پسند و نا پسند کے درمیان کا مرشدِ کامل:پروفیسر ابوالکلام قاسمی- پروفیسر ابو بکر عباد

شعبۂ اردو، دہلی یونیورسٹی،دہلی۔۷
قاسمی صاحب کی شخصیت متعدد خوبیوں اور متنوع صفات کی حامل تھی۔وہ جلال و جمال کا مظہر، علم و ادب کا منبع اور صاحب قلب و نظر تھے۔ ایک اچھے استاذ، بہترین مربی اور عمدہ اور ایماندار منتظم کار کی حیثیت سے علیگ برادری اُن سے خوب واقف ہے۔ اُن کی دسترس دینی علوم پر بھی تھی اور دنیاوی علوم پر بھی۔مغربی اور مشرقی شعر و ادب اور تحقیق و تنقید پر جیسی اُن کی نظر تھی ایسے لوگ ڈھونڈے نہیں ملتے۔ بڑے نقاد، اہم مصنف،منفرد صحافی اور ہر دلعزیز مقرر کے طور پر اردوزبان و ادب کی کائنات انھیں اعتبار و استناد کی مسند پر فائز کر چکی ہے۔ دنیائے علم و فن کی مختلف تحریکات و رجحانات، رنگ بدلتی اصناف اورنت نئے افکار و خیالات سے واقفیت قاسمی صاحب کی ترجیحات میں شامل تھی۔ وہ جیسی گرفت اردو کے کلاسیکی سرمائے پر رکھتے تھے،ان کا ویسا ہی معاملہ معاصرشعر و ادب کے ساتھ بھی تھا۔
جرأت و بیباکی،صاف گوئی،احساس ذمہ داری اوروقت کی پابندی قاسمی صاحب کی معروف شناخت تھی؛اور نیک نفسی، طبعی شرافت اور اعلیٰ اقدار کی پاسداری ان کی شخصیت کے نمایاں عناصر۔ مذہبی اوامر ونہی کی پابندی کے ساتھ ساتھ وہ آرٹ، کلچر اور تہذیبی اور ثقافتی جمالیات کے دلدادہ تھے۔ توازن و اعتدال، میانہ روی اور ایک خاص سطح کا انتخاب قاسمی صاحب کی زندگی کا لازمہ بھی تھی اوران کی تحریر و تقریر کا خاصہ بھی۔ خاکساروں سے وہ فروتنی برتتے تھے، بد دماغوں کو آئینہ دکھاتے انھیں دیر نہیں لگتی تھی۔بزرگوں اور صاحبان علم کے ساتھ حسب مراتب پیش آتے تھے، ہم عمروں، خردوں اور شاگردوں سے حالات و واقعات کے مطابق محبت و شفقت، حوصلہ افزائی، ڈانٹ ڈپٹ اور پسند و نا پسندیدگی کے برملا اظہار میں مصلحت کو آڑے نہ آنے دیتے تھے۔
یہ تو بہت بعد میں جا کر پتہ چلاتھا کہ پروفیسر ابولکلام قاسمی کئی ایک رسائل و جرائد کے مدیر رہ چکے ہیں،متعدد ایوارڈ یافتہ ہیں، درجن بھر سے زائد کتابوں کے مصنف و مرتب ہیں،دو سو سے زیادہ مضامین و مقالات قلمبند کر چکے ہیں اور بے حد اچھے مترجم ہیں۔تب توہم لوگ صرف یہ جانتے تھے کہ قاسمی صاحب ہمارے بی۔ اے فرسٹ ایئر کے استاذ ہیں اوروہ نثر کی وہ کتاب پڑھاتے ہیں جس میں عجیب و غریب جناتی زبان میں اردو کی ابتدائی کتابوں کے حصے مضامین کی صورت شامل ہیں۔ مثلاً:’سب رس‘کا حصہ ’سوال کرنے کی مذمت‘، ’کربل کتھا‘کا ’خون ناحق‘،’نو طرز مرصع‘ کا’روانہ ہونا شہزادے اور ملکہ کا‘، ’طلسم ہوش ربا‘ سے ماخوذ ’چاہ زمرد کا میلہ‘،’قصہ مہر افروز و دلبر‘ سے ’حق پیدا کرنے والے کا‘، شاہ عالم ثانی آفتاب کی ’عجائب القصص‘کا حصہ ’پیغمبر جو نہ جن ہے نہ انسان نہ فرشتہ‘،میر شیر علی افسوس کی ’آرائش محفل‘سے ’صوبہ خوش سواد الہ آباد، مرزا رجب علی بیگ سرورکی کتاب فسانہئ عجائب‘ سے ’بندر کی تقریر‘اور پھر میر امن دہلوی، مرزا اسد اللہ خاں غالب اور مولانا محمد حسین آزاد سے لے کرڈپٹی نذیراحمد، خواجہ حالی، علامہ شبلی، پنڈت رتن ناتھ سرشار اورمولوی عبد الحلیم شرر کی دلچسپ، اثر انگیز اور من موہنی تحریروں کا چمن زار ہے۔خدا ہی بہتر جانتا ہے کہ ہم لوگوں نے وجہی، فضلی، حسین عطا خاں تحسین اورنواب عیسوی کو کیسے پڑھا ہے اور پڑھنے میں کیا کیا کچھ نہ سہا ہے۔ کلاس سے پہلے دوستوں کے درمیان جب بلند خوانی ہوتی توکتنے لفظ صحیح اور کتنے غلط ادا ہورہے ہیں ہم میں سے کو ئی کچھ نہ جانتاتھا۔ ہربار کی اور ہر ایک کی قرأت میں تلفظ بدل بدل جاتے تھے اور اضافتیں تبدیل ہوجاتی تھیں۔ متن ایسے اوبڑ کھابڑ، اتنے ٹیڑھے اوراس قدر بوجھل لگتے کہ من ہی من پڑھیے تب بھی زبان دکھنے لگ جاتی تھی۔ اور جب کلاس روم میں قاسمی صاحب کسی کو بلند خوانی کے لیے کھڑا کرتے تو ایسا محسوس ہوتا جیسے اپنی جگہ سے دیوار کی مانند دھیرے دھیرے اٹھنے والا طالبعلم کلاس روم میں نہیں،کسی اسپتال کے ملیریا وارڈ یا چلتی ٹرین میں کھڑا ہو کر متن کی قرأت کرہا ہو؛ کہ جس شدت سے بیچارے کے ہاتھ پاؤں میں لرزش ہوتی اسی رفتا سے زبان دھچکے کھاتی تھی۔بلند خوانی کرنے والوں پر کپکپی طاری رہتی اور ہم سب اس خوف سے کہ بلند خوانی کے لیے کہیں ہمیں نہ کھڑا کر دیا جائے؛ اپنی اپنی بے ترتیب سانسوں اور گھبراہٹوں پر قابو پانے اور قاسمی صاحب سے نظریں چرانے کی ناکام کوششوں میں مصروف ہوتے۔ لیکن واقعہ یہ تھا کہ:
موت سے کس کو رستگاری ہے
آج اس کی توکل ہماری باری ہے
سو،رک رک کر، اٹک ٹک کر، ایک لفظ کو کئی کئی بار دہرا کر، جی جان سے ز،خ، ش،ق، غ،کے مخرجوں کو ڈھونڈ کر آخر کار ڈیڑھ دو مہینے کے اندر ہم لوگوں نے استاذ محترم کی ناراضگی،اپنے خوف اور متن کی جناتیت پر کافی حد تک قابو پالیا تھا۔ رب کریم کا شکر ہے کہ اس عرصے میں ہم لوگوں کو تو صرف ڈانٹیں سننی پڑی تھیں، اصل محنت اور مشقت سے تو استاذ محترم کو گزرنا پڑا تھا؛ کہ انھیں ہمارے اندرونِ منھ اور حلق کے گوشوں، زبان کے کونوں اور ہونٹوں کے مختلف حصوں سے اردوئے معلیٰ کے حروف کوڈھونڈ ڈھونڈ کر نکالنا، انھیں مانجھنا اور چمکانا پڑتاتھا۔ کومہ اور فُل اسٹاپ کی نزاکتیں سمجھانے،اضافتوں کے اصول سکھانے اور لفظوں کے روٹس بتانے میں انھیں کن کن ذہنی اذیتوں سے دوچار نہ ہونا پڑتا تھا؟ عبارتوں کی تشریح کروانے،حاصل ِسبق کو اپنے لفظوں میں بیان کروانے، مشکل پیرا گراف کو آسان لکھوانے اور ٹٹوریل کی کلاس میں تحریر کے گُر سے آشنا کروانے میں انھیں بے پناہ جھنجھلاہٹوں اور کلفتوں کا سامناکرنا پڑتا تھا۔ تاہم کلاس چھوڑنے سے پہلے وہ چند دلچسپ باتیں کرنا، خود ہنسنااور ہم لوگوں کو ہنسانا نہ بھولتے تھے۔ ان سب کے باوجود ایمانداری کی بات تو یہ ہے کہ قاسمی صاحب کے اِ س مولویانہ طور اور آمرانہ رویے سے ہم لوگ قطعی خوش نہ تھے۔ہمیں اُن کے منفرد استادانہ طریق کار پر غصہ آتا تھا، انھیں برا بھلا کہنے کا جی چاہتا تھا اور کبھی کبھار تو ان سے نفرت تک کا احساس ہونے لگتا تھا۔ لیکن اب۔ اب جب سوچتا ہوں تو ان پر حد درجے پیار آتا ہے، دل میں ان کے لیے عقیدت کا سمندر موجزن ہو اٹھتا ہے، لب ادب سے ان کے نام کو بوسے دیتے ہیں اور پیشانی آپ ہی ان کے احترام میں جھک جاتی ہے۔
تب تو ان کے کلاس لینے کی پابندی سے بھی ہم لوگ کافی ناراض رہتے تھے۔یوں کہ روزانہ آٹھ بجتے ہی وہ رشید احمد صدیقی کے’کندن‘کی طرح بلا ناغہ کلاس روم میں آجاتے تھے۔سخت سردی،تپتی گرمی یاموسلا دھار بارش ہو، ہندوستان پاکستان کے درمیان کرکٹ کا میچ ہو، شہر میں فساد ہو، الیکشن کے زمانے کی بہار ہو، خود انھیں، یا ہم میں سے کسی کو ضروری کام ہو، ہر ایک صورت میں ہر ایک کے لیے حاضری ضروری تھی۔ کیا استاذاور کیا طالبعلم۔ بس یہ سمجھئے کہ معاملہ ”آپ بھی شرمسار ہو مجھ کو بھی شرمسار کر“ والا تھا۔
ایک دن کا ماجرا ہے کہ آٹھ بجے کی بیل بج چکی تھی اورقاسمی صاحب آئے نہ تھے۔ لمحے دلوں کی دھڑکنیں بن کر گزرنے لگے۔ پھرجانے کیوں جلد ہی ہم لوگوں نے یقین کر لیا کہ اب قاسمی صاحب نہیں آئیں گے۔ پوری کلاس نے مسرت سے دمکتے ایک دوسرے کے چہروں کو دیکھا اور خوشی سے ہوا میں ہاتھ لہراتے ہوئے سارے طالبعلم کورَس میں چلا اٹھے: ”چھٹی ی ی.. چلو کینٹین۔“باہر نکل کرہم لوگ ابھی آدھی گیلری بھی طے نہ کر پائے تھے کہ سب کے قدم جیسے یکلخت جم گئے۔دیکھا تو سامنے سے ایک ہاتھ میں رجسٹر،ڈسٹر، چاک اور کتاب تھامے اور دوسرے ہاتھ سے چابیوں کا گچھانچاتے ہوئے قاسمی صاحب آرہے ہیں۔
”کہاں جا رہے ہیں آپ لوگ؟“
”جی، ہم لوگوں نے سمجھا کہ.. کہ خدا نخواستہ…“
”کیا خدا نخواستہ؟“ اب کی بار قاسمی صاحب کی آواز قدرے اونچی اور لہجہ ذرا سخت تھا۔“
”جی ہم لوگوں نے سمجھا کہ…“
”چلیے جو سمجھنا ہے کلاس روم میں چل کر سمجھئے گا۔“
کلاس روم میں بیٹھنے کے بعد قاسمی صاحب نے اعلان کیا کہ: ”بیل ہونے کے چار منٹ تک آپ لوگ میرا انتظار کیجیے۔ اگر چار منٹ کے اندر نہ آؤں تو سمجھئے چھٹی پر ہوں۔شرافت سے باہر نکلیے اور سیمنار روم یا مولانا آزاد لائبریری میں جا کر مطالعہ کیجیے؛ گیلری میں ہنگامہ نہیں۔“ اب یہ ہم لوگوں کی بد نصیبی ہی تھی کہ قاسمی صاحب نے اُس مبارک ’چار منٹ‘ کو بی۔اے فرسٹ ایئر سے فائنل ایئر تک آنے دیا،نہ ہی ہم لوگوں کو کبھی آٹھ سے نو بجے کے پریڈ میں شرافت سے آرٹس فیکلٹی کی گیلری طے کرتے ہوئے سیمنار روم یا مولانا آزاد لائبریری میں جانے کاان چاہا موقع دیا۔ اور کس منھ سے بتائیں کہ اس عرصے میں ہم کم بختوں نے قاسمی صاحب کے لیے کیا کیا دعائیں، بلکہ بد دعائیں نہ مانگیں۔ کبھی کبھار تو پوری کلاس نماز جمعہ اور عیدین کے بعد کی دعاؤں کا منظر پیش کرتی۔یوں کہ کوئی طالبعلم اس طرح کلاس روم کے دروازے پر کھڑا ہوجاتا کہ قاسمی صاحب کو آتا ہوا بھی دیکھ سکے اور وہیں کھڑا کھڑا مانند امام دعا کرواتا:”اے خدائے کار ساز قاسمی سر کو زکام ہوجائے“،پوری کلاس کہتی: آمین،”اللہ پاک ان پرکھانسی یا بخارکا حملہ ہو جائے“ اندرکلاس روم میں آواز گونجتی: آمین۔ ”اے پرور دگار کچھ نہیں تو راستے میں ’سر‘کا اسکوٹر ہی خراب کروادے“:آمین۔ لیکن ہوا کچھ نہیں، نہ قاسمی صاحب کو، نہ قاسمی صاحب کے اسکوٹر کو۔ البتہ شاعروں اور عاشقوں کی خدا سے شکایت کا پکا یقین ہوگیاکہ ”آخر تو دشمنی ہے دعا کو اثر کے ساتھ۔“یا شاید ان ناہنجار دعاؤں کو اس لیے شرف قبولیت نہ ملتی تھی کہ ہر بار ہماری دعاؤں بلکہ بددعاوٗں کا اختتام درود شریف پڑھ کر چہرے پرنرمی سے ہاتھ پھیرنے کے بجائے ہمارے امام کے ”ابے سر آگئے“ کی دھیمی مگر تیز آوازاور ہم سبھوں کے جلدی جلدی سنبھل کر بیٹھنے پر ہوتا۔ اور نہ ہی آج تک پانچ کے بجائے قاسمی صاحب کے چار منٹ کی منطق سمجھ میں آئی۔
یاد پڑتا ہے کہ فائنل ائیر کی کلاس شروع ہوجا نے کے دو مہینے بعد پہلی بار تنقید کو بی۔ اے کے نصاب میں شامل کیاگیا تھا۔ جسے پڑھانے کی ذمے داری قدیم و جدید ادب کے اہم ناقد پروفیسر خورشیداحمد کو دی گئی تھی۔ خورشید صاحب بے حد محنت سے پڑھاتے تھے۔ لیکن تنقید سے ہماری مکمل اجنبیت، اس کی نا مانوس اصطلاحوں، مغربی نقادوں کے ٹیڑھے میڑھے ناموں سے ناواقفیت اور ان کے بے تکے اقوال سے ہم لوگ ایسے بیگانے یا شاید خوفزدہ تھے کہ لیکچر پر دھیان کم دیتے اور کلاس میں ایک دوسرے کا منھ زیادہ تکا کرتے تھے۔ چونکہ خورشید صاحب کی شرافت اور معصومیت پر ہم لوگوں کا متفقہ ایمان تھا، اس لیے کلاس کے بعد صرف تنقید اور تنقید کو بی۔ اے کے نصاب میں شامل کرنے والی کمیٹی کو جی بھر کر… بس آپ یوں سمجھ لیجیے کہ کوستے تھے۔
چار پانچ کلاسوں کے بعد ہی خورشید صاحب کو ہم لوگوں کی نا خلفی اور اپنے علم اور محنت کی رائیگانی کااحساس ہو گیا۔ یہ تو نہیں معلوم کہ انھوں نے قاسمی صاحب سے کیا بات کی ہوگی لیکن ایک دن جب ہم لوگ کلاس میں بیٹھے بے دلی سے خورشید صاحب کا انتظار کر رہے تھے؛ کہ رجسٹر لے کر قاسمی صاحب آگئے اور کرسی پر بیٹھنے سے پہلے اعلان کیا: ”آپ لوگ پریشان نہ ہوں، مجھے معلوم ہے یہ کلاس خورشید صاحب کی ہے۔“ پھر تین چار منٹ تک خورشید صاحب کے علم،ان کی ذہانت اور تنقید پر ان کی مہارت کی تعریف کرنے کے بعد کہا: ”سنا ہے آپ لوگ تنقید سے خائف ہیں، سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے۔ (اب انھیں کون بتائے کہ ہم لوگ تو سمجھنے کی پوری کوشش کرتے ہیں، تنقید خود ہی ہماری سمجھ میں آنے میں آنے کو تیار نہیں ہے) ”بھائی ایسا اس لیے ہے کہ آپ لوگوں نے تنقید کو ہوّا سمجھ رکھا ہے۔ کل سے ایک ہفتے تک یہ کلاس میں لوں گا۔“ لگا جیسے پانچ وقت کی نماز کم کروانے کی خواہش میں تیس دنوں کے روزے اور گلے پڑ گئے۔ اگلے دن کی کلاس قاسمی صاحب نے لی تھی:
”تنقید کوئی آسمانی چیز نہیں ہے۔ نہ یہ اجنبی صنف ہے۔ جتنا واسطہ آپ کا شاعری، افسانے، ناول اور دوسرے مضامین سے پڑتا ہے اس سے کہیں زیادہ آپ کا واسطہ تنقید سے رہتا ہے۔یہ آپ کے روز مرہ معمولات میں شامل ہے۔ آپ ہر دن، اپنے ہر فیصلے اور ہر انتخاب میں تنقیدی عمل سے گزرتے ہیں۔ جب کلاس میں آنے سے پہلے آپ وارڈروب کے سامنے کھڑے ہو کر یہ طے کرتے ہیں کہ کس پینٹ کے ساتھ کون سی شرٹ پہننی چاہیے، یہ تنقید ی عمل ہے۔ اپنے دوستوں کو آپ کسی کتاب یاکسی مضمون کے بارے میں بتا رہے ہوتے ہیں کہ یہ دلچسپ کیوں ہے، یا بے لطف کیوں ہے، تو در اصل یہ مکمل تنقید ہے۔ اسی طرح ہم جب کسی ادبی صنف….“
سو جناب پہلی کلاس میں ہی ہم لوگوں پر یہ راز منکشف ہو گیاکہ در اصل سب سے اچھی اور آسان صنف تو تنقید ہے۔ پڑھنی، سمجھنی، لکھنی اور سب سے زیادہ کرنی۔وجہی، فضلی اور آزاد کی نثر، غواصی، نصرتی اور سودا کے قصیدوں، میر و غالب اور مومن کی غزلوں اور سریندر پرکاش،مینرا،اور انور سجاد کے افسانوں کو خواہ مخواہ آسان سمجھتے آ رہے تھے۔ اوریقین جانیے کہ تیسرے چوتھے دن ہی قاسمی صاحب نے ہم لوگوں کودرسِ تنقید کے اس مقام پر پہنچا دیا جس سے نیچے اترنے کو خورشید صاحب تیار نہ تھے۔ اور کہنے کی ضرورت نہیں کہ اگلے ہفتے کی کلاس سے اخیر سال تک ہم لوگ پروفیسر خورشید صاحب کے لیکچرز اوروہ ہم لوگوں کے چہروں کے تاثرات سے پوری طرح نہ صرف مطمئن رہے، بلکہ بے حد خوش بھی۔
ایم۔ اے کی کلاس میں ہم لوگ قاسمی صاحب سے کسی حد تک مانوس اورانھیں کافی حد تک پسند کرنے لگے تھے۔لیکچرز غور سے سنتے اور سوال و جواب کے آخری پانچ منٹ میں کورس اور دوسرے ادبی مسائل پوچھنے کے علاوہ کبھی کبھار ہاسٹل کی پریشانیوں اور ذاتی الجھنوں کا ذکر بھی کرتے جن کا تسلی بخش جواب ملتاتھا۔ قاسمی صاحب کے لکچرز انتہائی معلوماتی،براہ راست،سحر انگیز اور کمیونیکیٹیو ہوتے تھے۔ متعلقہ موضوع یا مسئلے پر آسان، سادہ اور دلنشیں طریقے سے گفتگو کرتے، اس کے مختلف پہلوں کا سلیقے سے احاطہ کرتے اور اجنبی اور انجان گوشوں پر اس خوبصورتی سے روشنی ڈالتے کہ زیر بحث موضوع یا مسئلے کے تمام فنی اور تکنیکی نکات منور ہوجاتے۔بیشتر باتوں کی وضاحت اور اشعار کی تفہیم قاسمی صاحب کی طرز ادا، گفتگو کے اتار چڑھاؤ،آواز کے زیر وبم، شعر پڑھنے کے انداز اور بیان میں سکتے، وقفے، حیرت و استعجاب اور اظہارِ ِمسرت کے لہجوں کے استعمال سے ہو جاتی تھی۔قاسمی صاحب کے لیکچرز کی خوبی یہ تھی کہ وہ خود اعتمادی سے بھرپور، مدلل،سہل، پُر مغز، رواں اور پُر اثر ہوتے تھے۔ کلاس میں جب وہ ہمیں کسی عبارت کی تشریح کرنے یا شعر کا مفہوم بیان کرنے کے لیے کھڑا کرتے توہماری باتیں توجہ سے سنتے اور پھر مسکراتے ہوئے (اور تب یہ مسکراناہم لوگوں کو مذاق اڑانے جیسا لگتا تھا) کہتے:”جناب آپ کو عبارت کی تشریح کرنے کے لیے کہا تھا، آپ نے تو اسے اور مشکل اور پیچیدہ بنا دیا، بیٹھیے۔پھر کسی اور کو کھڑا کرتے۔فرماتے: ”آپ پہلے سیدھے طور سے کان پکڑنا سیکھیے،جب آجائے، پھر جیسے چاہیں گھما کر کان پکڑیں، جتنا چاہیں کرتب دکھائیں۔“ اشعار کے مفاہیم بیان کرنے والوں کو بتاتے:”ہر شعر میں کوئی ایک کلیدی لفظ ہوتا ہے جس سے آپ معنی کے بند قفل کو کھول سکتے ہیں۔ اگر اس کلیدی لفط کو شناخت کرنا آپ نے سیکھ لیا تو تشریح و تعبیر میں آپ کو پریشانی نہیں ہوگی۔“ لیکچر کے درمیان نوٹس لینے یا کسی اہم بات کو لکھنے کی ممانعت تھی، کہتے لیکچر غور سے سنیے،ذہن نشیں کرنے کی عادت ڈالیے، کلاس کے بعدموقع ملے تو ما حصل ضرور لکھ لیجیے۔“
پہلی دفعہ کے ٹسٹ میں نہ تو میرا جے۔آر۔ایف ہواتھا، نہ نیٹ۔ کافی اداس تھا۔ اس لیے نہیں کہ اب کی بار JRF نہیں ہوا، بلکہ اس لیے کہ آئندہ پانچ سال تک میرا جے۔آر۔ایف نہیں ہونے والا تھا۔ یہ میری ذاتی نہیں بعض د وستوں کی حتمی رائے تھی، جس کی اُن کے پاس معقول وجہ بھی تھی؛ یہ کہ نیٹ یا جے۔آر۔ایف کے لیے reasningکاپیپر پاس کرنا ضروری تھا، جس میں اچھی خاصی مَیتھ ہوتی تھی،اس سوداگری صنف سے خاندان کے کسی اگلے کی علیک سلیک رہی ہو، تو رہی ہو، اپنی توبس جھلک دیکھنے کی سی شناسائی تھی۔سو، دوستوں کی یہ حتمی رائے کہ ”تمھاری میتھ کا جو حال ہے، لگتا نہیں کہ اگلے پانچ سال تک اس کا کچھ بگڑنے والا ہے۔“ قطعاً غلط نہ تھی۔ مزے کی بات یہ ہے کہ دوستوں کی اس بات کااُن سب سے کہیں زیادہ خود مجھے یقین تھا۔
اُن دنوں میں دور سے ہی قاسمی صاحب کی شکل دیکھ کر یوں بھاگتا تھا جیسے کسی زمانے میں پولس والوں سے چوربھاگتے تھے یا آج کل گھر آئے مہمان کو دیکھ کر بچے بھاگتے ہیں۔شامت اعمال کہ ایک دن آرٹس فیکلٹی کے صدردروازے پر کھڑا دوستوں سے خوش گپیاں کر رہا تھا کہ کلاس روم کی طرف سے قاسمی صاحب آتے دکھائی دیے۔بھاگنے کے لیے سوچنے کا موقع نہ تھا،جلدی سے شعبہئ اردوکے آفس کے پیچھے فوارے کے حوض کی جگت پر جا چھپا۔ قاسمی صاحب صدر دروازے تک آئے اور ٹھہر گئے۔ چند لمحوں تک وہ حیران کھڑے اِدھراُدھراور ہم سانس روکے انھیں دیکھتے رہے۔ وہ پلٹ کر جانے اور میری سانس آنے ہی والی تھی کہ نظریں مل گئیں۔کیا کرتا؟ وہیں سے سلام کے لیے ہاتھ اٹھا دیا۔جواب کے بجائے انھوں نے آنکھوں کے اشارے اور گردن کی جنبش سے آنے کو کہا۔ قریب پہنچ کر ایک بار پھر سلام کیا۔
سخت لہجے میں پوچھا ”کیا کر رہے تھے وہاں؟“
”جی، جی،بس.. یوں ہی کھڑا تھا، کھڑا تھاوہاں۔“ ڈرتے کہلاتے کہا۔
”وہ کھڑے ہونے کی جگہ ہے؟“ ان کا غصہ بڑھ گیا تھا۔جی ہی جی میں جواب دیا:”کھڑے ہونے کی جگہ ہو نہ ہو،چھپنے کی تو تھی۔“
”جے۔ آر۔ ایف کا فارم بھرا ہے؟“
”جی۔“
”اگزام میں کتنے دن باقی ہیں؟“ اس سے پہلے کہ میں دنوں کاحساب کرتا، آپ ہی بتا نے لگے: ”ایک مہینہ دس دن ہیں۔اور اتنے دن کم نہیں ہوتے تیاری کے لیے۔ بہت ہیں۔ دوتین منٹ تک میری نالائقیوں پر ناراض ہوتے ہوتے اچانک ایک اور سوال کر دیا ”ہائبرنیشن جانتے ہو؟“ پھر میری لا علمی کے اظہار یا غلط جواب دینے سے پہلے خودہی معنی بھی بتادئے اور چیونٹیوں کی مثال سے تفصیل بھی سمجھائی۔دوستوں کے سامنے مزید دو ڈھائی منٹ تک ڈانٹنے کے بعدفرمایا: ”ابھی سے ہائبر نیشن میں چلے جاؤ، اور اگزام سے پہلے کہیں بھی کسی کوبھی تمھاری صورت نظر نہیں آنی چاہیے۔ اب کی مرتبہ ہر حال میں جے۔ آر۔ ایف نکلنا چاہیے۔“ بہر حال چالیس دن بعد امتحان ہوا۔ رزلٹ کتنے دنوں بعد آیا، یاد نہیں۔ لیکن یہ کبھی نہیں بھول سکتا کہ قاسمی صاحب کی کڑوی کسیلی باتوں اور ان کی مخلصانہ ڈانٹ ڈپٹ کے نتیجے نے دوستوں کی پانچ سال والی پیشن گوئی اور اپنی جہالت پر میرے پختہ یقین کو یکسر غلط ثابت کر دیاتھا۔
قاسمی صاحب سے اور رشتوں کے علاوہ ایک عجیب سا نفسیاتی رشتہ بھی بن گیا تھا۔وہ میرے آئیڈیل تھے تاہم ان کی تمام باتوں سے میں اتفاق نہیں رکھتا تھا۔جب کسی رسالے میں میرا کوئی خط یا افسانہ شائع ہوتا تو بھری کلاس میں ان کے تعریفی جملوں اور حوصلہ افزاکلمات سے خوشی کا ٹھکانہ نہ رہتا، لیکن غلط باتوں پران کا ڈانٹنا بالکل اچھا نہ لگتا۔ ان کے پڑھانے کا طریقہ اور گفتگو کا اندازہم سب کو بے حد بھاتا تھامگر جب وہ ہمیں پڑھنے کی تلقین کرتے یا ہماری بیوقوفی کی باتوں کا مذاق اڑاتے تو برا لگتا تھا، ہماری چھوٹی موٹی کامیابیوں سے ان کے چہرے پر مسرت کی شفق پھولنے لگتی یا جب وہ کسی بات سے خوش ہوکرہم سے دوستوں کی سطح پر باتیں کرتے اور جی کھول کر قہقہ لگاتے تو ہم خود کو دنیا کا سب سے خوش نصیب انسان سمجھتے تھے پر جب وہ ہماری کسی بد تہذیبی، نا شائستگی یا اصول شکنی پر سرِعام ڈانٹتے، مجرم ٹھہراتے تو غصہ آتا تھا۔ ان کے پاس تھوڑی دیر بیٹھ کر بھی ایک نوع کی خوشی، فخر اور بہت کچھ حاصل کرنے کی سرشاری ہوتی مگر ان سے ملنے کے ارادے یا ان کے مل جانے سے پہلے کی چند گھڑیا ں انتہائی نفسیاتی کش مکش،یا کہیے اذیت کی ہوتی تھیں۔ ہم جانتے تھے کہ ان کی نگہبانی ہمیں وہ سب کچھ دے رہی ہے جو در اصل ہمیں اپنے گھراور اداروں سے ملنے چاہیے تھے مگر ان کی تربیت اور احتساب سے سخت الجھن بھی ہوتی تھی۔وہ ہمیں بے حد پسند بھی تھے اور کسی حد تک نا پسند بھی۔ اور یقین جانیے کہ قاسمی صاحب سے ہمارا یہ پسند و نا پسند کا رشتہ بڑا ہی مضبوط تھا۔ نہ ہم انھیں پسند کرنا چھوڑ سکتے تھے اور نہ ہی نا پسند کرنے سے باز آتے تھے۔ لیکن آج….. آج اُن سے میرا صرف ایک رشتہ رہ گیا ہے۔ اور وہ ہے پسند،اور صرف پسند کا رشتہ؛ جس میں محبت، عقیدت، احترام، اعتراف اور ممنونیت سبھی کچھ تو شامل ہے۔
اور کہنے کی اجازت دیجیے کہ قاسمی صاحب کی بظاہر اس پسندیدہ اور نا پسندیدہ تربیت کے بعد ہی ان کے شاگردوں نے سیکھا کہ شخصیت میں جرأت وبے باکی اور صاف گوئی کی صفت کیسے پیدا ہوتی ہے، پسند و نا پسند کا بر ملا اظہار کیوں کر ممکن ہوتا ہے، سہل اور رواں تحریر کیا ہوتی ہے، شگفتہ بیانی کسے کہتے ہیں، قرأت میں زیر وبم کس طور آتا ہے،قلم پکڑنے کی الف۔ بے۔کیا ہوتی ہے، جملوں کی معاشرت کسے کہتے ہیں، سیاق و سباق کے اختلاف و اتفاق سے کیسے متن کے معنی مجروح یا ممدوح ہوجاتے ہیں،کب کب اصطلاحات و مترادفات کے مزاج و معنی بدلتے ہیں، سوچ اور احساسات کی تہذیب کس طریقے سے کی جاتی ہے، کیسے فکر پر کمند ڈالی جاتی ہے اور خیال کا اپنا سا رنگ محل تعمیر کرنے کے لیے لفظوں اور جملوں کے نگینے کیسے جڑے جاتے ہیں۔
کلاس روم سے باہر کی دنیا کے قاسمی صاحب کو اچھی طرح سے جاننے کا سلسلہ تب شروع ہوا جب اسلامی اساطیر کی روشنی میں ان کا لکھا ہوا انتظار حسین کے افسانے ’آخری آدمی‘ کا بے حد عمدہ تجزیہ پڑھا تھا۔’کتاب نما‘کے شمارے میں شہریار صاحب کی شخصیت اور ان کے فن پر ترتیب دیا ہوا ان کا گوشہ دیکھا تھا، طبع زاد کی سی صفت رکھنے والی ان کی مترجمہ کتاب ’ناول کا فن‘ زیر مطالعہ آئی تھی اور درسی ضرورت کی بنا پر ان کی مشہور تصنیف ’مشرقی شعریات‘ پڑھنی پڑی تھی۔ان کے مجموعہئ مقالات ’شاعری کی تنقید‘ کے؛قاسمی صاحب کے ہی نشان زد کیے ہوئے چند مضامین پروفیسر آل احمد سرور کو سبقاً سبقاً پڑھ کر سنانے کے دوران اور فکشن کے حوالے سے ان کے بعض مضامین مثلاً ’جدید افسا نے کا تنوع‘،’منٹو کے امتیازات‘، اور’ناول نگاری کے فنی مسائل‘ وغیرہ کی قرأت کے بعد ان کے تجزیاتی طریق کار، استدلالی اسلوب اور تفتیشی ذہن کا قائل ہوتا رہا۔
سیمناروں میں ان کے دلائل، حوالوں، احتسابی طریقہئ کار اور انتہائی معلومات سے مربوط بے لاگ صدارتی خطبات سننے، اور پھر ان کی ہر تحریر کے مطالعے کے بعد نگاہوں میں ان کا علمی قد بلند تر ہوتا گیااورشخصیت مزید با وقارلگنے لگی۔ کہ وہ اپنے تنقیدی محاکمے میں معروضیت کے احترام کو بہر طور قائم رکھتے تھے،شخصی اور نظریاتی محاسبے میں تعصب کے رنگ کا شائبہ تک نہیں آنے دیتے اور ما فی الضمیرکو ہنر مندی، قطعیت،صراحت اور کلیرٹی کے ساتھ ادا کرنے پر غیر معمولی قدرت رکھتے تھے۔ ان کی کتابیں ’تخلیقی تجربہ‘، ’مشرقی شعریات‘، معاصر تنقیدی رویے‘، ’شاعری کی تنقید‘ اور ’کثرت تعبیر‘ کے مطالعے کے بعد ان کی ناقدانہ بصیرت، ان کے ادبی اقدار کے پاس اورتخلیق کی جمالیات سے ان کے انس و محبت کا اندازہ بخوبی ہوتاہے۔ تانیثیت اور ما بعد جدیدیت کے تعلق سے ان کے مضامین ان کی وسیع المشربیت اورکشادہ ذہنی کی شہادت فراہم کرتے ہیں۔ مشرق و مغرب کے شعر و ادب اور قدیم و جدید تحقیق و تنقید سے ان کی طبعی مناسبت ان کے عمیق مطالعے کی غماز ہے۔ جدیدرجحانات سے قربت اور نئے لکھنے والوں اور ان کی تخلیق و تنقیدپر نظر رکھنے کی بدولت قاسمی صاحب اور ان کی تحریروں میں وہ خود اعتمادی پائی جاتی ہے کہ ایسی خود اعتمادی شہنشاہ طلسم سامری کی شخصیت اور اس کی ساحری میں کیا رہی ہوگی۔ لیکن قاسمی صاحب کی تنقید کو جس چیز نے سب سے زیادہ اعتبار و استنادبخشا، شگفتگی اور سحر انگیز ی عطا کی؛ وہ ہے ان کا تخلیقی ذہن۔ وہ تخلیقی ذہن جو اول اول فشارِ فکر و احساس کا اظہار شاعری اور افسانے کی صورت کیا کرتا تھا۔ پھر جانے کیا ہوا کہ اس ذہن ننے بعد میں اپنے ذمے ان شکلوں، صورتوں اور روپوں کے خط و گیسو کو سنوارنے، سجانے اورمحبوب اداؤں کے سکھانے کے فرائض لے لیے جو شاعر وادیب کے فکر و احساسات سے ڈھل کر بنتے اور اُن کے خون جگر سے پر ورش پاتے ہیں۔ کون جانے قاسمی صاحب بحیثیت شاعر یا افسانہ نگار کس مقام پر ہوتے۔ لیکن آج یہ بات علی الاعلان کہی جا سکتی ہے کہ قاسمی صاحب اپنے دور کے ان چند اہم نقادوں اور مقرروں میں ہیں جنھیں ہمارا عہد، مختلف رجحانات و دبستان کے دستاویزات، تنقیدی روایت اور مستقبل کی تاریخ کسی بھی طور فراموش نہیں کر سکتی۔