پستہ قد پہاڑ کی موت۔ ایم ودود ساجد

منگلیش ڈبرال عمر میں مجھ سے بڑے تھے۔ علم اور تجربہ میں اس سے بھی بڑے اور شرافت و خوش خلقی میں کئی گنا بڑے انسان تھے۔ میں نے ان کے ساتھ کام تو نہیں کیا لیکن وہ کچھ دنوں کیلئے جب سہارا کے ہندی ہفت روزہ "سہارا سمے” کے ادبی صفحات کے ایڈیٹر کے طور پر وابستہ ہوئے تو کھانے یا چائے کے وقفہ کے دوران ان سے گفتگو کا موقع ضرور ملتا تھا۔ این ڈی ٹی وی کے رویش کمار انہی کے شاگرد ہیں اور جن ستا کیلئے رویش کے پہلے مضمون کی نوک پلک انہوں نے ہی درست کی تھی۔
وہ بنیادی طور پر ہندی کے شاعر وادیب تھے۔ وہ فرقہ وارانہ منافرت کے خلاف شمشیر برہنہ تھے۔ شاید وہ ہندوستان کے واحد ہندی شاعر وصحافی ہیں جن کے کلام کا ترجمہ روسی’ جرمن’ ڈچ’ اسپینش’ پولش اور بلغارین کے علاوہ کئی غیر ملکی زبانوں میں ہوا۔وہ بہت کم گو مگر بسیار نویس تھے۔ ان سے بات کرنے یا انہیں کسی محفل میں دیکھنے سے لگتا ہی نہیں تھا کہ وہ اتنے بڑے ادیب اور صحافی ہیں۔ ہمیشہ گردن کو جھکاکر رکھتے،آہستہ بولتے اور مسکراتے رہتے تھے۔وہ بڑا ظریفانہ مزاج رکھتے تھے۔وہ اپنی تحریر اور گفتگو میں اردو کے الفاظ کا استعمال بڑے شوق سے کرتے تھے۔
اس موقع پر ایک واقعہ یاد آتا ہے۔ راشٹریہ سہارا ہندی کے ایک کارٹونسٹ گووند دکشت کو ایک روز اچانک سہارا کے چیئرمین نے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کا گروپ ایڈیٹر بناکر بہت سے عدیم المثال انتظامی اختیارات بھی دیدئے۔ روزنامہ سہارا اردو بھی انہی کے زیر نگیں آگیا اور اردو کے ایڈیٹر صاحب کو بھی انہی کے تابع کردیا گیا۔
ایک روز سردی کی دھوپ میں چائے پیتے ہوئے منگلیش ڈبرال اور ان کے ساتھی ذکر کر رہے تھے کہ عجیب کمپنی ہے کہ کارٹونسٹ کو ایڈیٹر بنادیا۔میں تھوڑے فاصلہ پر کھڑا سن رہا تھا۔ میں نے قریب آکر کہا کہ جان کی امان پاؤں تو عرض کروں۔ڈبرال صاحب نے دیکھا’ مسکرائے اور کہا کہ بالکل۔ میں نے کہا کہ کارٹونسٹ تو پھر بھی تخلیق کار ہوتا ہے’ یہاں تو کارٹون کو ایڈیٹر بنادیا جاتا ہے۔ یہ سن کر ‘ہندی’ کے اس گروپ نے ایک زوردار قہقہہ لگایا۔ یہ میری ڈبرال صاحب سے پہلی ملاقات تھی۔ ڈبرال صاحب بہت سنجیدہ انسان تھے۔ اپنی خفیف سی ہنسی روک کر پوچھا: کیا آپ اردو (روزنامہ سہارا) سے ہیں ؟ میں نے کہا کہ جی میں اردو سے ہوں۔کہنے لگے کہ ایسا ادبی اور با معنی مذاق اردو والا ہی کرسکتا ہے۔
میں جب 2012 میں دہلی یونین آف جرنلسٹس (DUJ) کی ایگزیکٹو کمیٹی کا بلا مقابلہ ممبر منتخب ہوا تو معلوم ہوا کہ ڈبرال صاحب ڈی یو جے کے سینئر ممبران میں سے ہیں۔ وہ اتر اکھنڈ کے ایک گاؤں میں 1948 میں پیدا ہوئے تھے اور 1960 میں دہلی آگئے تھے۔ ڈی یو جے کو شنکر مارکیٹ میں دفتر کیلئے جگہ پنڈت جواہر لعل نہرو نے دی تھی۔ اس یونین کی بعض اہم میٹنگوں میں ڈبرال صاحب سے بھی ملاقات ہوجاتی تھی۔
وہ بہت صاف ستھری ذہنیت کے حامل تھے۔انہوں نے ڈی یو جے میں بابری مسجد کی شہادت’ 2002 کے گجرات فسادات اور سی اے اے کے خلاف ہونے والی میٹنگوں میں بھی شرکت کی تھی اور ان واقعات کے خلاف جاری ہونے والے بیانات پر دستخط بھی کئے تھے۔
یہ وقت بہت سخت ہے۔ اچھے لوگ اٹھتے جارہے ہیں۔ ڈبرال صاحب کو 72 سال کی عمر میں کورونا نے اپنی لپیٹ میں لے لیا اور چند روز موت سے نبرد آزما رہنے کے بعد یہ پہاڑ بھی ڈھہ گیا۔
( تصویر میں ڈبرال صاحب شروع کی قطار میں بائیں طرف اپنا کلام پیش کر رہے ہیں،جبکہ آخری قطار میں دائیں طرف خاکسار کو بھی دیکھا جاسکتا ہے۔میرے برابر میں بائیں طرف ہندی اور اردو کے صحافی سراج نقوی بیٹھے ہیں )