پارلیمنٹ میں اٹھا مطالبہ:لاک ڈاؤن کی وجہ سے بے روزگار افراد کو ہر ماہ ملنا چاہیے15000 روپئے

نئی دہلی:پارلیمنٹ کے مون سون سیشن کے دوسرے دن منگل کو راجیہ سبھا میں ایس پی ممبررام گوپال یادو نے کورونا وائرس اور لاک ڈاؤن کی وجہ سے بڑے پیمانے پر ہوئے بے روزگار اورخودکشی کے بڑھتے ہوئے معاملے کا ذکر کیا۔ یادو نے حکومت سے درخواست کی کہ وہ کورونا وائرس کو روکنے کے لئے نافذ کئے گئے لاک ڈائون کی وجہ سے اپنی زندگی گنوانے والے افرادکے اہل خانہ کو ہر ماہ 15000 روپئے دے۔ ایس پی کے رکن پارلیمنٹ رام گوپال یادو نے اس مسئلے کو اٹھاتے ہوئے کہا کہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے کروڑوں لوگوں کا ذریعۂ معاش متاثر ہوا اور بہت سے کنبے بکھر گئے۔ ایسی صورت میں بچوں کی تعلیم کا معاملہ تو بہت دور کی بات ہے ،انہیں بھوکا سونے پر مجبور کردیا گیاہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وبا کی وجہ سے لوگوں میں ذہنی تناؤ اور مایوسی بڑھ رہی ہے۔ ایسی صورت میں لوگ خود کشی کی طرف بڑھ رہے ہیں۔اس معاملے میں نوئیڈا کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 44 افراد اس بیماری کی وجہ سے ہلاک ہوئے جبکہ گزشتہ چند مہینوں میں 165 افراد نے خودکشی کی۔ یادو نے یہ کہتے ہوئے بے روزگار لوگوں کو ہر ماہ 15 ہزار روپے دینے کا مطالبہ کیا کہ اس سے لوگوں کو کچھ مدد ملے گی اور وہ زندہ رہ سکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ مغرب سے مشرق تک ہر حکومت یہ کام کر رہی ہے ، ہمیں بھی ایسا کرنا چاہئے۔دماغی صحت اور خودکشی کے معاملے کو اٹھاتے ہوئے کانگریس کے سینئر رہنما آنند شرما نے کہا کہ ہندوستان میں کورونا کی وجہ سے صورتحال مزیدسنگین ہوگئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک اندازے کے مطابق ہر سال دنیا بھر میں آٹھ لاکھ افراد خودکشی کرتے ہیں اور ہندوستان میں یہ تعداد تقریباًایک لاکھ انتالیس ہزار ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ خودکشی کے کل معاملوں میںسے 15 فیصد ہندوستان میں ہوتا ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق 2019 میں ہندوستان میں ایسے معاملات کی تعداد میں چار فیصد اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں ساڑھے تین منٹ میں خودکشی کا ایک معاملہ پیش آتا ہے، جو انتہائی افسوسناک ہے۔