پڑھیں گے مولویت،بنیں گے بلڈر کے دلال-محمد علم اللہ

بین الاقوامی شہرت یافتہ دانشور ڈاکٹر ظفر الاسلام خان بڑے حساس مسائل کی طرف توجہ دلاتےرہے ہیں ، ایک عربی پروفیسر کے ذریعے اندریش کمار سے ملاقات کی مسلسل کوششوں کے سلسلے میں انھو ں نے جو کچھ فرمایا ہے وہ چشم کشا ہے ۔ دراصل یہ وہ رویہ ہے جس کا ہم جابجا مشاہدہ کرتے رہتے ہیں ۔ اس کی بنیاد میں بہت سی وجوہات ہو سکتی ہیں لیکن طالع آزمائی اور لذتِ کام و دہن کی تکمیل بنیادی وجہ ہےـ اب اسی کو لیجئے کہ دلی کے اوکھلا علاقے میں یہ آزمودہ نسخہ بن گیا ہے کہ بلڈر حضرات اپنے ساتھ ایک عدد مولوی رکھنے لگے ہیں تاکہ لوگوں کا اعتبار حاصل کیا جا سکے ۔ یہاں پر یہ بات بتانے کی ضرورت نہیں ہے کہ بلڈر حضرات اپنی چرب زبانی سے غریبوں کو اپنے جھانسے میں لیتے ہیں اور دھوکہ دھڑی سے کتنوں کو چونا لگواتے ہیں۔ میں ذاتی طور پر کم از کم چھ ایسے مولویوں کو جانتا ہوں جو صبح سے شام تک کسی پروپرٹی ڈیلر کے پہلو سے لگ کر چلتے ہیں ۔
یہ صورتحال در اصل دو باتیں ثابت کرتی ہیں ۔ پہلی یہ کہ تمام تر خرابیوں کے باوجود آج بھی قوم میں مولوی حضرات کے بارے میں یہ حسن ظن موجود ہے کہ یہ لوگ بے ایمانی نہیں کر یں گے ۔ دوسری بات یہ ثابت ہوتی ہے کہ اس حسن ظن کا فائدہ اٹھانے کے لئے بلڈر اور ان کے تنخواہ دار مولوی یہ نہیں سوچتے کہ ذرا سے نفع کے لیے علما کا اعتبار داؤ پر لگا رہے ہیں ـ اس معاملے میں میں مولویوں کو دوش دینے کے بجائے ان ذمہ دارانِ مدارس کو مجرم مانتا ہوں جو مدارس کے طلبہ کے معاشی مستقبل کے بارے میں قطعی نہیں سوچتے ۔ حالانکہ میرے جیسے لوگ اس طرف توجہ دلاتے رہے ہیں ۔ کل پرسوں معروف اسکالر پروفیسر اختر الواسع کا کالم اسی موضوع پر شائع ہواہے ۔
مدارس کے اساتذہ ، مہتمم حضرات اور فارغین سب کو ایک بات ذہن میں رکھنی ہوگی کہ اپنے پیٹ کی خاطر اگر وہ دینی تعلیمی نظام کی حرمت تار تار کریں گے تو یہ خدا سے غداری کے مترادف ہے ۔ یہاں سے وہاں تک پھیلے مدارس کے مہتمم اپنے بچوں کے معاشی مستقبل کے لئے اس حد تک چلے جاتے ہیں کہ رقومات شرعی کو حرام ، حلال کی تمیز کے بغیر بچوں کے آرام و آسائش ، مغربی تعلیم ، بیٹیوں کے پر تکلف جہیز اور دامادوں کی منہ بھرائی پر بے دریغ خرچ کرتے ہیں ۔ ان ظالموں کو یہ خیال کیوں نہیں رہتا کہ ان کے یہاں عمریں ضائع کرنے والے بچو ں کا معاشی انحصارکس بات پر ہوگا ۔ اگر اس معاملے میں ایسے ہی کٹھ ملا پن روا رکھا گیا تو وہی کچھ نتائج سامنے آئیں گے جو ہم دیکھ رہے ہیں ۔ یعنی پڑھیں گے مولویت ، بنیں گے بلڈر کے دلال!

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*