پہلے نتیش کمار ’ لو جہاد‘پرقانون لائیں،پھر ہم سوچیں گے:سنجے راوت

ممبئی:شیوسینا کے رکن پارلیمنٹ سنجے راوت نے پیر کے روزکہاہے کہ پہلے نتیش کمار کے زیرقیادت بہار حکومت کومبینہ لوجہاد کے خلاف قانون لانے دیں۔ اس کے بعد مہاراشٹرا حکومت اس پرغورکرے گی۔جدیونے گری راج کے سنگھ کے مطالبے پرصاف کر دیاہے کہ ایسے کسی بھی متنازعہ امورپرجدیوبی جے پی کاساتھ نہیں دے گی۔سنجے راوت نے یہ بھی کہاہے کہ بنگال الیکشن کے لیے بی جے پی اس مسئلہ کواٹھارہی ہے۔سنجے راوت نے یہاں نامہ نگاروں کوبتایاہے کہ مہاراشٹر میں بی جے پی کے کچھ سینئر لیڈران لو جہادکے خلاف قانون کا مطالبہ کررہے ہیں۔بی جے پی کے زیر اقتدار کچھ ریاستوں نے اس نام نہادلو جہادکو روکنے کے اپنے منصوبوں کا اعلان کیا ہے۔راوت نے کہاہے کہ شاید بی جے پی مغربی بنگال میں ہونے والے اسمبلی انتخابات کے پیش نظر اس مسئلے کو اٹھا رہی ہے۔راجیہ سبھا ممبرنے کہاہے کہ مہاراشٹرکے بی جے پی کے کچھ نامور لیڈریہ پوچھ رہے ہیں کہ (ریاست میں) لوجہاد کے خلاف کب قانون بنایا جائے گا۔میں نے آج صبح وزیراعلیٰ ادھوٹھاکرے سے بات کی۔شیوسینا کے چیف ترجمان نے کہاہے کہ اس معاملے پرہم صرف یہ کہنا چاہتے ہیں کہ پہلے (بی جے پی کے زیر اقتدار) اتر پردیش اور مدھیہ پردیش میں قانون بننے دیاجائے۔ لیکن جب بہار میں قانون بنتا ہے ، جب نتیش کمار جی بناتے ہیں ، تب ہم اس کا مکمل مطالعہ کریں گے۔راوت نے کہا ہے کہ اس کے بعدہم اس پر مہاراشٹر میں غور کریں گے۔