پیغام آفاقی کی تخلیقات کا فلسفیانہ اسلوب اور دانشوارنہ اظہارقابل قدر

تسخیر فاؤنڈیشن اور دی ونگس فاؤنڈیشن دہلی کے زیر اہتمام منعقد پروگرام میں مقررین کا اظہار خیال
نئی دہلی:عظیم ناول نگار پیغام آفاقی کے یوم وفات پر تسخیر فاؤنڈیشن اور دی ونگس فاؤنڈیشن دہلی کے زیر اہتمام دوروزہ بین الاقوامی آن لائن سیمینار کا انعقاد کیا گیا جس میں ملک وبیرون ممالک کے تقریباً تین درجن سے زائد ناقدوں،دانشوروں اور ریسرچ اسکالروں نے اپنے مقالات اور خطبات پیش کیے ۔ان دانشوروں نے تسلیم کیا کہ پیغام آفاقی کے فکشن میں دانشوری کا ثبوت ملتا ہے۔اپنی تخلیقات میں انھوں نے فلسفیانہ فکر کو بڑی اہمیت دی ۔جب اردو فکشن میں ماضی پرستی کا زور تھا تو انھوں نے ’مکان‘ جیسا ناول لکھا۔ آزادی کے بعد کے اکثر ناولوں میں تقسیم وطن کا نوحہ موجود ہے مگر آفاقی نے انحراف کرتے ہوئے ’’مکان‘‘ جیسا بہترین ناول تخلیق کیا۔ اس سیمینار میں پروفیسر غضنفر علی، پروفیسر انور پاشا،پروفیسر شافع قدوائی، پروفیسر ابن کنول،پروفیسر خواجہ محمد اکرام الدین،پروفیسر شہزادا نجم ،پرو فیسر اسلم جمشید پوری ، پروفیسر مولا بخش، ڈاکٹر صفدر امام قادری، پروفیسر اشرف کمال پاکستان وغیرہ نے خصوصی طور پر پیغام آفاقی کی ادبی خدمات پر روشنی ڈالی ۔ ان میں سے کئی مقررین نے کہا کہ پیغام آفاقی بے باک تھے ۔ انھوں نے باضابطہ تنقید نہیں لکھی مگر ان کی تقریروں اورگاہے گاہے منظر عام پر آنے والی چھوٹی چھوٹی تنقیدی تحریروں میں ان کے تنقیدی نظریات ابھرکرسامنے آتے ہیں۔ مقررین نے کہا کہ پیغام آفاقی کی تخلیقات میں ٹھہراؤ کیفیت پائی جاتی ہے۔ پیغام نے تانیثی مزاحمت کے تناظر میں نیرا جیسا کردار اردو ناول کو دیا۔واضح رہے کہ پیغام آفاقی نے ناول، افسانہ ، شاعری اور ڈرامہ نگاری میں طبع آزمائی کی۔ ان کی زندگی میں ان کے دو ناول ’’ مکان، پلیتہ‘‘، ایک افسانوی مجموعہ ’’مافیا‘‘ اور ایک شعری مجموعہ ’’درندہ ‘‘منظر عام پر آیا تھا ۔ ان کے انتقال کے بعد ان کا ناول ’’ دوست‘‘ شائع ہوا ہے اور ان کی تین غیر مطبوعہ کتابیں جلد قارئین کے ہاتھوں میں ہوں گی۔20اگست 2016کو ان کا انتقال ہوا تھا۔اس پروگرام میں تقریبا دودرجن مقالات پیش کیے گئے، چند مقالہ نگاروں کے نام یہ ہیں :ڈاکٹر اسرار محمد جمیل ناگپور، نازیہ پروین پاکستان ،ڈاکٹرجنتی جہاںسعودیہ، ڈاکٹر امتیاز احمدعلیمی، ڈاکٹر صالحہ صدیقی جامعہ ملیہ اسلامیہ، محبہ ونمٹوری،صدام حسین، راحلہ پروین اے یم یو،ڈاکٹر رقیہ نبی ، وقارصدیقی ، سکینہ اختر، سہیل سالم کشمیر،ریاض غوری،نعیم النساء ،حارث حمزہ،ذیشان مصطفی جے این یو، الیاس انصاری ڈی یو،شاہجہاں بیگم اے پی، نازیہ ، چنئی،وغیرہ۔ جب کہ ڈاکٹر جاوید حسن، عبدالباری صدیقی اور جاوید عالم نے نظامت کے فرائض انجام دیے۔ مقالہ نگاروں نے پیغام آفاقی کی فکر اور ان کی تخلیقات کا بہترین تجزیہ پیش کیا۔ اس پروگرم میں خصوصی طور پر تسخیر فاؤنڈیشن کے جنرل سکریٹری گلاب ربانی، پروفیسر آفتاب اشر ف، پروفیسر احتشام الدین، ڈاکٹر قسیم اختر ،مسز پیغام آفاقی رضیہ سلطانہ،ڈاکٹر ابرار احمد اجراوی، ڈاکٹر سلمان فیصل،امکان آفاقی، ثنا فاروقی،شیخ ذبیح، ڈاکٹر ذاکر فیضی، اسماعیل پروازکے علاوہ درجنوں کی تعداد میں سامعین وناظرین موجودتھے۔