۱- ناظرۂ قرآن مجید، ۲- دینیات، ۳- اسلامی تاریخ اور ۴- اردو زبان۔

دینیات کی تعلیم کے لیے جمعیت علماء ہند کا شائع کردہ سلسلہ “دینی تعلیم کا رسالہ” یا مولانا الیاس بھٹکلی کا سلسلہ “اسلامیات” بہت مفید ہیں، کچھ اور مفید کتابیں بھی ہیں، لیکن ان سب کا تذکرہ طوالت کا باعث ہوگا۔
اسلامی تاریخ کے سلسلے میں بچوں کے لیے متعدد کتابیں ہیں جن میں سے حکیم شرافت حسین صاحب کی اللہ کے رسول، حضرت ابوبکر، حضرت عمر، حضرت عثمان، حضرت علی اور محترمہ امة اللہ تسنیم صاحبہ کی قصص الانبیا بہت خوب ہیں۔
اردو زبان کے بھی بہت سے نصاب دستیاب ہیں، متعدد اعتبارات سے جماعت اسلامی کے شعبۂ نصابیات کی شائع کردہ “ہماری کتاب” بہت مفید ہے۔

یہ وہ چند امور ہیں جن کا تذکرہ اپنے تجربہ کی روشنی میں مناسب و مفید محسوس ہوتا ہے، واللہ اعلم بالصواب۔