پہلا بوسہ-خلیل جبران

ترجمہ:نایاب حسن
یہ اس جام کا پہلا گھونٹ ہے،جسے دیوتاؤں نے شرابِ محبت سے لبریز کیا تھا،یہ شک(جو دلوں کو بہکاتا اور غمزدہ کرتا ہے) اور یقین(جو اس کو امیدوں سے بھرکے مسرتوں سے ہم کنار کرتا ہے)کے درمیان حدِ فاصل ہے،یہ زندگی کی روحانی غزل کا مطلع اور انسانِ معنوی کی کہانی کا فصلِ اولین ہے،یہ ایک حلقہ ہے،جو ماضی کے اندھیر کو مستقبل کی تابانی سے مربوط اور جذبات و احساسات کی خاموشی کو ان کی ترنم ریزیوں سے ہم آہنگ کرتا ہے،یہ ایک کلمہ ہے،جس کا چار ہونٹ دل کو تخت،محبت کو بادشاہ اور وفا کو تاج مان کر ورد کرتے ہیں،یہ لطیف لمس ہے،جو بادِ نسیم کی انگلیوں کے گلاب کی پنکھڑیوں پر سے گزرنے کے مشابہ ہوتا ہے ،وہ انگلیاں،جو اپنے جلو میں طویل و لذیذ آہیں اور پوشیدہ شیریں کراہیں لیے ہوتی ہیں،یہ ان لرزشوں کا آغاز ہے،جو دو محبت کرنے والوں کو کم و کیف کی دنیا سے الگ کرکے الہام و اَحلام کی دنیا میں پہنچا دیتی ہیں،یہ گلِ لالہ کا گلِ انار سے امتزاج اور ایک تیسرے نئے وجود کے لیے ان کا باہمی ازدواج ہے۔
اگر پہلی نظر قلبِ انسانی کی زمین میں محبت کے دیوتاؤں کے ذریعے ڈالے گئے بیج کے مشابہ ہے،تو پہلا بوسہ شجرِحیات کی پہلی ٹہنی کے کناروں پر اگنے والے پہلے پھول کے مانند ہے۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*