پٹنہ میں اردو کارواں کی نشست

پٹنہ:اردو کارواں،اردو کی بقاء ، تحفظ اور فروغ کے لیے سر گرم عمل ہے اور اردو دوستوں میں مادری زبان اردو کے سلسلے میں بیداری پیدا کرنے کے لیے کوشاں ہے ، اس سلسلے میں آج اردو کارواں کے دفتر (امارت کیمپس ، پھلواری شریف پٹنہ) میں پروفیسر اعجاز علی ارشد (صدر اردو کارواں) کی صدارت میں ایک مشاورتی نشست ہوئی جس میں وزیر اعلیٰ اور وزیر تعلیم کو اردو کے مسائل کے سلسلے میں دی جانے والی عرضداشت کے مسودے پر غور کرکے اس کو آخری شکل دی گئی اور یہ فیصلہ کیا گیا کہ ہر ضلع سے ایک یا دو اردو کے بہی خواہوں اور ہمدردوں کو رکن بنایا جائے ا ور ضلع کے ساتھ اردوکارواں کو مضبوط بنایا جائے ، نشست میں ہر ضلع میں ’’اردو دستہ‘‘ کی تشکیل کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا ، اور اس کے لیے ایک حتمی فہرست بنا کر اردو کارواں تشکیل دینے کا فیصلہ کیا گیا، نشست میں اردو کارواں کے نائب صدر مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی (نائب ناظم امارت شرعیہ) اور مشتاق احمد نوری جنرل سکریٹری ڈاکٹر ریحان غنی اور سکریٹری ڈاکٹر انوار الہدیٰ بھی موجود تھے۔ واضح رہے کہ غلام سرور مرحوم اور پروفیسر عبد المغنی کے انتقال کے بعد جو ارد و تحریک کمزور ہو چکی تھی۔ امیر شریعت مفکر اسلام حضرت مولانا محمد ولی رحمانی صاحب کی سر پرستی میں اردو کارواں کے قیام کے ساتھ اب اس تحریک میں دوبارہ روح پھونکی گئی ہے اور نئی توانائی پیدا ہوئی ہے ۔ ان شاء اللہ اردو کارواں کے ذمہ دار اور ارکان اس تحریک کو زندہ اور سرگرم رکھنے کے لیے اپنی پوری توانائی لگا دیں گے ۔ کارواں کے نائب صدر اور امارت شرعیہ کے نائب ناظم مولانا مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی صاحب نے کہا کہ سرکار سے جو کام کروانے کے ہیں اس کے لیے اردو کارواں کے ذریعہ مضبوط مطالبات وزیرا علیٰ ، وزیر تعلیم اور متعلقہ وزارتوں کے سامنے رکھے جائیں گے ، لیکن ساتھ ہی ہم اردو والے بھی اپنی ذمہ داری نبھائیں ، اردو صرف ہماری زبان نہیں ؟بلکہ ہمارا تہذیبی ورثہ اور ہماری ملی و قومی شناخت ہے ، اس شناخت کو قائم رکھنے کے لیے ہمیں اپنے گھروں میں اردو کی آبیاری کرنی ہوگی ، اس کی جڑوں میں پانی دینا ہوگا ، صرف تنوں اور پتوں پر پھوار ڈال کر ہم اردو کی ترقی اور بقا کی امید نہیں کر سکتے ۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ اردو کارواں اور امارت شرعیہ کی ترغیب تعلیم اور ترقی اردو کی ریاست گیر تحریک کے ذریعہ ہم پورے صوبے میں اردو کی ایسی شمع روشن کرنے میں کامیاب ہوں گے جس کے اثرات پورے ملک میں محسوس کیے جائیں گے۔