مذہب کے لبادے میں سیاست کا کھیل- سنسکرتی پریہار 

ترجمہ: اسلم رحمانی 
مجھولیا، پارو، مظفرپور، بہار 
ہمارے آئین نے آرٹیکل 25 میں ہر شہری کو مذہبی آزادی دی ہے اور اسی مقصد کو پورا کرنے کے لیے آئین ہند میں آرٹیکل 28 بھی شامل کیا گیا ہے کہ ہندوستان کے آئین کو سیکولر بنایا جائے۔ ہندوستان شروع سے ہی سیکولر رہا ہے، یہاں تمام مذاہب کے ماننے والوں کے ساتھ یکساں سلوک کیا جاتا ہے۔ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ ریاست مذہب کے معاملے میں مکمل طور پر غیر جانب دار ہے۔ وہ کسی مذہب کے ساتھ نہیں ہے اور ریاست کا کوئی مذہب نہیں ہے۔ریاست ہر مذہب کو یکساں تحفظ فراہم کرتی ہے، وہ کسی مذہب میں مداخلت نہیں کرتی۔
لیکن 1992 میں بابری(مسجد) کے انہدام کے بعد اچانک سنگھ کی سوچی سمجھی سازش کی وجہ سے نام نہاد ہندوتواطاقتیں سیاست میں آگئیں اور ہندو مذہب کے لوگوں کو عقیدے کے نام پر ووٹ دینے پر مجبور کر دیا۔ جس کا نتیجہ آج ہم دیکھ رہے ہیں۔ جب سیاست کی چوٹی پر بیٹھے لوگ مندروں کے دروازوں پر ایسی تقریریں کر رہے ہوں، جن کی آئین کی منشا کے مطابق اجازت نہیں ہے۔ آئین میں واضح طور پر درج ہے کہ وہ کسی مذہب میں مداخلت نہیں کرتا۔لیکن چاہے یہ کیدارناتھ دھام ہو، رام جنم بھومی مندر کا صحن ہو یا وشوناتھ بابا کوریڈور ہو، یہ سب کتنا مناسب اور  منصفانہ عمل ہے اس پر بحث کی ضرورت ہے۔
اتر پردیش کے انتخابات کے پیش نظر وزیر اعظم نے بابا وشوناتھ کوریڈور کے صحن میں مذہبی تقاریر کے ذریعے جس طرح سے اس تقریب کا افتتاح کیا، جس قدر تشہیر کا اہتمام اتر پردیش حکومت نے کیا، اخبارات اور میڈیا اداروں کو اشتہارات دیے گئے، کیا یہ ہر ہر مہادیو سے عقیدت ہے؟ ایسا نہیں ہے کہ یہاں کوئی پہلا وزیر اعظم آیا ہو، ماضی میں بھی کئی وزرائے اعظم اس دربار میں پوجا کرنے کے لیے آ چکے ہیں، لیکن اس قسم کے خطابات کی کبھی ضرورت نہیں پڑی۔فرض کریں آج کے وزیراعظم نے اسے عالمی سیاحت کا مرکز بنا کر بڑے بڑے تاجروں کا تجارتی مرکز بنا دیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ پہلی دکان نیرا راڈیا کو الاٹ کی گئی ہے۔ کیا نہیں لگتا کہ یہ تمام مندر ٹرسٹ کے ذریعے بنایا گیا ہوگا؟ اگر حکومت ہند نے مندر کے لیے چندہ دیا ہے تو وہ بھی غلط ہوگا کیونکہ حکومت کسی مذہبی ادارے کو ایسا چندہ نہیں دے سکتی۔ اگر اس نے دیا ہے تو دیگر مذہبی مراکز بھی چندہ مانگنے کے حقدار ہوں گے۔ اسی لیے وشوناتھ مندر کی ترقی کا سہرا بھی یوگی مودی کو نہیں جاتا۔
بنیادی طور پر یہ عظیم الشان پروگرام سنگھ کے بھگوا پرچم تلے منعقد کیا گیا ہے۔ پورے بنارس کو زعفرانی رنگ دیا گیا تھا اور یہاں تک کہ مندر کے پیچھے واقع گیان واپی مسجد کمپلیکس کو بھی زعفرانی رنگ دیا گیا تھا۔ اس دوران مودی یوگی پورے شہر میں پوسٹر بوائے کی طرح چھائے ہوئے تھے۔ بنارس شہر کی غلاظت کو جلد بازی میں اس طرح جلایا گیا کہ بنارس میں سانس لینا مشکل ہو گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ احتجاج کے خدشے کو مدنظر رکھتے ہوئے اپوزیشن رہنماؤں کو گھر میں نظر بند رہنے پر مجبور کیا گیا۔پولیس ان کے گھر کے سامنے موجود تھی۔ یہ تو سبھی کو معلوم ہے کہ اس بار سنگھ نے یوگی آدتیہ ناتھ کے پروموشن کی ذمہ داری لی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہاں سنگھ کی تنظیم سب سے زیادہ مضبوط ہے۔ وزیر اعظم یہاں تین دن کے لیے ہیں۔ معلوم ہوا ہے کہ ملک بھر کے میئر اور بی جے پی کے صدر کی میٹنگ کے علاوہ سنگھ نے انتخابی تیاریوں کے لیے مزید میٹنگیں بلائی ہیں۔
حقیقت یہ بھی ہے کہ راہل گاندھی نے جے پور کے جلسے میں پہلی بار بڑی بھیڑ کی موجودگی میں جس طرح واضح طور پر ہندوتوا اور ہندو کے بارے میں بات کی ہے، اس کے جواب کے لیے یہاں تیاری کرنی ہوگی۔ کچھ لوگوں کا یہ کہنا درست ہے کہ راہل کو اس معاملے میں نہیں پڑنا چاہیے، لیکن کیا ڈر ے رہنا مناسب ہے؟ اس کا تیر صحیح نشانے پر لگ رہا ہے۔ اس سے مایوسی میں اضافہ ہوا ہے۔ بنارس کے باسی بھی چوراہے اور گھروں کے باہر اس ہندوتوا سے واقف ہو چکے ہیں۔ مذہب اور سیاست کا یہ کھیل اتر پردیش میں ایک بار ہو چکا ہے۔اب کوئی امید نظر نہیں آتی۔ سیاست اور مذہب کی اس آمیزش کو روکنا ہو گا ورنہ دنیا میں ہمارا سیکولر چہرہ داغ دار ہو جائے گا۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*