یوسف خان عرف دلیپ کمار کی زندگی کے کچھ حقائق ـ سمیع اللہ خان

یوسف خان گرچہ پیشہ ورانہ طورپر ایک فلمی اداکار تھے لیکن وہ آج کے اداکاروں کی طرح نہیں تھے ـ وہ اداکار ہونے کےباوجود اپنے دین اور اپنی ملت کے تئیں حساس رہتےتھے، اور اس حساسیت کو وہ چھپاتے نہیں تھے بلکہ جابجا اس کا اظہار کرتے رہتےتھے، انہوں نے آج کے بظاہر مسلم۔نام والے فلمی اداکاروں کی طرح کبھی بھی اپنا کیرئیر چمکانے کے لیے اپنے دین و مذہب کو برا بھلا نہیں کہا بلکہ ہمیشہ دین اسلام سے وابستگی اور قومی طورپر ملتِ اسلام سے تعلق کو عملاً ثابت کرتے رہے ۔

فلمی دنیا میں جانے والے اکثر اداکار دو۔چار چھوٹی موٹی فلمیں بناکر الحاد اور مذہب بیزاری کے پرچارک بن جاتے ہیں، ملحدین کا دین کےخلاف بڑا فریبی نعرہ ہوتاہے، انسان کو مذہب کی ضرورت نہیں ہے، آدمی انسانیت سے ہے اور انسانیت سب سے بڑا دھرم ہت لیکن یوسف خان سے جب مذہب کےمتعلق پوچھا گیا تو انہوں نے ایسی ملحدانہ تعبیر پر کاری ضرب لگاتے ہوئے جواب دیا:
"مذہب آدمیت کے لیے بہت ضروری ہے، مذہب ہی آدمی کو مکمل انسان بناتاہے ” ماہنامہ گلفام، اشاعت ۱۹۸۲
ایک معروف اور مقبول عوامی اداکار کی جانب سے مذہب کےمتعلق یہ نظریاتی کلام، ملحدین کے جوش و خروش پر پانی پھیر گیا۔

دلیپ کمار کو اپنی ملت سے بہت پیار تھا، وہ مسلمانوں کے مسائل اور ان کی تکلیف پر تماشائی بن کر نہیں رہ پاتےتھےـ
جب بابری مسجد کو شہید کیا گیا تو وہ بھی تڑپ اٹھے، انہوں نے اپنے کیرئیر اور شہرت کا خیال نہیں کیا بلکہ اس کےبعد انہوں نے مسلمانوں کو اپنے حقوق کے لیے اٹھنے کی ترغیب دلائی، اس کےبعد انہوں نے اُس وقت کی جو بھی سَنگھ مخالف سیاسی دھارا تھی اسے اپنا اخلاقی سپورٹ بھی دیاـ
اس کے علاوه بابری مسجد مقدمے میں جب مسلمانوں کے وکلاء کو دلیپ کمار کی ضرورت پڑی تو انہوں نے بابری مسجد مقدمے کے اہم وکیل ظفریاب جیلانی کو بھی اس معاملے میں ملاقات کا وقت دیا ۔

دلیپ کمار نے ۱۹۹۲ کی بوسنیا جنگ کے دوران مظلوم بوسنیائی مسلمانوں کے مالی تعاون کے لیے سامنے آکر مہم چلائی ـ انہوں نے جس طرح بوسنیائی مسلمانوں کی تکلیف کو محسوس کیا اور اخوّت کا مظاہرہ کیا اور ان کے لیے امداد پہنچائی وہ آج کے مسلمانوں کے لیے سبق ہے۔
حوالہ: https://www.latimes.com/archives/la-xpm-1995-10-22-me-60013-story.html

جب ۱۹۹۳ میں خونچکاں فسادات ہوئے تب دلیپ کمار نے بلاکسی تردد کے، مسلمانوں کی مدد کی، یہاں تک کہ بامبے فسادات کے دور میں انہوں نے اپنے لگژری پیلیس کو فساد متاثرین کی راحت رسانی کے کاموں کے لیے کھول دیا، جس کےبعد انہیں شدت پسندوں نے نشانہ بنایا اور جان سے مارنے کی دھمکیاں دی جانے لگیں ـ
دلیپ کمار کو جب پاکستان کی طرف سے ” نشانِ امتیاز ” ایوارڈ دیا گیا تو شیوسینا چیف بال ٹھاکرے نے ان کی مخالفت کی، ان پر پاکستان کا ایوارڈ واپسی کا دباؤ بنایا، لیکن دلیپ کمار نے، بال ٹھاکرے کا دباؤ قبول نہیں کیا، اور ٹھاکرے کا مطالبہ تسلیم سے کرنے سے انکار کردیاـ جاننے والے جانتے ہوں گے کہ، اُس زمانے میں بال ٹھاکرے کا کیا اثر تھا اور کسی اداکار کا بال ٹھاکرے کی بات مسترد کرنا کتنا خطرناک تصور کیا جاتاتھا ۔
ریفرنس: https://www.freepressjournal.in/entertainment/bollywood/when-shiv-sena-chief-bal-thackeray-wanted-dilip-kumar-to-return-nishan-e-imtiaz-pakistans-highest-civilian-award

دلیپ کمار کو ہالی ووڈ کی طرف سے ایک ایسی فلم کی پیشکش ہوئی جس میں انہیں خلافتِ عثمانیہ کےخلاف جاسوسی کرنے والے کا کردار ادا کرنا تھا اور یہ فلم سلطنت عثمانیہ کےخلاف مشتمل تھی، دلیپ کمار عرف یوسف خان نے معذرت کرلی اور ہالی ووڈ کی پیشکش کو قبول نہیں کیا۔

Dilip Kumar Was Once Offered To Star In A Big-Budget Hollywood Film But He Declined It Giving The Most Sensible Reason!

دلیپ کمار مجاہدِ آزادی بھی تھے اور برٹش سامراج کے خلاف تقریر کرنے کی پاداش میں انہیں گرفتار کیا گیا تھا وہ یروداجیل میں قید کیے گئے تھے ـ
تفصیل کے لیے دیکھیں کتاب:
Dilip Kumar: The Substance and Shadow’.

دلیپ کمار علم دوست انسان تھے۔ اردو زبان پر ان کی دسترس بڑی شاندار تھی ـ مسلمانوں کی تعلیم و ترقی کے خواہاں تھے، انہوں نے مسلمانوں میں تعلیمی بیداری کے لیے باقاعدہ ذاتی طورپر کوششیں بھی کی ـ

دلیپ کمار کو اپنے مذہب سے وابستگی تھی، قرآن اور اسلامی تعلیمات میں یقین رکھتے تھے، اور بار بار واضح کرتےتھے کہ وہ کلمہ گو ہیں اور قرآن پر ایمان رکھتے ہیں، اللہ سے ڈرتے ہیں اور نبی سے محبت بھی رتے ہیں ـ انہیں بیشمار لوگوں نے، کعبۃ الله اور مسجد نبوی میں اللہ کے حضور آہ و زاری کرتے پایا ـ انہوں نے بالی ووڈ سے علیحدہ ہونے کےبعد اپنی آخری زندگی، قرآن کی تلاوت، عبادت، خیرات و صدقات اور نماز و اذکار میں گزاری ۔

دلیپ کمار شہرت کی جن بلندیوں پر فائز تھے اس کا ادنیٰ ترین حصہ بھی آج کسی کو مل جائے تو اس میں بڑے امراض در آتے ہیں، لیکن یوسف خان اپنی تمام ناموری کےباوجود اپنے دین اور ملت کے حق میں جسطرح کھل کر اظہار کرتے تھے، وہ بتاتا ہےکہ انہیں لومۃ لائم اور دیگر اہلِ کفر کی رضا و خوشنودی کی کبھی پرواہ نہیں رہی، جوکہ آج کل کمیاب ہےـ

دراصل لوگوں میں پڑھنے اور معلومات کی جستجو کم ہوگئی ہے آجکل اپنے چار لوگوں میں بیٹھ کر لوگ اپنی رائے کسی بھی معاملے اور شخص کے متعلق بنالیتے ہیں، جبکہ حقیقت اور دستاویزی معلومات اس کےبرعکس ہوتی ہیں ۔
اللہ سے دعا ہےکہ یوسف صاحب کی مغفرت فرمائے انہیں جنت الفردوس میں داخل فرمائے، ان کی خطاؤں کو معاف فرمائےـ