پروین شاکر:خوشبو والی شاعرہ- اشفاق احمد ورک

کہتے ہیں کہ ہماری نوجوان نسل کو وقت سے پہلے بالغ کرنے میں تین چیزوں کا ہاتھ ہے : گرمی ، غربت اور پروین شاکر اور انہیں دیر تک جوان رکھنے میں صرف مؤخر الذکر کا ۔ اس کی ـ’’خوشبو‘‘ آج بھی نوجوانوں کے دل و دماغ میں اس قدر رچی بسی ہوئی ہے کہ یہ ’’خود کلامی ‘‘ بھی کر رہی ہو تو لوگ سمجھتے ہیں ہم کلامی کر رہی ہے۔ اس کی آخری کتاب کا نام ’’انکار ‘‘ ہے ۔میرے دوست مسٹر الو کا کہنا ہے کہ اس کتا ب کے پیچھے چھپی ہوئی تصویر دیکھ لی جائے تو یہ انکار بھی اقرار لگنے لگتا ہے ۔ یہ چار کتابوں اور ایک بیٹے کی خالق ہے۔اس کا تخلیقی سفر اب بھی جاری ہے مگر صرف کتابوں کی حد تک ۔
اگر نوجوان نسل ہماری قوم کا سرمایہ ہے تو یہ سرمایہ اس نے لوٹ لیا ہے:
اب تو اردو سمجھنے اور ڈائیلاگ بولنے والا ہر دوسرا نوجوان اس کی شاعری کا دیوانہ ہے اور ہر پہلا اس کا۔ ویسے بھی اس کی شاعری کو سمجھنے کے لئے ذہین ہونا اتنا ضروری نہیں جتنا ضروری جوان ہونا۔ اب تو سنا ہے کہ ڈاکٹر علاج کے لئے آنے والے نوجوانوں کو جن گرم چیزوں سے پرہیز کی ہدایت کرتے ہیں ان میں اس کی شاعری بھی شامل ہے ۔ ہمارےہاں ویسے بھی بچوں کو ملامت اور عورت کو ملائمت سے دیکھنا قابل مذمت سمجھا جاتا ہے ۔ اس کے باوجود اس نے جن خواہشات کا اظہار شاعری کی زبان میں کیا ہے اگر اپنی زبان میں کرتی تو ایک ایک خواہش ایسی تھی کہ ہر خواہش پہ ہزاروں کے دم نکلتے ۔ یہی تو شاعری کا ایک بڑا فائدہ ہے کہ جو باتیں عام حالات میں چھپانے کے قابل ہوتی ہیں ، شاعری میں وہ چھپنے کے قابل ہو جاتی ہیں ۔
اسے زبان ( اردو زبان اوراپنی زبان)پر پوری گرفت ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ الفاظ و استعارات اس کے سامنے ہاتھ جوڑے کھڑے رہتے ہیں۔ جو چاہتی ہے لکھ دیتی ہے، لوگ بھی وہی چاہتے ہیں جو لکھ دیتی ہے ۔ مردوں نے پوری اردو شاعری میں جتنےستم اٹھائے تھے یہ ان کا جواب بن کے رہ گئی۔اتنی سی عمر میں اس نے اتنے کا م کر لئے ہیں کہ حیرت ہو تی ہے کہ آگے چل کر یہ کیا کچھ نہیں کرے گی۔ جب کہ مسٹر الو کا کہنا ہے کہ ایسے کا م صرف اسی عمر میں ہو سکتے تھے۔
یہ پہلی شاعرہ ہے جس نے ادب سے روپیہ بھی کمایا ہے وگرنہ ہمارے ہاں تو بڑے نامی گرامی شعرا و ادبا کی مالی حالت ایسی ہوتی ہے ، جیسے مشرقی پنجاب میں نائیوں حجاموں کی۔ اس کی آدھی کتابیں تصوری کی وجہ سے بکیں اور آدھی تصور کی وجہ سے ۔ (تصویر اس کی تصور لوگوں کا)کہتےہیں کہ یہ پہلی عورت ہے جس نے خوبصورت شاعری کی ہے ۔ ہمارے ہاں بہت سی خواتین نے کل وقتی شادی کی خاطر جزوقتی شاعری کی قربانی دے دی، اس نے ان کے الٹ کیا۔ ہمارے ناقدین کو آج تک سمجھ نہیں آئی کہ اسے کونسا مقام دیں، اس کے خاوند کے لئے بھی یہی مسئلہ تھا۔ شاعری میں اس کا پسندیدہ ترین موضوع معاشرتی کشمکش ہے جس کی ایک بڑی وجہ یہ خود بھی ہے ۔ ہماری پوری اردو شاعری عورت کے گرد گھومتی ہے ، پروین کی شاعری مرد کے گرد گھومتی ہے اور مرد اس کے ۔ اسے طلباء و طالبات کے نصاب میں شامل ہونے میں ابھی وقت لگے گا اور نصاب عشق سے نکلنے میں ۔ اس نے ہر عورت کے جذبات کو زبان دے دی ہے جب کہ ہر جذباتی مرد اس سے زبان لینے کو تیا رہے ۔ کہتے ہیں اس اکیلی نے پوری عورت ’’ برادری‘‘ کی نمایندگی کی ہے ۔ اس کے مداحین کی تعدا د سے اس بات کی تصدیق ہو جاتی ہے ۔
حضرت اقبال کو ہمیشہ یہ شکوہ رہا کہ ہندکے شاعروصورت گر و افسانہ نویس کے اعصاب پہ عورت سوار ہے۔وہ شاید یہ نہیںجانتے تھے کہ تخلیق کا ر مرد ہو تو اس کے ذہن پہ ایک وقت میں ایک عورت سوار ہو تی ہے ۔لیکن اگر تخلیق کار ہی بقلم خود عورت ہو تو وہ اکیلی ہر ایک کے اعصاب کیا ، سر پہ سوار ہو جاتی ہے اور پھر شاعر نے کہا ہے :’’ یہ درد سر ایسا ہے کہ سر جائے تو جائے ہے ۔‘‘ یہ تو ویسے بھی تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ عورت گواہی میں آدھی ، آگہی میں پوری ، گہری میں دوگنی اور گمراہی میں کئی گنا ہوتی ہے ۔
اسے ’’ بنانے ‘‘میں خدا تعالیٰ اور احمد ندیم قاسمی کا خاصا ہاتھ ہے ۔ شکل و شہرت ایسی کہ خاموش بھی ہو تو بولتی ہوئی لگتی ہے ۔ ٹی ۔ وی پہ ہمیشہ بال اور دل کھول کے آتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ شاعرہ کم شاعری ذیادہ نظر آتی ہے ۔ اس کی شاعری سچے جذبوں اور جھوٹے مردوں پہ محیط ہے ۔ شعروں میں اتنا خلوص اور اپنائیت ہوتی ہے کہ ہر بندہ سمجھتا ہے مجھ سے مخاطب ہے ۔ اس نے اپنی ایک کتاب کے انتساب میں لکھا: ’’مراد تیرے نام ‘‘ جسے پڑھ کے کئی سرپھرے منزل مراد شاد باد کے حصول کےلئے نامراد سے مراد بن بیٹھے ۔ انہیں بعد میں پتہ چلا کہ مراد اس کے بیٹے کا نام ہے ۔ اسے زعم ہے کہ اس نے کتا بوں کے ساتھ ساتھ لوگوں کو بھی بہت پڑھا ہے ۔ مسٹر الو کہتا ہے کہ اتنا اس نے لوگوں کو نہیں پڑھا جتنا لوگوں نے اس کو پڑھا ہے ۔
بڑے شاعر کا کمال یہ ہوتا ہے کہ وہ مردوں میں نئی روح پھونک دیتا ہے۔ یہ بھی بڑی شاعرہ ہے ( خاکم بدہن عمر میں نہیں )اس نے بھی مردوں میں نئی روح پھونک دی ہے۔ اس نے عور ت کو مرد کے ساتھ شانہ شبانہ چلنے کاحوصلہ عطاکیا ہے اور نوجوان نسل میں اس قدر خود اعتمادی پیدا کر د ی ہے کہ کل تک جو لڑکیاں ہربات پہ ’’وائی ‘‘ یا ’’ناٹ‘‘ کہتی تھیں ، اب صرف ’’وائی ناٹ‘‘ کہتی ہیں۔ پہلی خاتون دیکھی جو شادی کے بعد بھی اتنی ہی مقبول ہے بلکہ اب تو اس کے پاؤں کے نیچے جنت بھی ہے ،لوگ اب بھی اس کے ساتھ دوزخ میں جانے کو تیار ہیں۔ میں نے اسے بہت کم ہنستے ہوئے دیکھا ہے ، جس کی ایک وجہ مسٹر الویہ بتاتا ہے کہ میں نے اسے بہت کم دیکھا ہے ۔ مردوں میں اس کی مقبولیت کے کئی اسباب ہیں : ایک سبب تو یہ ہے کہ یہ عورت ہے ، دورسری ، تیسری اور چوتھی وجہ بھی یہی ہے جبکہ ایک سبب یہ بھی ہے کہ اس نے اپنی شاعری میں عورت کو فطری خواہشات کےساتھ پیش کیا ہے اور مسٹر الو کا کہنا ہے کہ عورت کو فطری خواہشات کے ساتھ دیکھنا ہر مرد کی فطری خواہش ہوتی ہے ۔
یہ اگر عورت کی بجائے کوئی ڈیپارٹمنٹ ہوتی تو یقیناً فائن آرٹس ڈیپارٹمنٹ ہوتی۔ مارکیٹ ہوتی تو لبرٹی، موسم ہوتی تو خزاں و بہار کا سنگم ہوتی، دریا ہوتی تو چناب، روڈ ہوتی تو مال روڈ، سیاستدان ہوتی تو بے نظیر، ثقافت ہوتی تو ہندی، نظام ہوتی تو جمہوریت کا ، جسم کا کوئی عضو ہوتی تو دل ، کوئی جذبہ ہوتی تو محبت ہوتی اور اگر انسانی زندگی کا کوئی لمحہ ہوتی توقیامت ہوتی ۔
سائنس اور ادب دو بالکل مختلف میدان ہیں۔ اس نے متضاد سروں کو ملانے کی کوشش میں ایک ڈاکٹر سے شادی کر لی ۔ایک طرف دل ہی دل تھا اور دوسری طرف دماغ ہی دماغ۔ یہ عشق و محبت سے دو چار ، وہ دو اوردو چار ، اس نے اسے سمجھانے کی بہتیری کو شش کی کہ:
اچھا ہے دل کے پاس رہے پاسبان عقل
لیکن کبھی کبھی اسے تنہا بھی چھوڑ دے
اس بے ذوق نے اس جذبے کو بھی سائنسی انداز میں پرکھنے کی کوشش کی اور اسے ہی چھوڑ گیا۔ سچ ہے : ’’ احساس مروت کو کچل دیتے ہیں حالات‘‘ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اسنے اس کی ابتدائی شاعری میں مذکور ہجر و فراق کو حقیقی رنگ دینے کی کوشش کی ہو اور یا پھر یہ بھی ممکن ہے کہ تالی دونوں ہاتھوں سے بجی ہو کیونکہ اس کا اپنا مؤقف بھی تو ہمیشہ سے یہی رہا ہے:
یہ دل میسر و موجود سے بہلتا نہیں
کوئی تو ہو جو مری دسترس سے باہر ہو
اس کی شاعری آسودہ حال لڑکی کی خواہشوں اور غریب عورت کی حسرتوں کی تصویر ہے ۔ ’’خوشبو‘‘ میں ہمیں ایک الہڑ اور چنچل دوشیزہ من مانیاں کرتی ہوئی نطر آتی ہے ۔’’صد برگ ‘‘ میں ایک حساس لڑکی کی آسودہ و نا آسودہ خواہشات ، ’’ خودکلامی ‘‘ میں سوچ بچار کر تی ہوئی خاتون اور ’’ انکار ‘‘ میں فیصلے صادر کرتی ہوئی عورت نظر آتی ہے۔ اس دنیا میں غزل کی وجہِ آغاز عورت اور عورت کی وجہِ آغاز مرد ہے اور اب یہ تینوں ایک تیسرے کے لئے لازم و ملزوم بن چکے ہیں۔اگر اردو شاعری کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو مردوں کے ساتھ ساتھ خواتین شاعرات کی بھی کمی نہیں مگر ان میں اکثر کے ہاں شاعرہ بولتی ہے تو عورت غائب ہو جاتی ہے اور عورت کی آواز سنائی دیتی ہے توشاعرہ پس منظر میں چلی جاتی ہے ، یہ پہلی خاتون شاعرہ ہے جس کے ہاں عورت اورشاعرہ قدم سے قدم ملا کر چلتی ہوئی محسوس ہوتی ہیں۔
(اشفاق احمد ورک اردو کے معروف مزاح نگار،استاد اور محقق ہیں)