پانی پت میں مسلم نوجوان کی ماب لنچنگ ،بے قابو بھیڑ نے ہاتھ کاٹ دیا، پولیس نے ایف آئی آر تک درج نہیں کی

جمعیت علماکے وفد کی متاثرہ خاندان سے ملاقات،صوبائی و مرکزی حکومتوں سے ملزموں کے خلاف فوری کارروائی کا مطالبہ
دیوبند،(سمیر چودھری) ہریانہ کے پانی پت میں کام کی تلاش میں گئے ایک نوجوان پر کچھ نامعلوم شرپسندوں نے جان لیوا حملہ کرکے اسے شدید طورپر زخمی کردیا ،اتنا ہی نہیں بلکہ متاثر نوجوان کا ایک ہاتھ بھی کاٹ دیاگیا ،واردات کو انجام دینے کے بعد ملزمان نوجوان کو مردہ سمجھ کر ریلوے لائن کے قریب پھینک دیا۔ متاثرہ شخص کے اہل خانہ کا کہنا ہے اتنے بڑے واقعہ کے باوجود پانی پت پولیس اس سلسلہ میں کوئی کارروائی نہیں کررہی ہے۔ضلع کے قصبہ نانوتہ کے باشندہ اخلاق سلمانی کے ساتھ ہریانہ کے پانی پت میں درندوں نے جو انسانیت سوز سلوک کیا وہ نہایت شرمناک ہے ۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق پانی پت میں کام کی تلاش میں گئے اخلاق کی پارک میں بیٹھے کچھ فرقہ پرستوں سے کسی بات کو لیکر کہاسنی ہوگئی ،جس کے بعد بے قابو بھیڑ نے اخلاق کو گھیر کر مارنا پیٹنا شروع کردیا، حد درجہ ظلم کے بعد اس کاہاتھ کاٹ دیا اورمردہ سمجھ کر اسے ریلوے لائن کے کنارے پھینک کر فرار ہوگئے، اخلاق سلمانی روہتک کے ہسپتال میں داخل ہے جہاں اس کی حالت تشوشناک بنی ہوئی ہے ۔اس واقعے کی اطلاع پرجمعیۃ علماء تحصیل رامپور منیہاران کے عہدیداران نےمتاثرہ خاندان سے ملاقات کرکے اظہار ہمدردی کی اور ہریانہ حکومت سے مطالبہ کیاہے کہ ان شرپسندوں کو سخت سے سخت سزا دے۔ آل انڈیا جماعت سلمانی برادری کے اکرام سلمانی نے بتایا کہ وہ اور اس کا بھائی شہر میں سیلون کی دکان کرتے تھے۔ دونوں بھائی لاک ڈاؤن میں بے روزگار ہوگئے۔ اکرام نے بتایا کہ تقریباً ہفتے بھر قبل چھوٹا بھائی 23؍ سالہ اخلاق کام کی تلاش میں پانی پت (ہریانہ) گیا تھا۔ وہ پانی پت کے کشن پور علاقے کے چوکی پارک میں بیٹھا تھا۔ اکرام نے بتایا کہ اس دوران پارک میں آئے دو نوجوانوں سے اسکے بھائی کی کچھ کہاسنی ہوگئی ، اس وقت تو یہ نوجوان وہاں سے چلے گئے لیکن کچھ دیر بعد دونوں نوجوان مزید نوجوانوں اور ایک خاتون کے ساتھ وہاں پہنچے اور انہوں نے اس کے بھائی کو یرغمال بنا کر اس کو زبردست زدوکوب کیا اور دھاردار ہتھیاروں سے اس کا آدھا دایاں ہاتھ کاٹ دیا،شرپسندوں نے اخلاق کے ساتھ ظلم کی تمام حدیں پار کردیں،اس کے جسم کے ہر حصہ پر چوٹ کے شدید نشانات ہیں۔ اکرام نے بتایا کہ ہوش میں آنے پر اخلاق نے راہگیر کی مدد سے کسی طرح انھیں فون کیا اورواقعہ سے آگاہ کیا۔ اکرام نے اپنے تعلق والوں سے فون کرکے بھائی کو اسپتال میں داخل کرایا اور کنبہ کے افراد کے ساتھ موقع پر پہنچا۔ اکرام نے الزام لگایا کہ اس نے پانی پت کے تھانے میں شکایت کی، لیکن کوئی سماعت نہیں ہوئی۔ بتایا کہ روہتک (ہریانہ) کے ایک اسپتال میں اس بھائی کا علاج چل رہا ہے۔ موصولہ اطلاع کے مطابق اس معاملہ میں ہریانہ پولیس نے خبر لکھے جانے تک ایف آئی آر تک درج نہیں کی ہے۔ اکرام سلمانی نے ہریانہ حکومت،مرکزی حکومت، ڈی جی پی ہریانہ اور پولیس سے مانگ کی ہے کہ انہیں انصاف فراہم کیا جائے اور مجرموں کے خلاف سخت سے سخت کارروائی عمل میںلائی جائے۔اس اندوہناک واقعہ کی اطلاع پرجمعیت علماءکے تحصیل صدر مفتی محمد عارف مظاہری اور مجلس منتظمہ کے رکن مولانا شمشیر قاسمی کی قیادت میں نانوتہ پہنچ کر متاثرہ نوجوان کے والد فقیرہ سلمانی سے ملاقات کی اور اس انسانیت سوز واقعہ پر افسوس کا اظہار کیا اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ جن شرپسندوں نے اس واردات کو انجام دیا ان کو سخت سے سخت سزا دی جائے۔مولانا شمشیر قاسمی نے کہا کہ روز بروز اسطرح کے واقعات کا رونما ہونا حکومت کی بڑی ناکامی ہے، ایسا لگتا ہے اقتدار میں بیٹھے لوگوں کے نزدیک انسانی جانوں کی کوئی قیمت نہیں ہے ۔وفد میں شامل قاری شوقین، مولانا فرقان،حاجی جنید مادھوپور،قاری عبد الرحمن صدیقی اور قاری صابر وغیرہ نے بھی متاثرہ خاندان سے اظہار ہمدردی کی ۔