پدرم سلطان بود-مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی

نائب ناظم امارت شرعیہ بہار اڈیشہ و جھار کھنڈ
دنیا کی تاریخ اور ملکوں کی عظمت رفتہ کا مطالعہ ہمیں بتاتا ہے کہ عروج وزوال کے اسباب و علل میں ایک بڑی چیز”پدرم سلطان بود”کا وہ تصور ہے، جس نے ہمیں مستقبل سے بے نیاز ہوکر ماضی میں جینا سکھایا، اپنے آباؤ اجداد کے قصر عالی کے سہارے ہم اپنی زندگی گذارنے میں مگن رہے اور دشمن و مخالفین اپنا کام کرگذرے، آج جو ممالک ترقی یافتہ ہیں اور جن کی طاقت سے دنیا خائف ہے، ان میں سے کوئی بھی حکمراں پدرم سلطان بود کے قبیل کا نہیں ہے، اس حقیقت کا وہ اس قدر ادراک و شعور رکھتے تھے کہ فسطائی طاقتوں کے علم بردار اور آمریت کے نشے سے سرشار کسی حکمراں نے بھی ملک کی حاکمیت اپنےلڑکوں کے سپرد نہیں کیا، امریکہ،فرانس، روس، جرمنی جیسے ممالک میں ہر کوئی اپنی طاقت و قوت کے بل بوتے پر آگے بڑھتا ہے، کوئی پدرم سلطان بود کا دم نہیں بھرتا اور اسے حکمرانی کی مسند تک پہونچنے کے لیے بیساکھی نہیں بناتا، گو برطانیہ اور دوسرےچوالیس ملکوں میں شہنشاہیت کہیں بطور رسم و روایت اور کہیں حقیقتا آج بھی چلی آرہی ہے، بطور رسم اس لیے کہ اس کی حیثیت برطانیہ جیسے ملکوں میں ایک محکمہ کی ہے، منتخب حکومت جس طرح دوسرے محکموں کا بجٹ پارلیمنٹ سے منظور کراتی ہے، ویسے ہی شہنشاہیت کے اخراجات بھی پارلیمنٹ سے منظور ہوتے ہیں یہ الگ قسم کی شہنشاہیت ہے اسے دیگر ملکوں کی شہنشاہیت پر قیاس نہیں کرنا چاہیے، مسلم اور عرب ملکوں کے بادشاہ اپنے ملک کے مالک سمجھے جاتے ہیں، اس ملکیت کی منتقلی کے لئے ولی عہد بناتے ہیں، اور بادشاہ کے انتقال کے بعد وہ پدرم سلطان بود کی بنیاد پر حکمرانی پر قابض ہوجاتا ہے، ایسے حکمراں اپنے تخت شاہی کی حفاظت کے لیے ملکی مفادات کا سودا کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے اور وہ سب کچھ کر گذرتے ہیں جو اپنے تخت کی سلامتی کے لیے ناگزیر سمجھتے ہیں، ملکیت کی اس قسم میں دوسرے حکمرانوں کا قتل اور جیل کی سلاخوں میں پابند سلاسل کرنا اور رکھنا کوئی تعجب خیز بات نہیں سمجھی جاتی، ان بادشاہوں کے جو ولی عہد ہوتے ہیں، ان کی تعلیم وتربیت مغربی ممالک میں ہوتی ہے، وہ ان کے افکار و خیالات سے اس قدر متأثر ہوجاتے ہیں کہ اپنے مورث کے قتل تک سے باز نہیں آتے، مثال کے طور پر سعودی عرب کے فرماں روا شاہ فیصل کو ان کے بھتیجے نے گولی مار دی تھی، یہ بھتیجا مغربی ممالک کا ہی ساِختہ پرداختہ تھا، موجودہ ولی عہد محمد بن سلمان بھی”پدرم سلطان بود”کے فارمولے پر آئندہ بادشاہ بننے والے ہیں، اور جو حشر انہوں نے سعودی عرب کی تہذیب وثقافت اور مذہبی اقدار کا کیا ہے، اس سے پوری دنیا واقف ہے، فلسطین کے کاز کو نقصان پہونچانے کے لیے اسرائیل سے سمجھوتہ کی جو ریس عرب ممالک میں چلی وہ اسی تخت شاہی کی حفاظت کے لیے تھی، جس سے فلسطین کاز کو کس قدر نقصان پہونچا اور کس طرح فلسطین اور غزہ کو تباہ و بربادکیا گیا، ہر آدمی اس سے واقف ہے۔
ہندوستان کی تاریخ کا مطالعہ کریں تو مغلیہ سلطنت کے زوال کے اسباب میں بڑی وجہ پدرم سلطان بود ہی رہی، محمد شاہ رنگیلے جیسوں کی تخت نشینی نے مغلیہ سلطنت کے تابوت میں آخری کیل ٹھونک دی، اور جب زوال کی ڈھلائ پر حکومت کی گاڑی آجاتی ہے تو دوسرے لوگ بھی اسے سنبھال نہیں پاتے ہیں، یقیناً محمد شاہ رنگیلے کے بعد بعض اچھے حکمراں بھی سامنے آئے؛لیکن گاڑی ڈھلان پر جاچکی تھی، اس لیے اس کو سنبھالنا ممکن نہیں ہوسکا۔
ہندوستان میں کانگریس پارٹی کے زوال کی بڑی وجہ بھی یہی رہی کہ جمہوری حکومت ہونے کے باوجود کانگریس نہروخاندان سے اپنے کو باہر نہیں نکال سکی، اندرا گاندھی کے بعد راجیو گاندھی اور پھر راہل و پرینکا و وڈرہ کی قیادت نے ایک مستحکم مضبوط پارٹی کو اس قدر کمزور کردیا کہ وہ سمٹتی چلی گئی اور بنگال جیسے صوبہ میں وہ صفر پر پہونچ گئی، آج صورت حال یہ ہوگئی ہے کہ کانگریس پارٹی کو صدر مل ہی نہیں رہا ہے، سونیا صدارت چھوڑتی ہیں تو راہل اور راہل صدارت چھوڑتے ہیں تو سونیا، اس طریقہ کار کی وجہ سے پرانے لوگ پارٹی چھوڑ کر جارہے ہیں اور کانگریس کو پدرم سلطان بود کا فارمولہ دیمک کی طرح کھوکھلا کرتا جارہا ہے۔
اگر بنگال میں پدرم سلطان بود کا فارمولہ چلتا تو ممتا بنرجی وہاں کی وزیر اعلی نہیں ہوتیں، یوپی میں ملائم سنگھ کی وراثت اکھلیش یادو کے ہاتھ آئی، اور پدرم سلطان بود کے فارمولے نے جو نقصان سماج وادی پارٹی اور خاندان کو پہونچایا اور اٹھا پٹک باپ، بیٹے،چچا ، بھتیجے میں ہوئی اس کے نقصانات سے کوئی انکار نہیں کرسکتا ہے۔تامل ناڈو میں جے للیتا تو بن بیاہی گذر گئیں ،لیکن
کروناندھی بن بیاہے نہیں تھے، ان کے صاحبزادہ اسٹالن نے پارٹی کی قیادت”پدرم سلطان بود کے اصول پر ہی سنبھالی،جے للیتا کے جانے کے بعد میدان خالی تھا تو اتفاق سے ان کی حکومت بھی بن گئی، چودھری چرن سنگھ، دیوی لال، مادھوراو سندھیا راجیش پائلٹ شیخ عبداللہ کے صاحبزادگان بھی”پدرم سلطان بود "کی پچ پر باؤلنگ کرتے رہے، کئی گذر گئے اور کئی زندہ رہ کر”دیکھو مجھے جو دیدۂ عبرت نگاہ "کی تصویر بنے بیٹھے ہیں، اور کچھ کو اب بھی وزارت کا انتظار ہے،
ہندوستان کے پڑوسی ملک پاکستان کا جائزہ لیں تو معلوم ہوگا کہ وہاں پوپلس پارٹی نے” پدرم سلطان بود” کی بنیاد پر کام آگے بڑھانا چاہا، ذوالفقار علی بھٹو کے بعد بے نظیر بھٹو، بلاول بھٹو؛شوہر اور باپ کی حیثیت سے آصف زرداری ،چنانچہ پارٹی کس قدر انحطاط کا شکار ہوکرحکومت سے باہر ہوئی۔
یہ کہنے کی ضرورت نہیں ہندوستان کی ایک اور خاندانی پارٹی لوک جن شکتی پارٹی (لوجپا )ہے، رام ولاس پاسوان کی زندگی میں اس پارٹی کے ممبران پارلیامنٹ اور اسمبلی زیادہ تر خاندان کے افراد ہوا کرتے تھے، رام ولاس پاسوان خود اور ان کے دو بھائی ایوان تک پہونچتے تھے، رام ولاس پاسوان دلتوں کے لیڈر سمجھے جاتے تھے اور اسی نام پر ان کو ووٹ ملا کرتا تھا ، پھر رام ولاس پاسوان نے اپنے آخری دور میں چراغ پاسوان کو کمان سونپ دی، ایک بھائی مر گئے،دوسرے قیا دت سے محروم ہوگئے، وراثت کی بنیاد پر بھتیجے کو بھی پارلیمنٹ پہونچا دیا گیا، چراغ پاسوان نے بہار میں نتیش کے خلاف محاذ کھولا اور چراغ کی لو نے لوجپا کی جھونپڑی کو خاکستر کرکے رکھدیا اور کہنا چاہیے کہ "اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے”، پھر ہوا یہ کہ رام ولاس پاسوان کے بھائی پشو پتی ناتھ پارس نے چراغ پاسوان کو چھوڑ کر پانچ ایم پی کو اپنی طرف کرلیا اور پارلیمنٹ میں اپنی پارٹی کے لیڈر چن لئیے گۓ ہیں، پارٹی کی صدارت پر بھی قبضہ جما لیا ہےخواہش مند ہیں کہ نریندر مودی کی وزارت میں توسیع کےوقت ان کو جگہ مل جائے۔ پدرم سلطان بود کی بنیاد پر لوجپا کی قیادت سنبھالنے والے چراغ پاسوان کا چراغ اس طرح بجھ جائے گا، کسی نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا، فلمی دنیا سے تو وہ ناکام لوٹے ہی تھے، اب سیاست کی بساط بھی ان کی سمٹتی نظر آرہی ہے۔
یہی حال ہندوستان کے نوابین اور زمین داروں کا ہوا، یہ بٹیریں اور باز لڑاتے رہے، اور نوابی خاک میں ملتی رہی، عیش و موج میں املاک بک گئیں، اور یہ مونچھ پر تاؤ دیتے رہے کہ ہم نواب خاندان سے ہیں، ہمارے آباء واجداد نے برسوں یہاں پر حکومت کی ہے، زمین داری کا خاتمہ ہونے کے باوجود ہندوستان میں اس خاندان کے لوگ زمین دارانہ ٹھسےکے ساتھ زندگی گذارتے رہے، نتیجہ یہ ہواکہ ان کی خاندانی وراثت لُٹ گئی، بِک گئی، نواب واجد علی شاہ کے خاندان کے لوگوں کی کہانیاں بھی کبھی کبھی اخبارات کی زینت بنتی ہیں اور ان کی مفلسی اور بے بسی کے احوال سن کر عبرت پیدا ہوتی ہے، بہادر شاہ ظفر کے دور قریب کے جو رشتہ دار اس دنیا میں ہیں، ان کے احوال بھی پریشان کن ہی ہیں، اس لیے خوب یاد رکھنا چاہیے کہ "پدرم سلطان بود” کا محاورہ اسی لیے رائج ہوا کہ یہ ناکامی، بربادی کی علامت کے طور پر سامنے آیا، علامہ اقبال کا یہ مصرعہ بے اختیار نوک قلم پر آگیا۔