پارلیمنٹ میں امت شاہ نے کہا:مناسب وقت پر جموں و کشمیر کو مکمل ریاست کا درجہ دیں گے،اویسی کے سیکولرزم پر سوال اٹھایا

نئی دہلی:مرکزی وزیرداخلہ امیت شاہ نے ہفتہ کے روز کہاہے کہ جموں کشمیر تشکیل نو (ترمیمی) بل کا ریاست کی حیثیت سے کوئی تعلق نہیں ہے اورمناسب وقت پر جموں و کشمیر کو مکمل ریاستی حیثیت دی جائے گی۔انھوں نے حساب مانگنے والوں پروہی روایتی جواب دیااورستربرس کاحساب مانگا۔وزیر داخلہ نے کہا کہ میں اس ایوان کو ایک بار پھر یہ بتانا چاہتا ہوں کہ برائے مہربانی جموں و کشمیرکی صورتحال کوسمجھیں۔سیاست کرنے کے لیے کوئی بیان نہ دیں ، جو عوام کو گمراہ کرتاہو۔امت شاہ نے کہا کہ یہاں تک کہ سرکاری افسرکو بھی ہندو، مسلمانوں میں بانٹ دیتے ہیں۔ کیا کوئی مسلمان افسرہندو عوام کی خدمت نہیں کرسکتا یا کوئی ہندو افسر مسلمان عوام کی خدمت نہیں کرسکتا؟ انہوں نے کہا کہ افسرکو ہندوؤں اور مسلمانوں میں تقسیم کرتے ہیں اور خود کو سیکولر کہتے ہیں۔اہم بات یہ ہے کہ اے آئی ایم ایم کے رکن اسمبلی اسدالدین اویسی نے یہ الزام لگایا تھا کہ آبادی کے لحاظ سے جموں و کشمیر میں مسلم افسران کی تعداد کم ہے۔جموں و کشمیر تشکیل نو (ترمیمی) بل ، 2021 پر لوک سبھا میں ہونے والی بحث کے جواب میں وزیر داخلہ نے کہا کہ اس بل میں کہیں بھی نہیں لکھا گیا ہے کہ اس سے جموں و کشمیر کو ریاست کا درجہ حاصل نہیں ہوگا۔انہوں نے کہا کہ میں ایک بار پھر کہتا ہوں کہ اس بل کا جموں و کشمیر کی ریاستی حیثیت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ریاست کو مناسب وقت پر ریاستی حیثیت دی جائے گی۔دباؤکے تحت 4 جی انٹرنیٹ سہولیات کی بحالی کے الزام کے جواب میں امت شاہ نے کہا ہے کہ اسد الدین اویسی نے کہاہے کہ 2G سے 4G انٹرنیٹ سروس غیر ملکیوں کے دباؤ میں چالو نہیں کی گئی ہے۔ انھیں نہیں معلوم کہ یہ یو پی اے کی حکومت نہیں ہے۔یہ نریندر مودی کی حکومت ہے ، جو ملک کے لیے فیصلے کرتی ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ یہاں کہا گیا تھا کہ آرٹیکل 370 کے خاتمے کے وقت کیے گئے وعدوں کا کیا ہوا؟ میں اس کا جواب دوں گا ، لیکن میں یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ آرٹیکل 370 کو ہٹائے ہوئے صرف 17 ماہ ہوئے ہیں ، کیا آپ نے 70 سالوں کاحساب دیا۔امت شاہ نے کہاہے کہ جن لوگوں کو نسل در نسل ملک پر حکمرانی کرنے کا موقع ملا ، ان کے ہاتھوں میں دیکھیں اور دیکھیں کہ کیاآپ ہم سے 17 ماہ کا حساب طلب کرنے کے مستحق ہیں؟