جنترمنترپراشتعال انگیزنعرے بازی کاکیس، پنکی چودھری کو14 دن کی عدالتی تحویل میں بھیجاگیا

نئی دہلی:جنتر منتر اشتعال انگیز نعرے بازی کیس میں ملزم پنکی چودھری کوپٹیالہ ہاؤس کورٹ نے 14 دن کے لیے عدالتی تحویل میں بھیج دیا ہے۔ پنکی چودھری نے منگل کے روز مندر مارگ پولیس اسٹیشن میں خودسپردگی کی ہے جس کے بعدپولیس نے اسے گرفتار کیا اور اب عدالت نے اسے عدالتی تحویل میں بھیج دیا ہے۔8 اگست کو جنتر منتر پر اقلیتی برادری کے خلاف اشتعال انگیز نعرے لگائے گئے۔ اس وقت ہندو رکشا دل لیڈرپنکی چودھری بھی موجودتھا۔ پنکی نے خود بعد میں اعتراف کیا کہ ان کی تنظیم نے یہ اشتعال انگیز نعرے بلند کیے تھے اور انہیں اس پر کوئی اعتراض نظر نہیں آیا۔لیکن اس معاملے میں پولیس پنکی کو ڈھونڈ رہی تھی اور وہ کافی عرصے سے مفرورتھا۔ اس کے بعد وہ خود آگے آیا اور اعلان کیا کہ وہ پولیس کے سامنے ہتھیار ڈال دے گا۔ انہوں نے عدلیہ اور قانون پر اپنے اعتماد کا اظہار کیا تھا۔ اسی اعلان کے بعد پنکی نے منگل کو مندر مارگ پولیس اسٹیشن میں ہتھیار ڈال دیے اور اب اسے 14 دن کے لیے عدالتی تحویل میں بھیج دیا گیا ہے۔اس معاملے میں پنکی کے علاوہ ونود شرما ، دیپک سنگھ ، دیپک ، ونیت کرانتی ، پریت سنگھ کو بھی گرفتار کیاگیاہے۔ اسی دوران پہلے وکیل اشونی اپادھیائے کو بھی گرفتار کیا گیا۔ نعرے بازی کے وقت اشونی وہاں موجودتھے۔تاہم بعد میں اسے عدالت سے ضمانت مل گئی۔ ایسی صورتحال میں وہ بچ گئے ہیں لیکن باقی ملزمان کے خلاف سخت کارروائی کی جا رہی ہے۔عدالت نے اس معاملے میں سخت رویہ بھی اختیار کیا ہے۔ پنکی چودھری کی پیشگی ضمانت کو مسترد کرتے ہوئے دہلی کی ایک عدالت نے کہا تھا کہ ہم طالبان کی حکمرانی میں نہیں ہیں۔ قانون بھی کچھ ہے اور ہمارے معاشرے کو چلانے کا مقدس اصول ہے۔ ان کی جانب سے پنکی چودھری کو اس معاملے میں کسی بھی قسم کی راحت دینے سے انکار کر دیا گیا تھا۔