پھر یوگی کی زہریلی فرقہ پرستی کی بات ـ شکیل رشید

(ایڈیٹر روزنامہ ممبئی اردو نیوز)
یہ میں پھر یوگی کی بات کیوں کررہا ہوں؟ ابھی گذشتہ اتوار ہی کو تو یوگی کی باتیں ہوئی تھیں۔ یوگی کی زہریلی فرقہ پرستی ، گھناونی ملسم دشمنی اور بدترین عصبیت پر تشویش کا اظہار کیا گیا تھا ، پھر یہ دوبارہ یوگی کا تذکرہ کیوں؟
سوال تو درست ہے ۔ کرنے کے لئے بہت ساری باتیں ہیں ، اس ۳۵ سالہ مسلم سائنس دان کا ذکر کیا جاسکتا ہے جسے ’اسرو‘ میں ایک اعلیٰ عہدے پر ترقی دی گئی ہے ۔ ’اسرو‘ یعنی ’انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن ‘ ۔علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی فارغ خوشبو مرزا کو ’ اسرو‘ کا ڈائرکٹر تو نہیں بنایا گیا ہے ، جیسا کہ سوشل میڈیا پر دعویٰ کیا جارہا ہے ، لیکن مرزا کو ’ رینک ایف‘ یا باالفاظ دیگر ’سائنٹسٹ ایف‘ کے درجہ پر ترقی دی گئی ہے ، جو ایک ڈائرکٹر کے درجہ کے مساوی ہے ۔ خوشبو مرزا ہنوز سابق صدر جمہوریہ ، ہندوستان کے ’ میزائیل مین‘ اے پی جے عبدالکلام سے دودرجہ نیچے ہیں ، لیکن صرف ۳۵ سال کی عمر میں یہ ترقی مثالی کہی جاسکتی ہے اور ابھی مرزا کے لئے ساری عمر پڑی ہے ، اتنی عمر کہ وہ ’ اسرو‘ کی ڈائرکٹر بن سکتی ہیں ۔ یوگی کے ذکر سے ہٹ کر خوشبو مرزاکا ذکر کتنا اچھا لگا ، دل کو جیسے کہ قرار آگیا ۔ لیکن کیا کریں کہ سارے ملک میں ایک خوشبو مرزا ہے ، جبکہ مسلم قوم کو ایسی بہت ساری خوشبو مرزاؤں کی ضرورت ہے ۔ اگر اس ملک کے مسلمانوں کی بیٹیاں خوشبو مرزا جیسی بن جائیں تو پھر کس کی ہمت ہے کہ انہیں نظرانداز کرسکے ۔ کوئی یوگی بھی اور کوئی مودی بھی ، انہیں ان کے جائز مقام سے بیدخل نہیں کرسکتا ۔ ہاں بیدخل کرنے کی کوشش وہ کرسکتا ہے، اور اس کوشش کے دوران وہ اُسے یا انہیں، جو جائز مقام کی حقدار ہے یاہیں ، پر یشانیوں میں مبتلا کرسکتا اور اس کے یا ان کے سامنے ڈھیروں اڑچنیں کھڑی کرسکتا ہے ۔ لیکن اس کے بعد بھی حقدار کو اس کے حق سے محروم کرنا آسان نہیں ہے۔ نہ سہی ’ اسرو‘ کوئی اور اعلیٰ ادارہ سہی ، سائنسی معاملات کی کوئی بڑی انڈسٹری یا کمپنی سہی ، اسے اس کا مقام تو ملے گا۔
بات لداخ کی شاہین پروین کی بھی کی جاسکتی ہے جو اپنے خطے کی ، آئی آئی ٹی جے ای ای میں کامیابی حاصل کرکے انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی ، جودھپور میں اپنی سیٹ پکی کراچکی ہیں۔ 2020 میں ملک بھر میں NEET میں اوّل آنے والے اڑیسہ کے شعیب اقبال کی بات بھی کی جاسکتی ہے ۔ پتہ ہے شعیب نے صدفیصد نمبرات حاصل کیے تھے ! بہت ساری ایسی کہانیاں ہیں ، سچ کہانیاں ، عام مسلمانوں ، مزدوری کرنے اور پھیری لگانے والے مسلمانوں ، آٹورکشہ اور ٹیکسیاں چلانے والے مسلمانوں کے بچوں کی ، جنہوں نے تعلیم کے حصول پر ساری توجہ مرکوز کردی اور مسابقتی امتحانات میں اوّل پوزیشن لاکر اپنا ، اپنے والدین کا ، مسلم قوم کا اور ملک کا نام روشن کیا ۔ مانا کہ ان کی تعداد مٹھی بھر ہے ، یہ بھی مانا کہ یہ عام مسلمانوں کی ’تقدیریں‘ بدلنے میں کوئی بہت اہم کردار ادا نہیں کرسکتے ، لیکن یہ اپنی تعلیم سے برادرانِ وطن کے اس ’ مائنڈ سیٹ‘ کو تبدیل کرنے میں ، جو یوگی، مودی اور شاہ نے بنادیا ہے یا بنارہے ہیں ، اپنا کردار ضرور ادا کرسکتے ہیں ۔ لیکن اس کے لیے سخت محنت کی ضرورت ہے ، مسلم قوم کو خود اپنے ’ مائنڈ سیٹ‘ کو بدلنے کی ضرورت ہے ، تعلیم کے حصول کو لازمی قرار دینے کی ضرورت ہے ۔ اور پھر اقتدار میں ساجھیداری کے لیے ہاتھ پیر مارنے، اور اس کے لیے ایک سیاسی قوت بننے کی ضرورت ہے ۔ تعلیم اور تعلیم کی راہ سے اقتدار میں ساجھیداری ہی مسلمانوں کے لیے اس ملک میں آگے بڑھنے اور ترقی سے سراٹھاکر زندگی گذارنے کا ایک واحد راستہ ہے ۔
تعلیم کے حصول پر توجہ نہ دی گئی تو پھر بات یوگی کی ہی ہوگی۔
حالانکہ اس وقت سارے ملک میں کورونا کی آفت ہے ، لیکن اس آفت میں بھی کئی ریاستیں ایسی ہیں جہاں سیاسی ہلچل مچی ہوئی ہے ۔ پنجاب میں کانگریس حکومت کے وزیراعلیٰ کیپٹن امریندر سنگھ اعلیٰ کمان کے نشانے پر ہیں ۔ یہ کانگریس اعلیٰ کمان کیا چیز ہے،آج تک یہ بات سمجھ میں نہیں آسکی ہے ! اب یہ دیکھ لیں کہ کیپٹن امریندر سنگھ نے پنجاب کوکانگریس کی جھولی میں ڈالا لیکن چند ایسے کانگریسیوں کی بدولت جن کا پنجاب کے الیکشن میں کوئی اہم یا مثبت کردار نہیں تھا ، آج اعلیٰ کمان کے نشانے پر ہیں ۔ پنجاب میں چھ مہینے بعد اسمبلی الیکشن ہونا ہیں اور کانگریس انتشار کی شکار ہے ۔ ظاہر ہے کہ بی جے پی کے خیمے میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہوگی ۔ امریندر سنگھ نے کھل کر ، صاف لفظوں میں پارٹی میں اتحاد کی بات کی ہے ، لیکن کانگریس اعلیٰ کمان کی کمان ہمیشہ ٹیڑھی ہی رہی ہے اس لیے پنجاب کا اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا کچھ کہا نہیں جاسکتا ۔ مثال بھوپیندر سنگھ ہڈا کی لے لیں ، جو کانگریس کو ہریانہ جتوا سکتے تھے ،مگر اعلیٰ کمان کا ہڈا کے ساتھ رویّہ سب ہی نے دیکھا کہ کس قدر غیردانشمندانہ تھا۔ لگتا ہے کہ جس طرح مسلمانوں کے لیے لازمی ہے کہ وہ ترقی اور اقتدار میں ساجھیداری کے لیے تعلیم پر اور خود کو ایک سیاسی قوت بنانے پر توجہ دیں ، اسی طرح کانگریس اعلیٰ کمان کو بھی سیاست کی الف ب پھر سے دوہرانا چاہیئے ۔
پنجاب کے وزیراعلیٰ کے مقابلے یوپی کے وزیراعلیٰ کا معاملہ لے لیں ، جی ہاں بات پھر یوگی کی آگئی ۔ اور اب بات یوگی کی ہی ہوگی کیونکہ یوگی نے جو زہر بویا ہے اس کے نتائج سامنے آنے لگے ہیں ۔ تو جس طرح کیپٹن امریندر سنگھ نشانے پر آئے ہیں اسی طرح یوگی آدتیہ ناتھ بھی بی جے پی اعلیٰ کمان کے ، اور اس اعلیٰ کمان کی لگام اپنے ہاتھ میں رکھنے والےآر ایس ایس کے نشانے پر آئے تھے ۔ لیکن کیا ہوا ؟ بی جے پی اور آر ایس ایس دونوں ہی نے یوپی کی ذمے داری مکمل طور پر یوگی کو سونپ دی کہ آنے والے اسمبلی الیکشن میں وہ جو بہتر سمجھیں وہ کریں ۔ یوگی کووڈ 19 کے دوران انتظامی لاپروائی کو لے کرنشانے پر تھے ، عوام میں سخت ناراضگی تھی اور ہنوز ہے ، لیکن بی جے پی اور آر ایس ایس کا یہ ماننا ہیکہ الیکشن آتے آتے لوگ یوگی سرکار کی انتظامی لاپروائی کو فراموش کردیں گے اور یوگی کی قیادت میں ایک بار پھر یوپی پر بی جے پی کا بھگوا پھریرا لہرائے گا ۔ بی جے پی اور سنگھ کے ذمے داران کے سامنے یہ حقیقت خوب عیاں ہے کہ یوگی نے بیرون ریاست جِن جِن صوبوں میں انتخابی ریلیوں میں شرکت کرکے زہریلی تقریریں کی ہیں وہاں وہاں بی جے پی کو ، کم از کم یوگی جِن حلقوں میں گئے وہاں ،ہزیمت اٹھانی پڑی ہے ، لیکن بی جے پی کی اعلیٰ قیادت کے سامنے سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ اگر یوگی نہیں تو کون ؟ یوپی میں بی جے پی اور سنگھ پریوار کو یوگی کا کوئی متبادل نظر نہیں آرہا ہے ، لہٰذا یوگی کا وزیراعلیٰ کی کرسی سے ہٹنا یا ہٹایا جانا ممکن نہیں لگتا ۔یوپی کا یہ الیکشن بی جے پی کو یوگی ہی کی قیادت میں لڑنا ہوگا ۔ کم از کم آج کے حالات میں یوگی سے بہتر بی جے پی کے لیے یوپی میں کوئی اور نہیں ہے ، باوجود اس کے کہ اِن دنوں یوگی اور مودی میں ’ بن نہیں رہی ہے ‘ ۔ کہا جاتا ہے کہ گجرات کیڈر کے آئی اے ایس افسر ، اروند کمار شرما کو ، جو یوپی کونسل میں ایم ایل سی ہیں ، وزیراعظم نریندر مودی چاہتے تھے ، یوگی کابینہ میں اہم ذمے داری دی جائے ، کم از کم نائب وزیراعلیٰ بنایا جائے۔ یوگی اس کے لیے تیار نہیں ہوئے ، اور دونوں کے درمیان شدید کشیدگی پیدا ہوگئی جوآج بھی برقرار ہے۔ یوگی خود کو ’ ہندوتوا کا مشعلچی‘ سمجھتے ہیں ، اور اس کی وجوہ ہیں ، انہوں نے یوپی میں مسجدیں شہید کروائی ہیں ، اور اب تو یہ کیا ہے کہ بارہ بنکی کی شہید مسجد غریب نواز کی زمین پر ایک پارک کا سنگ بنیاد رکھوادیا ہے ۔ واضح رہے کہ کورونا سے متاثر یوپی میں کوئی اسپتال نہیں بنوایا جارہا ہے مگر مسجدوں کی زمین پر ، ایودھیا میں رام مندر اور بارہ بنکی میں پارک بن رہا ہے ۔ یہ یوگی کا ’ ہندوتوا‘ ہے اور اسے وہ یوپی اسمبلی پر پھر سے بھگوا پھریرا لہرانے کا ذریعہ مانتے ہیں ۔۔۔ بات صرف مسجدوں کی شہادت کی ہی نہیں ہے ، اب تو وہ مسلمانوں کے ان گھروں کو جو سوسوسال سے بھی زیادہ قدیم ہیں اجاڑنے پر کمربستہ ہوگئے ہیں ۔ گورکھپور میں گورکھ ناتھ مندر کے اطراف بسے ہوئے مسلمانوں کو ان کی سرکار نے گھر خالی کرنے کے نوٹس دے دیئے ہیں ۔ دعویٰ ہے کہ اِن مسلمانوں سے گورکھ ناتھ مندر کو خطرہ ہے اس لیے ان کا ہٹایا جانا ضروری ہے ۔ اس سے پہلے سی اے اے مخالف تحریک کے دوران وہ مسلمانوں کی املاک کو ہتھیا چکے ہیں ۔ بہت سارے مسلم سیاست دانوں کو غنڈہ ایکٹ کے تحت سلاخوں کے پیچھے کروا کر ان کے مکانوں پر بل ڈوزر چلوا چکے ہیں ۔۔۔ اور یہ ان کی ہی سرکار ہے جو یوپی کے ان اضلاع اور مقامات کو ، جن کے ناموںسے تھوڑا بھی ’ مسلمانیت‘ جھلکتی تھی خالص ’ سنسکرت نام‘ دے چکی ہے ، ان کی حکومت میں ہی وارانسی کی گیان واپی مسجد اور متھرا کی شاہی عیدگاہ ومسجد کی جگہ منادر بنانے کی تحریک تیزہوئی ہے ۔۔۔ ماب لنچنگ کے واقعات ہورہے ہیں ۔ پولس نے سبزی فروش شاکر کو ہلاک کیا ہے ، بلند شہر کے ایک گوشت فروش محمد عقیل قریشی کو جان سے مارنے کا پولس پر الزام ہے ۔۔۔ تو یوگی کی ’زہریلی نیّا‘ پوری رفتار سے رواں دواں ہے ۔ ممکن ہے کہ مودی انہیں اپنے لیے خطرہ سمجھتے ہوں ۔۔۔ لیکن مودی نے تو ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر کا معرکہ سر کیا ہے ، طلاقِ ثلاثہ پر پابندی لگوائی ہے ، سی اے اے کا نفاذ کرایا ہے ، جموں وکشمیر میں آرٹیکل 370 کا خاتمہ کروایا ہے تو وہ تو یوگی سے بڑے ’ ہندوہردیئے سمراٹ‘ ہوئے ، انہیں کیا ڈر اور کاہے کا ڈر؟ مگر ڈر ہے ۔۔۔خیر یہ تو ان کا آپس کا معاملہ ہے مگرجب بات مسلم اقلیت کی آتی ہے تو دونوں ہی کا رویہ گھناونا ہوجاتا ہے ۔۔۔ پہلے بھی یہ کہہ چکا ہوں پھر کہہ رہا ہوں کہ حالات بہت اچھے نہیں ہیں ، یوپی اسمبلی الیکشن سے قبل یوگی راج میں کچھ بھی ہوسکتا ہے ، بدترین فسادات اور سرکاری طور پر مسلمانوں کو اجاڑنے اور ان کی قیادت کو ختم کرنے کی گھناونی سازشیں ، منصوبے وغیرہ ۔۔۔ لہٰذا ، احتیاط ضروری ہے ۔ تشدد کا جواب تشدد سے دینا ممکن نہیں ہے ، نہ فرقہ پرستی کا جواب فرقہ پرستی ہے ۔ مسلمانوں کو ترقی اور اقتدار میں ساجھیداری کے لیےخود کو سیاسی قوت بنانا ہوگا ، اور خوشبو مرزا اور شعیب اقبال کے راستے پر چلنا ہوگا ، تعلیم کا حصول سب کے لیے بے حد ضروری ہے ۔