پولیس افسران اورحکمران جماعتوں کا گٹھ جوڑ پریشان کن: سپریم کورٹ 

 

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے حکمراں جماعتوں کے ساتھ پولیس افسران کے گٹھ جوڑ پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ چیف جسٹس (سی جے آئی) این وی رمنا نے کہا کہ یہ ملک میں پریشان کن ہے۔ پولیس افسران اقتدار میں موجود سیاسی جماعت کی حمایت کرتے ہیں اور اپنے مخالفین کے خلاف کارروائی کرتے ہیں۔ بعد میں جب مخالفین اقتدار میں آتے ہیں تو وہ پولیس افسران کے خلاف کارروائی کرتے ہیں۔ محکمہ پولیس کو اس صورتحال کا ذمہ دار ٹھہرایا جانا چاہیے، انہیں قانون کی حکمرانی پر قائم رہنا چاہیے۔ اسے روکنے کی ضرورت ہے۔ سپریم کورٹ نے یہ بات چھتیس گڑھ کے معطل ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل پولیس گرجندر پال سنگھ (جی پی سنگھ) کی درخواست پر سماعت کے دوران کہی ۔ فی الحال گجرندر پال کو راحت دیتے ہوئے سپریم کورٹ نے حکم دیا ہے کہ پولیس اسے چار ہفتوں تک غداری اور غیر متناسب اثاثوں کے معاملے میں گرفتار نہیں کرے گی۔ اس سلسلے میں ریاستی حکومت کو نوٹس بھی جاری کیا گیا ہے اور افسر سے کہا گیا ہے کہ وہ تحقیقات میں تعاون کرے۔در اصل آئی پی ایس آفیسر گرجندر پال کے خلاف بغاوت اور غیر متناسب اثاثوں کے مقدمات آئی پی سی کی دفعہ 124 اے کے تحت درج کیے گئے ہیں۔ اس معاملے میں افسر نے دو درخواستیں دائر کی ہیں۔ ایک پٹیشن میں ملک دشمنی کا مقدمہ منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے اور دوسری میں اس معاملے کی سی بی آئی سے تحقیقات کروانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اس دوران افسر کی جانب سے فلی نریمن نے عدالت کو بتایا کہ اس افسر کو حکومت کی جانب سے ہراساں کیا جا رہا ہے۔ دوسری طرف چھتیس گڑھ حکومت کی جانب سے مکل روہتگی نے کہا کہ چارج شیٹ گزشتہ ہفتے دائر کی گئی ہے، وہ دو ماہ تک انڈر گرائونڈ ہیں۔گرجندر ایک سینئر پولیس افسر ہے، اس کے باوجود وہ مفرور ہے۔ ہندی میں اس کے خلاف بہت سا مواد موصول ہوا ہے۔ یہ پٹیشن غیر موثر ہو گئی ہے۔ چھتیس گڑھ پولیس نے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس گرجندر پال سنگھ پر بھی غداری کا مقدمہ درج کیا ہے جبکہ چھتیس گڑھ حکومت نے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل پولیس گرجندر پال سنگھ کو جائیداد زیادہ اثاثہ رکھنے کے معاملے میں معطل کر دیا ہے۔