پیسے ہی نہیں ، زیورات کی زکوٰۃ کیسے ادا کروں؟ ـ ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی

 

ایک خاتون کا میسیج آیاـ ہمارے درمیان یہ باتیں ہوئیں :

 

وہ : میری شادی کو ایک برس ہونے کو ہےـ میری امّی کی طرف سے مجھے کچھ زیورات ملے تھےـ میں نے اپنے شوہر سے ان کی زکوٰۃ ادا کرنے کو کہا تو انھوں نے منع کردیاـ ان کا کہنا ہے کہ "جو تنخواہ ملتی ہے ، وہ مہینے کے آخر تک خرچ ہو جاتی ہے ، اس لیے میں تمھارے زیورات کی زکوٰۃ ادا نہیں کرسکتاـ” ایسے حالات میں میں کیا کروں ؟

 

میں : آپ کے صاحب نے بالکل صحیح کہاـ جس کے زیورات ہیں وہ خود ان کی زکوٰۃ ادا کرےـ شوہر کیوں ادا کرے ؟

 

وہ : میرے پاس کچھ پیسے ہی نہیں ہیں ، میں کہاں سے ادا کروں گی؟

 

میں : اگر آپ کو زکوٰۃ ادا کرنے کا احساس ہوتا تو سال بھر پہلے سے اس کی فکر ہوتی ـ شوہر سبزی ، پھل ، سودا وغیرہ لانے کے لیے کچھ پیسے دیتا رہتا ہوگا ، اس میں سے کچھ بچاتیں ـ ساس سسر اور دوسرے سسرالی رشتے داروں کی طرف سے کچھ ملتا ہوگا ، اس میں سے کچھ بچاتیں ـ ماں باپ کی طرف سے ملتا رہتا ہوگا ، اس میں سے کچھ بچاتیں ـ دوسرے رشتے داروں کی طرف سے ملتا ہوگا ، اس میں سے کچھ بچاتیں ـ اس طرح ایک برس کے عرصے میں آپ کے پاس اتنا پس انداز ہوجاتا کہ آسانی سے اپنے زیورات کی زکوٰۃ ادا کرلیتیں ـ

 

وہ : مسئلہ یہ ہے کہ ہمارا مشترکہ خاندان ہےـ چار بھائی اپنی والدہ کے ساتھ رہتے ہیں ـ سبھی اپنی تنخواہ والدہ کو دیتے ہیں اور وہی گھر کا نظام چلاتی ہیں ـ ہم چار بہوؤں کو ایک پیسہ نہیں ملتاـ صرف والدین کے گھر سے ہمیں جو کچھ ملتا ہے وہی ہوتا ہے اور وہ بھی جلد ختم ہوجاتا ہےـ

 

میں : یہ تو درست نہیں ہے کہ چاروں بہوؤں کو جیب خرچ کے طور پر ایک پیسہ بھی نہ دیا جائےـ

 

وہ : اس سلسلے میں ہم کچھ کہہ بھی نہیں سکتےـ زباں بندی کا قانون نافذ ہےـ

 

میں : یہ بالکل غیر اسلامی رویّہ ہےـ مشترکہ خاندان میں رہنا مجبوری ہو تو مصارف کو آپس میں تقسیم کرلینا چاہیےـ ہر بہو کا حق ہے کہ ضروری مصارف کے لیے اسے کچھ رقم دی جائےـ ساس اور شوہر دونوں کو اس کی فکر کرنی چاہیےـ

 

وہ : میری سسرال میں زیورات پر زکوٰۃ ادا کرنے کا رواج نہیں ہےـ کبھی کسی نے زکوٰۃ ادا نہی کی ـ

 

میں : اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیجیے ، کہ اس نے آپ کو اس کی توفیق ادا کی اور آپ کو اس کی فکر ہےـ

 

وہ : میری والدہ نے کہا ہے کہ اگر تم کہو تو ہم تمہارے زیورات کی زکوٰۃ نکال دیں ـ

 

میں : اس بار آپ کی والدہ زکوٰۃ ادا کرنے پر تیار ہیں تو ہاں کردیجیے _ لیکن اگلے برس کے لیے ابھی سے تھوڑا تھوڑا پس انداز کیجیے ، تاکہ کسی کے سامنے ہاتھ نہ پھیلانا پڑےـ

 

وہ : جی بہت بہتر ، جزاک اللہ خیراً کثیراً ـ

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*