پنگھٹ پر لڑنے والی خواتین کی طرح ہے بنگال اور مرکز کی لڑائی : شوسینا

ممبئی : شیو سینا پارٹی کے ترجمان سامنا میں اتوار کے روز کے ایڈیٹوریل میں مغربی بنگال حکومت کے ساتھ مرکزی کے حالیہ تنازعہ کا حوالہ دیتے ہوئے مودی کی زیر قیادت مرکز ی سرکار پر ملکی مسائل حل کرنے کی بجائے تیسری طبقے کی سیاست میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا ہے۔ شیوسینا کے ممبر پارلیمنٹ سنجے راوت نے اپنے ہفتہ وار کالم ’روک ٹھوک ‘میں کہا کہ موجودہ مرکزی حکومت اور مغربی بنگال کے درمیان تنازعہ وفاقی نظام حکمرانی کے لیے چیلنج ہے۔ یہ سچ ہے کہ بی جے پی کو حالیہ اختتام پذیر مغربی بنگال کے انتخابات میں ذلت آمیز شکست سے شدید تکلیف ہوئی ہے ، لیکن اس کے بعد مرکزی حکومت کو اس شکست کو دل پر لینے کی ضرورت نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ بنگال کے سابق چیف سکریٹری الپن بندو اپادھیائے کے استعفیٰ پر بنگال حکومت اور مرکز کے مابین آمنا سامنا عمومی نلکے پر پانی کے لیے جھگڑ رہیں خواتین کی طرح ہے۔ خیال رہے کہ وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی اور بندواپادھیائے نے گردابی طوفان’ یاس‘ سے ہونے والے نقصان کا جائزہ لینے کے لیے 28 مئی کو کلائی کنڈا ہوائی اڈے پر منعقدہ پی ایم مودی کے ساتھ طے شدہ میٹنگ کو چھوڑنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس کے بعد سیاسی طوفان برپا ہواتھا۔