پٹرولیم قیمتوں میں اضافے کے خلاف اپوزیشن کا ہنگامہ،پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کی کارروائی ملتوی

نئی دہلی:مختلف پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف کانگریس کے زیرقیادت حزب اختلاف کی ہنگامہ آرائی کی وجہ سے منگل کے روز پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں ہنگامہ ہوااور نون سازی کا کوئی کام نہیں ہوسکا۔ ہنگامہ آرائی کی وجہ سے لوک سبھا اور راجیہ سبھا کوپورے دن کے لیے ملتوی کردیا گیا۔منگل کے روز دونوں ایوانوں کی کارروائی تقریباََ ایک سال کے بعداپنے معمول کے مطابق صبح 11 بجے شروع ہوئی اور دونوں ایوانوں کے ممبران اپنے اپنے ہالوں اور گیلریوں میں بیٹھ گئے۔ کام کے اوقات اور ممبروں کے بیٹھنے کے انتظامات میں تبدیلی کے باوجود ، دونوں ایوانوں میں وہی نظارہ دیکھا گیا جو کل دکھایا گیا تھا۔کانگریس قائدین نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا مطالبہ کرتے ہوئے اسے 2013-14 کی سطح تک لانے کی تجویز پیش کی۔لوک سبھا میں کانگریس کے ممبران اس نشست سے پہلے پٹرولیم مصنوعات میں اضافے کے خلاف نعرے بازی کرتے ہوئے آئے تھے۔اس دوران ڈی ایم کے ، این سی پی اور کچھ دوسری اپوزیشن جماعتوں کے ممبران اپنی جگہ سے احتجاج درج کر رہے تھے۔ہنگامہ آرائی کی وجہ سے وقفہ سوال کی کارروائی میں خلل پڑا اور وقفہ صفربھی عام طور پر نہیں چلا۔لوک سبھا کی کارروائی کے آغاز کے موقع پر کانگریس کے رہنما ادھیر رنجن چودھری نے الزام لگایاہے کہ ٹی وی کیمرے حزب اختلاف کے ممبروں کی طرف فوکس نہیں ہیں اور انہیںبلیک آوٹ کیاجارہا ہے۔انہوں نے کہاہے کہ ایوان میں سب کومساوی حقوق حاصل ہیں لیکن اپوزیشن کے ساتھ ڈیجیٹل امتیاز جاری ہے۔چودھری نے الزام لگایا کہ حکمران جماعت جوکچھ بھی کہتی ہے وہ ٹی وی پر آتی ہے ، لیکن حزب اختلاف کو ’بلیک آئوٹ‘ کردیا جاتا ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ کیمرے کوہرچیز پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔اس پر لوک سبھا اسپیکر اوم برلانے سوال کیاہے کہ کیاآپ ملک کے لوگوں کویہ شوراورہنگامہ دکھانا چاہتے ہیں؟پارلیمانی امور کے وزیر پرہلاد جوشی نے کہاہے کہ یہ (کانگریس کے کچھ ممبر)رکاوٹ پیداکرتے ہیں ، ہنگامہ برپا کرتے ہیں۔کیا یہ لوگ (کانگریس) ٹی وی کے ذریعے قوم کو ہنگامہ دکھانا چاہتے ہیں؟