پولیس تشددکیخلاف یوپی بھون کا گھیراؤ،گرفتاری،جامعہ کے طلباکی بھوک ہڑتال

 

نئی دہلی:یوپی میں عام شہریوں اور مسلمانوں کے خلاف پولیس کریک ڈاؤن کیخلاف جامعہ کوآرڈینیشن کمیٹی کی دعوت پرطلبہ و طالبات اور سماجی کارکنوں کی ایک بڑی تعداد یوپی بھون کا گھیراؤکرنے پہنچی تھی،جسے دہلی پولیس نے ڈٹین کرکے ماتا مندر مارگ پولیس سٹیشن لے گئی ہے۔قابل ذکرہے کہ سی اے اے کیخلاف گزشتہ ہفتہ احتجاج کے دوران یوپی کے مختلف شہروں میں حالات کشیدہ ہوگئے تھے جس کے بعد یوپی پولیس نے مظاہرین اور عام شہریوں کے خلاف کریک ڈاؤن کرتے ہوئے سیکڑوں لوگوں کو گرفتار کرلیا،وہیں باقاعدہ پوسٹرزجاری کرکے لوگوں کو پکڑکرجیل میں ڈال رہی ہے۔اس کے علاوہ ایسی خبریں بھی ہیں کہ پولیس اور آرایس ایس و وشوہندوپریشد کے کارکنان مسلمانوں کے گھروں میں گھس کرچوری اور لوٹ پاٹ کرتے پائے گئے ہیں۔جس کے خلاف کئی دنوں سے دہلی کے یوپی بھون کے باہر احتجاج اور گھیراؤ کا سلسلہ جاری ہے۔ادھر جامعہ ملیہ اسلامیہ کے باہربھی طلبہ کے احتجاج کا سلسلہ جاری ہے اور آج انہوں نے جامعہ میں پولیس کے تشددکی غیر جانبدارانہ انکوائری کا مطالبہ کرتے ہوئے ایک دن کی بھوک ہڑتال بھی کی۔طلبہ کا مطالبہ ہے کہ جامعہ کیمپس میں گھس کر طلبہ کے ساتھ زیادتی کی منصفانہ جانچ ہونی چاہیے،جن طلبہ کو چوٹیں پہنچی ہیں انہیں معاوضہ ملناچاہیے اور جو گرفتار کیے گئے ہیں انہیں فوری طورپر رہاکیاجانا چاہیے۔ان کاکہناتھاکہ حکومت سی اے اے جیسا قانون لاکر اصل مسائل بے روزگاری ومعاشی بحران سے لوگوں کا دھیان بھٹکانا چاہتی ہے۔