پرویش ورما نے پرانی ویڈیو شیئر کرکے فرقہ وارانہ سیاست کی کوشش کی،دہلی پولیس کی بروقت پھٹکار

نئی دہلی:دہلی الیکشن کے وقت فضامیں فرقہ پرستی کازہرگھولنے کے ملزم پرویش ورمانے پھرایک بارپیروپیگنڈہ کرنے کی کوشش کی۔لیکن وقت رہتے دہلی پولیس نے انھیں پھٹکارلگائی ہے اورفرضی خبرپھیلانے پرمتنبہ کیاہے۔پرویش ورما،کپل مشراکے بیانات کے بعدہی دہلی میں فسادہواتھا۔ مغربی دہلی سے بی جے پی کے ایم پی پرویش ورما نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر ایک ویڈیوشیئرکیااوردعویٰ کیاہے کہ لاک ڈاؤن کے دوران مسجد میں بڑی تعداد میں لوگ نماز پڑھ رہے ہیں۔اس طرح ایک کمیونٹی پرکوروناکاالزام لگانے کی پھرکوشش کی جارہی تھی۔ بی جے پی لیڈرکے اس دعوے کو دہلی پولیس نے جھوٹاقراردیاہے۔ادہلی پولیس نے جب انہیں ٹوئٹر پر جواب دیا تو انہوں نے کچھ دیر بعد اپنا ٹویٹ ڈیلیٹ کر لیا۔ڈپٹی کمشنرایسٹ دہلی کی جانب سے پرویش ورما کی ٹویٹس پر جواب دیاگیاکہ یہ مکمل طور پر جھوٹ ہے۔ افواہ پھیلانے کے لیے اس پرانی ویڈیو کا استعمال کیاجا رہاہے۔ براہ مہربانی کر کے افواہ پھیلانے اور پوسٹ کرنے سے پہلے حقائق چیک کرلیاکریں۔پرویش ورما نے اپنی ٹویٹس میں دعویٰ کیاتھاکہ کوئی بھی مذہب وائرس کے سبب ان حرکتوں کی اجازت دیتاہے؟ لاک ڈاؤن اور سوشل ڈسٹینسنگ کی مکمل طور پر دھجیاں اڑا دی گئی ہیں۔ کجریوال نے ہلی کو تباہ کرنے کی قسم کھا لی ہے؟اگرچہ دہلی پولیس نے صاف کر دیاہے کہ یہ ویڈیو پرانی ہے اور اس کا لاک ڈاؤن کے دوران نماز پڑھنے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔