پارلیمنٹ میں وقفۂ سوال پرحزب اختلاف کی نصف جیت ، تحریری جوابات دیئے جائیں گے

نئی دہلی:پارلیمنٹ کے آئندہ اجلاس میں وقفہ ٔسوال کے خاتمے پرزبردست ہنگامہ آرائی کے بعد حکومت نے کہا ہے کہ وہ تحریری سوالات کی اجازت دے گی ، جس کا مطلب ہے کہ تحریری جوابات موصول ہوں گے۔ اہم موڑ حکومت کے اس دعوے کے بعد سامنے آیا ہے کہ حزب اختلاف کے لیڈروں سے بات چیت کے بعد ہی وقفۂ سوال روک دیا گیا ہے۔ ترنمول کانگریس کے ڈیرک او برائن کے علاوہ کسی نے بھی اعتراض نہیں اٹھایا تھا۔ مرکزی وزیر پرہلاد جوشی نے یہ بات کہی ہے۔ انہوں نے کہاہے کہ لوک سبھا میں ٹی ایم سی رہنما سودیپ بندووپادھیائے اس اقدام پر راضی ہوگئے ہیں۔ پارلیمانی امور کے وزیرنے بتایا کہ یہ اچھا نہیں ہے کہ اتفاق رائے کے بعد ، رہنما عوامی طور پر یہ کہنا شروع کردیں کہ وہ راضی نہیں ہیں۔پانچ ماہ کے وقفے کے بعد 14 ستمبر سے شروع ہونے والے پارلیمنٹ کے مختصر اجلاس میں وقفۂ سوال ملتوی کرنے کا منصوبہ ہے۔ اس پربہت سے لیڈروں نے حکومت پر الزام لگایا ہے کہ وہ اپوزیشن کی آواز دبانا چاہتی ہے۔ارکان پارلیمنٹ کی طرف سے لائے گئے بلوں کے لیے ایک گھنٹہ طے کیا گیا ہے۔ وقفۂ صفرمیں ممبران عوامی اہمیت کے امور کو اٹھاسکیں گے۔ اسے 30 منٹ تک محدود کردیاگیاہے۔