پرم ویرسنگھ کا ہٹایا جانا صحیح قدم ـ شکیل رشید

(ایڈیٹر روزنامہ ممبئی اردو نیوز)
ممبئی کے سابق پولس کمشنر جولیو ایف ریبرو کا کہنا سچ ثابت ہوا ، آئی پی ایس پرم ویر سنگھ ممبئی کے پولس کمشنر کے عہدے کے لیے ’ نامناسب‘ ثابت ہوئے ۔ چلیے دیر آیددرست آید ۔ ادھو ٹھاکرے کی مہاوکاس اگھاڑی کی حکومت نے پرم ویر سنگھ کو پولس کمشنر کے عہدے سے ہٹاکر ان کی جگہ ایک باصلاحیت پولس افسر ہیمنت نگرالے کو دے دی ہے ۔ پرم ویر سنگھ کو ہٹانے کے بعد انہیں ڈی جی ہوم گارڈ کا عہدہ دیاگیا ہے ۔ اس عہدہ پر عام طور پر کسی پولس افسر کو’سزا‘ کے طور پر تعینات کیا جاتا ہے ۔ شینابورا مرڈر کیس میں راکیش ماریا کو جب پولس کمشنر کے عہدے سے ہٹایا گیا تھا تب انہیں ڈی جی ہوم گارڈ ہی بنایاگیا تھا اور وہ اسی عہدے پر رہتے ہوئے سبکدوش ہوئے تھے ۔ ممبئی پولس کے کمشنر کے عہدے سے پرم ویرسنگھ کو ہٹائے جانے کے اثرات دوطرح سے پڑسکتے ہیں ۔ اوّل تو یہ کہ حکومت کے اس اقدام کی عوام میں سراہنا کی جاسکتی ہے ۔سراہنا کی جانی چاہیے کہ حکومت نے نہ اپنی ناک بچانے کی کوشش کی اور نہ ہی تبادلہ کیے گیے پولس کمشنر پرم ویر سنگھ کو بچانے کی ، بلکہ اسسٹنٹ پولس انسپکٹر سچن وازے کی مکیش امبانی معاملے میں گرفتاری کے بعد قومی تفتیشی ایجنسی ( این آئی اے) نے جو ثبوت اکٹھا کیے ان کی روشنی میں اسے اس حقیقت تک پہنچنے میں دیر نہیں لگی کہ آئی پی ایس پرم ویرسنگھ نے حکومت سے بہت کچھ چھپانے کی کوشش کی تھی اس لئے اب پرم ویر سنگھ کا تبادلہ ضروری ہے ۔ مکیش امبانی کی رہائش گاہ کے قریب دھماکہ خیز مواد سے بھری اسکارپیو کی ضبطی کے بعد سچن وازے نے جو تفتیش شروع کی تھی اس میں جگہ جگہ جھول تھے اور کار مالک من سکھ ہیرن کی خودکشی یا مبینہ قتل کے بعد اس کی بیوہ کے اس الزام نے کہ کارسچن وازے کے استعمال میں تھی ممبئی پولس کو کٹگھڑے میں لاکر کھڑا کردیا تھا۔ پرم ویر سنگھ کو اسی وقت چاہیے تھا کہ وہ سچن وازے کے ہاتھ سے تفتیش واپس لے لیتے ، لیکن بجائے اس کے ان کی اور وازے کی تین دن مسلسل لمبی لمبی ملاقاتیں ہوتی رہیں، ان ملاقاتوں میں دونوں کے درمیان کیا باتیں ہوئیں یہ اب تک سامنے نہیں آ یا ہے ۔ واقف کار ذرائع یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ مکیش امبانی کی رہائش گاہ کے قریب اسکارپیو کی برآمدگی اور من سکھ ہیرن کی خودکشی معاملے میں سچن وازےاور پرم ویر سنگھ نے وزیراعلیٰ ادھوٹھاکرے اور ریاستی وزیر داخلہ انیل دیشمکھ سے بہت کچھ چھپایا ہے ۔ اس کا ایک مطلب یہ ہوسکتا ہے کہ دونوں نے مل کر اندر ہی اندر خود کو بچانے کے لیے کوئی کھچڑی پکائی تھی اور کھچڑی پکاتے ہوئے ممبئی پولس کی ساکھ کو تو داؤ پر لگایاہی تھا ریاستی سرکار کے قدموں کو بھی متزلزل کردیا تھا۔۔ جب حکومت کو کھچڑی کا پتہ چلا تو اس نے پرم ویر سنگھ کو اولین فرصت ہی میں الوداع کہہ دیا۔اس عمل سے ریاستی حکومت کو سنبھلنے کا موقع مل سکتا ہے ۔ لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ ممبئی پولس میں ’کلین اَپ آپریشن‘ کو بغیر کسی دباؤ اور روک ٹوک کے چلنے دیا جائے ، کرپٹ اور متعصب پولس افسران کو باہر کی راہ دکھائی جائے اور جس معاملے میں سچن وازے گرفتا ر اور پرم ویر سنگھ ہٹائے گئے ہیں اسے منطقی انجام تک پہنچنے دیا جائے۔پرم ویر سنگھ کو ہٹانے جانے کا دوسرا اثر سیاسی ہوسکتا ہے ۔ بی جے پی اس تبادلے پر اپنی پیٹھ تھپتھپا سکتی ہے اور ریاستی حکومت کو متزلزل کرنے کی کوششیں تیز کرسکتی ہے۔ لیکن سچ یہی ہے کہ بی جے پی نے مرکز کی مودی سرکار کی ’گرفت‘ میں جو ایجنسیاں ہیں ان کا استعمال ہمیشہ ان ریاستوں کو ہراساں اور پریشان کرنے کے لئے کیا ہے جہاں بی جے پی کی سرکاریں نہیں ہیں ۔ من سکھ اور انٹیلیا معاملے میں بھی این آئی اے کو اتارنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ ارنب گوسوامی معاملے میں بھی سی بی آئی کو استعمال کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔ ای ڈی اور انکم ٹیکس کے محکموں کو اپنے مخالفین کو ہراساں کرنے کے لیے استعمال کرنا بھی مودی سرکار کے ان ’کارناموں‘ میں سے ایک ہے جن سے پتہ چلتا ہے کہ بی جے پی اقتدار کی شدید بھوکی ہے ۔ بی جے پی شور مچائے گی ، اپنی پیٹھ تھپتھپائے گی ۔ اسے یہ کرنے دیا جائے اور ڈٹ کر اس کا مقابلہ کیا جائے ۔ اس کے لیے یہ ضروری ہے کہ یہ سرکار اصولوں پر چلے ، کرپٹ پولس یا سرکاری افسران کواہم عہدوں سے دور رکھے اور کسی کو بھی بچانے کی کوشش نہ کرے ۔ اور سب سے اہم یہ کہ جن پولس اور سرکاری افسران پر سنگین الزامات میں مقدمات ہیں انہیں قطعی بحال کرنے کی کوشش نہ کی جائے ۔ نہ خواجہ یونس کا مبینہ قاتل سچن وازے بحال کیا جاتا نہ یہ نوبت آتی ۔

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)