پارلیمنٹ کے پہلے اجلاس کے 68 سال مکمل ہونے پرنائب صدر اور لوک سبھا اسپیکر کی مبارک باد

نئی دہلی:نائب صدر اور راجیہ سبھا کے چیئرمین ایم وینکیا نائیڈو اور لوک سبھااسپیکراوم برلا نے پارلیمنٹ ہاؤس کادورہ کیااور پارلیمنٹ کے پہلے اجلاس کے 68 سال پورے ہونے پرکہاہے کہ ملک میں گذشتہ سات دہائیوں میں متعدد رکاوٹوں کا سامنا کرنے کے باوجود ، آئین اور جمہوری حکمرانی کو مضبوط بنایاگیاہے۔ لوک سبھا سیکریٹریٹ کی پریس ریلیز کے مطابق ہندوستان کی پارلیمنٹ کے پہلے اجلاس کے 68 ویں سال کے موقع پر ، نائب صدر ایم وینکیا نائیڈو ، لوک سبھا اسپیکر اوم برلا ، پارلیمانی امور اور کوئلہ اور کانوں کے وزیر پرہلاد جوشی ، پارلیمانی امور کے وزیر مملکت ارجن رام میگھوال اور وزیر خارجہ اور پارلیمانی امورکے وزیرمملکت وی مرلی دھرن نے لوک سبھا اور راجیہ سبھا اور تاریخی سنٹرل کے ہالوں کا دورہ کیا۔ اس موقع پر نائیڈواوربرلا نے دونوں ایوانوں کی پہلی میٹنگ کی مختلف یادوں اور تجربات پر تبادلہ خیال کیا۔قبل ازیں ، برلا نے اس موقع پروطن عزیز کو مبارکباد پیش کی اور کہا کہ آج کی ہندوستان کی جمہوریت کے لیے بہت اہم ہے۔ برلانے کہاہے کہ آزادی کے حصول کے بعد ، پہلی بار 13 مئی 1952 کو پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں یعنی لوک سبھا اور راجیہ سبھا کا اجلاس ہوا۔برلانے کہاہے کہ ہندوستان قدیم زمانے سے ہی مضبوط جمہوری روایات کا حامل ہے اور ہمارے جمہوری اداروں نے ملک کی تعمیر میں بہت اہم کردااداکیاہیا۔انہوں نے کہا ہے کہ ہماری پارلیمنٹ آئین کے اعلیٰ نظریات ، شراکت دار جمہوریت ، سماجی انصاف اوروطن عزیز کو ان کے مناسب معاشی ، معاشرتی ، سیاسی اور ثقافتی حقوق دینے کے مقصد کے حصول میں اہم کردار ادا کررہی ہے۔