بہار پنچایت الیکشن میں عوام کی ذمے داری۔ محمد اللہ قیصر

بہار میں پنچایت الیکشن ہونے والے ہیں، امیدوار اپنی کوششوں میں مصروف ہیں، جوڑ توڑ، روٹھنا منانا جاری ہے، دھمکی اور اظہار ناراضگی کا سلسلہ بھی خوب زوروں پر ہے۔ اس میں سب سے بڑی ذمے داری عوام کی ہے، وہ کس کا انتخاب کرتے ہیں، یہ اہم ہے، انتخاب کے لئے ان کے نزدیک معیار کیا ہے، رشتے داری، آپسی تعلق، کسی کی سماجی قوت ، یا اس کی سماجی فکرمندی، اور سماج کے پسماندہ طبقہ سے ہمدردی معیار ہے۔ جی ہاں ایک بڑی تعداد ہے جو خوف کے سایے میں ووٹ کرتی ہے، کہ اگر اس نے متعین شخص کو ووٹ نہیں دیا تو شاید اسے کسی زیادتی کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے، اسے ڈر ستاتا ہے کہ اگر اس نے مخالفت کی تو شرپسندی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

امیدوار کا انتخاب عوام کی بیداری، ان کے پختہ شعور، ترقی پسند ذہنیت، سماج کے تئیں فکر مندی اور تعمیری سوچ کی نشان دہی کرتا ہے، جس سماج کے لوگ بے خوف اور بیدار مغز ہوتے ہیں وہ اپنی نمائندگی کے لئے کسی جاہل، گنوار اور سماج میں ابتری پھیلانے والے کا انتخاب نہیں کر سکتے، وہ ہمیشہ چھوٹے سے چھوٹے عہدہ کے لئے امیدوار کی سنجید گی، لیاقت و صلاحیت اور اور اس کی اہلیت پر بھرپور توجہ دیتے ہیں، وہ دیکھتے ہیں کہ کون سماج کے لئے مفید ہے، کون ہے جو امیر غریب، طاقت ور اور کم زور کے ساتھ یکساں سلوک کرتا ہے، کون ہے جو باہمی احترام پر یقین رکھتا ہے، ان کی خاص توجہ رہتی ہے کہ گاؤں محلہ یا علاقہ میں شر و فساد تو نہیں پھیلاتا، بیدار اور باشعور طبقہ کبھی نہیں چاہتا کہ اس کی نمائندگی کسی ایسے شخص کے ہاتھوں میں جائے جو سماج کوتتر بتر کرنے اور منتشر رکھنے کو اپنی کامیابی سمجھتا ہو، جو دوسروں کی تنزلی کو اپنی ترقی اور ان کی ترقی کو اپنی تنزلی سمجھتا ہو، جس کا یقین ہو کہ جب تک سماج منتشر رہے گا، اسے کامیابی ملتی رہے گی۔
چونکہ بعض لوگ ہوتے ہیں جنہیں وارڈ ممبر جیسا چھوٹا عہدہ بھی ہضم نہیں ہوتا، ایسے لوگوں کی خاصیت ہوتی ہے کہ ذرا سی قوت ہاتھ لگ جائے تو ان کے سروں پر ظلم و زیادتی کا بھوت سوار ہوجاتا ہے، وہ خود کو "احساس برتری” کے موذی مرض میں مبتلا کرلیتے ہیں اور اپنے ساتھ آس پڑوس اور پورے سماج میں انتشار کا سبب بنتے ہیں۔
ان کا علاج صرف عوام کے پاس ہے، وہ ایسے غنڈوں اور فسادیوں کی حوصلہ شکنی کریں گے، تو پورا سماج محفوظ رہے گا، ورنہ اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ میں محفوظ ہوں تو غلط زعم میں مبتلا ہے، کیوں کہ ظالم کی طبیعت بھیڑیے جیسی ہوتی ہے، ایک مرتبہ اس کے منہ کو انسانی خون لگ جائے تو وہ آدم خور بن جاتا ہے، اسی طرح ظالم کے سامنے اگر سماج کا ایک فرد جھک جائے تو پھر وہ پورے سماج کو اپنے سامنے سجدہ ریز ہونے پر مجبور کرنے کی کوشش میں لگ جاتا ہے۔
ایسے شرپسند درحقیقت بڑے کمزور اور بزدل ہوتے ہیں، ان کی مخالفت اگر کھل کر ہو تو ان میں اتنی ہمت نہیں ہوتی کہ وہ کسی پر زیادتی کرسکیں، ظلم و زیادتی کا خوگر کبھی مقابلے کی ہمت نہیں کرتا، وہ تبھی آنکھ دکھاتا ہے جب آپ کمزوری کا اظہار کرتے ہیں، اس کی میٹھی باتوں سے کبھی کبھی احساس ہوتا ہے کہ شاید سدھر گیا ہے لیکن ماں کی گود سے ظلم کا سبق حاصل کرنے والے کبھی سدھرتے کہاں ہیں، جس طرح سانپ کبھی ڈسنے سے باز نہیں آتا، اسی طرح تکبر کے مرض میں مبتلا، احساس برتری کی بیماری سے جوجھنے والا، سماج کے دوسرے افراد کو اپنی رعیت سمجھنے والا کبھی اس گندگی سے باہر نہیں نکلتا، ظلم افیم اور بھنگ کے نشے کی طرح ہوتا ہے، جس کو لت پڑ جائے وہ زندگی بھر نہیں چھوڑتا، نہ لینے کی صورت میں جسم پر لرزہ طاری ہوجاتا ہے اور روح بے چین ہوجاتی ہے، سکون کے لئے اسے یہ جانتے ہوئے لینا پڑتا ہے کہ نشہ انتہائی مضر ہے، اسی طرح ظالم اور شر پسند بھی جانتا ہے کہ یہ عمل اس کی نسل تک کو تباہ کر سکتی ہے پھر بھی ظلم کرتا ہے کیوں کہ اس کو ظلم سے وقتی طور پر ایک ذہنی سکون ملتا ہے، چناں چہ وہ اسے کبھی نہیں چھوڑتا۔
اس لیے عام ووٹرز کو چاہیے کہ غنڈہ گردی کا مزاج رکھنے والے کسی فرد کو برداشت نہ کریں، اپنی بر تری کے احساس میں مگن ہر فرد کی حوصلہ شکنی ہونی چاہیے، ورنہ سماج بدترین انتشار کا شکار رہے گا اور اس کے گناہ گار ووٹرز بھی ہوں گے۔