پی،سی ،وشو کرما : شیراز ہند کا ایک با کمال نعت گو شاعر- پروفیسر صالحہ رشید

صدر شعبۂ عربی و فارسی ، الہ آباد یونیورسٹی

saleharasheed.au@gmail.com
پی سی وشوکرما کا پورا نام ڈاکٹر پریم چند وشوکرما ہے اور پریمؔ تخلص کے ساتھ وہ خود کو پریم ؔجونپوری لکھتے ہیں۔آپ کا تعلق شیراز ہند یعنی شہر جونپور سے ہے۔جونپور صوبۂ اتّر پردیش کے مشرق میں فیروز شاہ تغلق کے وقت میں بسایا گیا ایک تاریخی شہر ہے جس کی علمی و ادبی شناخت اس حد تک رہی کہ مغل بادشاہ شاہجہاں اسے شیراز ہند کہا کرتا تھا۔عہد مغلیہ سے قبل ریاست جونپور علم و ادب کے اعتبار سے ہندوستان کی تمام مسلم ریاستوں پر سبقت لے گئی تھی جس کی بازگشت صدیوں تک سنی گئی اور آج بھی اس کی گونج باقی ہے۔اس کے ساتھ ہی جونپور ہندوستانی گنگا جمنی تہذیب کامرکز و مظہر بھی رہا۔ملا دائود جونپوری نے پدماوت ، رامائن اور کبیر بانی جیسی تصنیفات کو عالمی شاہکاروں کی صف میں لا کھڑا کیا تو حفیظ ؔجونپوری اور وامقؔ جونپوری کے اشعار نے لوگوں کے دلوں پر راج کیا۔ یہی روایت آگے بڑھ کر آج پریم ؔجونپوری کا روپ اختیار کر گئی ہے۔
پریمؔ جونپوری ایک عجیب خادم اردو ، عاشق اردو اور محب اردو ہیں جو اپنے خیالات کا اظہار غیر اردو رسم الخط میں کرتے ہیں۔ آپ نے اردو شاعری کی کئی صنف میں طبع آزمائی کی ہے مگر جو بات چونکانے والی ہے وہ ہے ان کا مذہبی شاعری کا سفر۔انھوں نے قصیدہ ، غزل ، رباعی ، قطعات وغیرہ پر طبع آزمائی تو کی ہی مگر حمد ، نعت، منقبت اور سلام جیسی صنف پر خامہ فرسائی حیرت زا ہے۔ یہ امر قابل غور ہے کہ ایک ایسا شاعر جس نے بالکل مختلف مذہبی ، سماجی اور روایتی پس منظر میں آنکھ کھولی ہو وہ اردو شاعری کی روایت سے خود کو پوری طرح ہم آہنگ کر لے اور اسی تناظر میں اپنے تخلیقی اظہار کی راہیں ہموار کر لے۔ پریمؔ جونپوری اس کی بہترین مثال ہیں۔ انھوں نے ہندی پس منظر میں اپنے ذوق کی نشو و نما کی مگر ان کااردو شاعری کا راہرو بن جانا حیران کن تو ہے پر ناممکن نہیں۔ چونکہ تخلیقی سوتے پھوٹنے کا محرک ہر زبان میں تقریباً ایک جیسا ہوتا ہے اس لئے پریم ؔجونپوری کو اپنے اظہار کو اردو قالب میں ڈھال لینا تھوڑی دشواری کے ساتھ ممکن ہو گیا۔ان کا شعری سفر غزل سے شروع ہو کر نعت گوئی تک آ پہنچا ہے۔ اس سفر میں انھوں نے عرفان ، ادراک، تجربات و مشاہدات کے ایسے جواہر اپنے کلام میں پروئے ہیں جن کی رمق نے اردو شاعری کی تابانی میں افزائش کی ہے۔ اس مقام تک پہنچنے کے لئے انھوں نے مستقل محنت و ریاضت کی اور قرطاس و قلم کے رشتے کو برقرار رکھا۔ عمر عزیز کی تقریباً ستّر بہاروں کی دید کے باوجود بنا شکوہ و ملال، بنا تھکے اس حوصلہ مند کا سفر پوری توانائی کے ساتھ جاری و ساری ہے۔
عربی زبان میں تعریف و توصیف کے لئے متعدد مصادر مستعمل ہیں ۔ ان میں سے کچھ تو اصطلاحی صورت اختیار کر گئے ہیںجیسے حمد اللہ کی تعریف کے لئے مخصوص ہو گیا ہے اور نعت کی اصطلاح رسولؐکی منظوم تعریف کے لئے مستعمل ہو کر مخصوص ہو گئی۔در اصل نعت گوئی کا محرک قرآن کریم ہے۔ اسے ادب کی مشکل ترین صنف کے طور پر دیکھا جاتا ہے کیونکہ اس کا اطلاق اس ذات گرامی پر ہوتا ہے جس کی مدح خود اللہ رب العزت کرتا ہے۔ قرآن میں جا بجا ثناء رسول ؐ کی گئی ہے ۔نعت عربی میں قصیدے کی شکل میں موجود ہے۔ ورقہ بن نوفل ؓ نے پہلا باقاعدہ نعتیہ قصیدہ لکھا۔حضور ؐ کے مدینہ تشریف لانے پر بنو نجاّر کی بچیوں نے نعتیہ اشعار پڑھے ۔ در اصل ہر وہ اقتباس جس میں آپؐکی مدح کی گئی ہو ، نعت کہا جائے گا مگر اردو فارسی میں لفظ نعت کا اطلاق آنحضرت ؐ کی منظوم مدح پر ہوتا ہے۔ نعت گوئی ایک دشوار گذار تخلیقی عمل ہے۔اس میں شاعری کے جمالیاتی تقاضے کے ہمراہ زبان و بیان کی احتیاط لازم ہے۔اسی لئے نعت گوئی کے فن کو تلوار کی تیز دھار پر چلنے کے مترادف قرار دیا گیاہے۔ بالفاظ دیگر نعت گوئی ’ادب گاہست زیر آسماں از عرش نازک تر‘ ۔پریمؔ جونپوری نے اس دشوار گذار راہ پر نہ فقط قدم رکھا بلکہ مقدار و معیار دونوں اعتبار سے اس روایت کوآگے بڑھایا ہے۔ موصوف کا ایک شعری مجموعہ بعنوان ’صدائے بقا ‘ ۲۰۱۶ء؁ میں شائع ہوا جس کی شروعات وہ ذیل کی حمد سے کرتے ہیں ۔چند اشعار ملاحظہ ہوں ؎
توسب کو رزق دیتا ہے تو پالنہار سب کا ہے
تو ہر انسان کے جیون کا بیڑا پار کرتا ہے
ترے رحم و کرم کا آسرا ہے سارے بندوں کو
تو ہی ہے مالک روز جزا انصاف والا ہے
کہاں ہے اتنی طاقت جو کرے حمد وثنا تیری
تجھے اے میرے مولا پریمؔ کی ہمت بڑھانا ہے
اس مجموعے کے اگلے صفحے پر ایک نعت درج ہے ۔بطور نمونہ کچھ شعر پیش خدمت ہیں ؎
اللہ نے نبیؐ کو نوازا ہے اس طرح
وہ بن گئے ہیں شمع ہدایت کی کائنات
تم سیرت رسولؐ کو دل میں اتار لو
تب جا کے بچ سکے گی یہ ملت کی کائنات
مذکورہ بالا اشعار سے واضح ہے کہ پریمؔ جونپوری نے حمد و نعت کے فرق کو سمجھا ہے اور اسے بہت خوبصورتی سے شعر ی جامہ پہنایا ہے۔ جب شعر گوئی کی جانب ان کی رغبت ہوئی تو دفعتاً اسلامی قدریں ان کے دائرۂ فکر میں داخل ہو گئیں۔جن کا انھوں نے غائر مطالعہ کیااور شائد اسی لئے وہ جا بجا وحدانیت کے مضمون کو بلا تکلف باندھتے چلے جاتے ہیں ؎
وحدانیت کو تو دل میں اپنے اتار لے
پیارے نبیؐ تو کر چکے اعلان بار بار
یا پھر اللہ تعالیٰ کی راہ میں فنا ہو جانے کے تصوف کے فلسفے کو بڑے سیدھے سچے ڈھنگ سے یوں پیش کرتے ہیں ؎
تلاش حق ہو جسے پہلے وہ فنا سے ملے
فناکے بعد کہیں جا کے پھر بقا سے ملے
نعت گوئی کا حق وہی ادا کر سکتا ہے جس کا دل عشق رسول ؐ کے جذبے سے معمور ہونیز فن شاعری کے رموز سے بخوبی واقف ہو۔اس راہ میں ادنیٰ سی لغزش گناہ کا باعث بن سکتی ہے۔ اس پل صراط سے وہی شاعر گزر سکتا ہے جو صاحب بصیرت ہو۔اللہ تعالیٰ خود ہی ذکر رسول کو ارفع و اعلیٰ گردانتاہے۔لہٰذا اس در پر طبع آزمائی کرتے وقت الفاظ و معنی پر شاعر کی گرفت کتنی بھی مضبوط کیوں نہ ہو وہ خود کو عاجز و بے بس پاتا ہے۔ پریمؔ جونپوری جب اس کیفیت سے دوچار ہوتے ہیں تو کہہ اٹھتے ہیں ؎
کس طرح لکھی جاتی ہے نعت رسول ؐ پاک
یہ نکتہ، نکتہ سنج سخنور سے پوچھئے
پریم ؔ جونپوری کی نعتیں داخلی اور خارجی دونوں محاسن کی حامل ہیں۔ رسولؐ پاک سے اپنی والہانہ محبت ، عقیدت ، خلوص اور وابستگی کو اس فطری انداز میں شعر میں پرو دیتے ہیں کہ قاری محو حیرت رہتا ہے۔ان کے نعتیہ اشعار محض ان کی ذہنی کاوش کا نتیجہ نہیں بلکہ ان کے دل کی صدا ہیں۔ ان کی عقیدت و محبت کا اظہار انتہائی سادگی و پر کاری لئے ہوئے ہے۔ وہ رسول ؐ کی ذات کو تمام عالم کی تخلیق کا باعث اور سراپا رحمت مانتے ہیں تبھی تو فرماتے ہیں ؎
باعث تخلیق دو عالم ہے ذات مصطفیٰ
نامکمل تھا جہاں فخر رسالت کے بغیر
جب سے آئے جہاں میں رسول ؐ خدا
ان کی تعریف پر سب کا حق ہو گیا
کیا مرتبہ ہمارے رسولؐ خدا کا ہے
اس کا بیان کرتا ہے قرآن بار بار
ان کے نعتیہ کلام میں سرشاری ، جذب اور بیخودی کی کیفیت پوری موزونیت کے ساتھ کچھ اس طرح شعر کے قالب میں ڈھلتی ہے کہ قاری بھی شعر کی نغمگی میں گم ہو کر جھومنے لگتا ہے۔مثال کے طور پر ذیل کا شعر ملاحظہ فرمائیں ؎
مرے امیّ لقب کا شیوۂ گفتار تو دیکھو
لطافت ہے ، نزاکت ہے ، فصاحت ہے بلاغت ہے
یا پھر یہ شعر ؎
کب گل و سنبل میں ہوتی خوشبوئے راحت فضا
کیا مہکتے مشک و عنبر ان کی نکہت کے بغیر
اسوۂ رسولؐ پر بھی ان کی بھرپور نگاہ ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ سنّت رسولؐ کی پیروی سے دونوں جہان سنور سکتے ہیں۔ لہٰذا قرآن و سنّت کی تعلیمات سے سب کو اپنا دل روشن کرنا چاہئے ؎
امن کی ڈوبتی سانس چلنے لگی
جب حبیب خدا کا نظام آ گیا
سنّت و قرآن سے دل پر نور رکھنا چاہئے
فرض ہے یہ مومنوہر متقی دیندار پر
یہ صبر و ضبط و تحمل یہ اتقاء یہ زہد
ہزاروں درس ہمیں درس مصطفیٰ سے ملے
پریمؔ جونپوری کی نعتوں کا مطالعہ کرنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ نعت کے مسلمات سے واقف ہیں۔ان کی نعتوں کو پڑھ کر قاری جمالیاتی شادمانی کا احساس کرتا ہے۔ اس ضمن میں ان کے وہ اشعار پیش ہیں جو انھوں نے خلفاء راشدین کی شان میں کہے ہیں، ملاحظہ ہوں ؎
انھیں کے گھر سے تو نکلی ہے راہ عرفان کی
جسے خدا سے ہو ملنا وہ مصطفیؐ سے ملے
ہزار جان وہ صدیقؓ پر فدا کر دے
جو ایک بار بھی صدیقؓ باوفا سے ملے
ہمیشہ فرق کیا ہے اس نے حق و باطل میں
عروج عدل کو فاروقؓ کی ادا سے ملے
انھیں کے در کی گدائی میں ہو گئے مصروف
امیر جتنے بھی عثمانؓ با حیا سے ملے
علیؓ کے بعد شجاعت میں چمکے ہیں جو بھی لوگ
بہادری کے سبق ان کو مرتضیٰ ؓ سے ملے
پریم ؔ جونپوری کی نعتیہ شاعری میں سماجی بصیرت کے نقوش بھی موجود ہیںجو عقیدت کے ساتھ ساتھ انتہائی فنکارانہ انداز میں شعر میں نظم کئے گئے ہیں ؎
اندھیرے بڑھنے نہ پائیں دلوں میں نفرت کے
چراغ عشق شہ انبیاء جلائے رکھنا
شاعر کا کلام عقیدت مندی کے ساتھ ہی عمدہ شاعری کا نمونہ ہے۔قاری اس میں نعتیہ شاعری میں مستعمل عمومی لفظیات کے ساتھ ساتھ پریمؔ جونپوری کی مخصوص لفظیات سے بھی لطف اندوز ہوتا ہے ۔پریمؔ جونپوری نے جا بجا اپنے تخلص کا استعمال انتہائی فنکارانہ طور پر کیا ہے ؎
خود رہ گئے بھوکے مگر اوروں کو کھلایا
اے رحمتوں والے یہ ترا دان الگ ہے
درس دیتے ہیں وہ اخلاق و وفا و پیار کا
مصطفیٰ کا کس قدر احسان ہے سنسار پر
کسی فقیر سے پوچھو یہی بتائے گا
جسے ہو پریمؔ نبیؐ سے تو وہ گدا سے ملے
الغرض پریم ؔجونپوری کے دل و دماغ پر یہ حقیقت پوری طرح نقش ہے ’’ باعث تخلیق دوعالم ہے ذات مصطفیٰ‘‘ اور اسوۂ رسول ﷺ میں اجتماعی زندگی، انفرادی زندگی، سماجی و اجتماعی تعلقات ، گویا انسانی زندگی کا کامل دستور حیات موجود ہے، جسے اختیار کر لینے پر دونوں جہان کی سعادتیں انسان کے قدم چومنے لگیں گی۔ کتنے پاکیزہ افکار ہیں پریم ؔ جونپوری کے، ہم اس میں مزید اضافے کی دعا کرتے ہیں۔