بٹلہ ہاؤس انکاؤنٹر کیس پر ووٹ بینک کی سیاست کی گئی:روی شنکر پرساد

نئی دہلی:بٹلہ ہاؤس مبینہ انکاؤنٹر کیس میں پیر کے روز عدالتی فیصلے کے تناظر میں بی جے پی نے حزب اختلاف پر سوالات اٹھائے ہیں۔ منگل کو بی جے پی رہنما روی شنکر پرساد نے کانگریس پراس سلسلے میں حملہ کیاہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ اب جبکہ عارض خان کو سزا سنائی گئی ہے ، کیااس پر سونیا گاندھی آنسو بہا رہی ہیں یا نہیں؟خیال رہے کہ اس معاملہ میں عارض خان کو دفعہ 302 ، 307 اور اسلحہ ایکٹ کے تحت سزا سنائی گئی ہے، جب کہ سزا کا اعلان 15 مارچ کو کیا جائے گا۔خیال رہے کہ دہلی میں 2008 میں بٹلہ ہاؤس انکاؤنٹر کیس کے بعد عارض نیپال فرار ہوگیا تھا ، اسے 2018 میں نیپال سے گرفتار کیا گیا تھا۔مرکزی وزیر روی شنکر پرساد نے پریس کانفرنس میں کہا کہ ایسے ہی ایک واقعے کا کلوزر ملا ہے ، جو پچھلے 22 سالوں سے ملک کی سیاست کو متاثر کیا ہے۔ کانگریس اور دیگر جماعتیں بھی ملک کی سلامتی اور دہشت گردی کے معاملہ میں دہشت گردوں کی حمایت میں کھڑی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بٹلہ ہاؤس کیس میں عدالت نے پایا کہ یہ ہندوستان پر حملہ تھا۔ یہ ایک دہشت گردی کا واقعہ تھا۔ ملزم ا پنے بچاؤ کے لئے دہلی میں لوگوں سے مل رہا تھا، کئی جماعتوں کا مقصد پولیس کو کمزور کرنا اور ووٹ بینک کی سیاست کرنا تھا۔مرکزی وزیر کے مطابق عارض خان عرف جنید بٹلہ ہاؤس انکاؤنٹر کے علاوہ ، وہ 2007 میں لکھنؤ کورٹ بلاسٹ ، فیض آباد اور یوپی کے وارانسی دھماکوں میں بھی ملوث تھا۔2008 میں دہلی ، جے پور ، احمد آباد اور اتر پردیش عدالتوں میں مرکزی ماسٹر مائنڈ کا عارض خان تھا اور اسے 2018 میں نیپال سے گرفتار کیا گیا تھا۔پرساد نے مزید کہا کہ سماج وادی لیڈر امر سنگھ اور ترنمول کانگریس کی رہنما ممتا بنرجی نے جامعہ نگر میں اسٹیج شیئر کیا تھااور اس بٹلہ ہاؤس انکاؤنٹر کو جعلی قرار دیتے ہوئے عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کیا ، اور کہا کہ اگر وہ جھوٹی ثابت ہوئی تو وہ سیاست چھوڑ دیں گی۔مرکزی وزیر نے کہا کہ ممتا نبرجی کا اس پر کیا کہنا ہے ؟ کیا اس معاملے میں سلمان خورشید ، دگ وجے سنگھ کے متنازعہ بیانات سنے ہیں ،اب اس بارے میں دگ وجے سنگھ کا کیا کہنا ہے؟ مرکزی وزیر نے سوال کیا کہ کیا اب دگ وجے سنگھ ، سونیا گاندھی ، ممتا بنرجی یا سلمان خورشید جیسے رہنما اپنے بیانات پر معافی مانگیں گے۔خیال رہے کہ 13 ستمبر 2008 کو دہلی میں سیریل دھماکے ہوئے تھے ، جس میں 39 افراد ہلاک اور 159 افراد زخمی ہوئے۔ جس کے تار بٹلہ ہاؤس سے جوڑے گئے تھے، پھر انکاؤنٹر میں عاطف اور ساجد کا انکاؤنٹر کیا گیا تھا۔یہ انکاؤنٹر 19 ستمبر 2008 کو کیاگیا تھا۔