پالولرفرنٹ آف انڈیاپریوپی حکومت کی ٹیڑھی نظر،بین کرنے کی تیاری 

 

لکھنؤ: شہریت ترمیم ایکٹ کے خلاف احتجاج میں یوپی میں پولیس تشدد کے معاملے میں یوگی حکومت نے مظاہرین کے خلاف ہی کاروائی کافیصلہ کیا ہے۔تشدد کے الزام میں شامل ہونے کا الزام لگاتے ہوئے رفاہی تنظیم پاپولر فرنٹ آف انڈیا (پی ایف آئی) پر حکومت نے پابندی لگانے کی تیاری کرلی ہے۔خود اتر پردیش کے نائب وزیراعلی کیشو پرساد موریہ نے حکومت کے اس فیصلے کی تصدیق کی ہے۔نائب وزیراعلی نے کہا ہے کہ پی ایف آئی کا ہاتھ تشدد کے تمام واقعات میں سامنے آیا ہے اور اس تنظیم میں سیمی کے لوگ ہی شامل ہیں۔ایسے میں اگر سیمی بھی شکل بدل کر سامنے آئے کی کوشش کرے گا تو اسے کچل دیا جائے گا۔یوپی میں شہریت ترمیم قانون (سی اے اے) کے خلاف ہوئے مظاہروں کے دوران پرتشدد وارداتوں کو انجام دینے میں اس تنظیم کے ملوث ہونے کاالزام لگایاگیا ہے۔انٹیلی جنس رپورٹ میں دعویٰ کیاگیا ہے کہ مظاہروں کے دوران ہوئے تشدد میں پی ایف آئی کا بھی بڑا کردار تھا۔منگل کو یوگی حکومت کے اجلاس کے درمیان ہی ریاست کے نائب وزیراعلی کیشو پرساد موریہ نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ حکومت پی ایف آئی پر پابندی لگانے جا رہی ہے۔کیشو پرساد موریہ کے اعلان کے ساتھ ہی یوپی کے پولیس ڈائریکٹر جنرل اوپی سنگھ نے مرکزی وزارت داخلہ کو خط لکھ کر پی ایف آئی پر پابندی لگانے کی سفارش کی ہے۔ڈی جی پی کی جانب سے یہ خط 20 دسمبر کو اتر پردیش میں ہوئے تشدد کے واقعات کے بعد وزارت داخلہ کو بھیجا گیا ہے۔بتا دیں کہ شہریت کے قانون کے خلاف ملک میں مظاہروں کے دوران ہوئے تشدد کے بہت سے معاملات میں پی ایف آئی رہنماؤں کے خلاف الزامات عائد کئے گئے ہیں،اب تک پی ایف آئی کے تقریبا 20 ارکان کو گرفتار کیا جا چکا ہے،ان میں پی ایف آئی کی سیاسی شاخ سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (ایس ڈی پی آئی) کے ریاستی صدر نور حسن بھی شامل ہیں۔لکھنؤ پولیس نے پی ایف آئی کے ریاستی کنوینر وسیم احمد سمیت دیگر عہدیداروں کو بھی شہر میں بڑے پیمانے پر تشدد اور آگ زنی کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔