20 C
نئی دہلی
Image default
ادبیات نظم

پھول

ذکی احمد
پھول کتنے حسین ہوتے ہیں
دل کشا، دلنشین ہوتے ہیں
اُن کی شادابی و طراوت سے
شوقِ نظّارگی مچلتی ہے
خوشبوؤں سے فضا مہکتی ہے
انبساط و نشاط سے چھَن کر
رنگ سے تازگی ٹپکتی ہے
“رنگ و خوشبو” کا امتزاج ہیں یہ!

رنگ، وہ جس پہ دل کھِنچا جائے
خوشبو، جو ذہن و دل پہ چھا جائے

(صبح، اک پھول کے اشارے پر
ذہن آیا اس استعارے پر )

رنگِ گُل پیرہن ہے، “پردہ” ہے
خوشبو گل میں ہے جو، “حیا” ہے وہ

کتنے، خوش رنگ پھول ہوتے ہیں
جن کی بُو سے ذَہن الجھتے ہیں
جن کی بدبُو سے لوگ بچتے ہیں
مجتنَب میں شمار ہوتے ہیں
اور طبیعت پہ بار ہوتے ہیں

کتنے ایسے بھی پھول ہیں جن کے
رنگ گر خوشنما جو نا بھی ہوں
خوشبو اچھی، تو پھول اچھے ہیں
ذہن بھی مُشکبار ہوتے ہیں
دل بھی ان پر نثار ہوتے ہیں

اب بتائیں کہ کون بہتر ہے
وہ کہ مَن جس کی بُو سے مَتلائے؟
یا وہ بند آنکھ سے بھی جو بھائے؟

پردے پر ناز سے یہ سر خم ہے
پر یہ پردہ حیا سے مدھّم ہے
یعنی طے ہے ، حیا مقدّم ہے

رَگ میں پھولوں کے دوڑتی ہے بُو
رنگِ گُل، صرف گُل کا غازہ ہے
عکسِ کردار تو حیا ہی ہے
پردہ تو ظاہری لبادہ ہے

پردہ تعبیر ہے مظاہر سے
اور حیا گردشِ لہو سے ہے
جیسے رنگ دیکھنے کی چیز ہے بس
پھول کی تازگی تو بٗو سے ہے

بُو کہ جس کو ہے عزمِ گل کا پاس
بُو کہ جس کے سبب اٹھے گل سے
تازگی کا اِک اَن چھُوا احساس
بُو، وہ جو چار سمت لہرائے
خود بھی مہکے، فضا بھی مہکائے!
پھول کے رنگ میں ہے کیا جُز رنگ
رنگ تو دیکھنے کی چیز ہے بس!

رنگ اور بُو سے یہ ہوا معلوم
ہیں “حیا، پردہ” لازم و ملزوم
اک ہے مشروط دوجے سے یعنی
بِن حیا کے ہے پردہ بے معنی

متعلقہ خبریں

Leave a Comment