پڑھا ہے فلسفۂ وحدت الوجود بہت ـ عمیر نجمی

تبھی تو دھندلی ہیں اُس کی، مری حدود، بہت
پڑھا ہے فلسفۂ وحدت الوجود بہت

یہ سن کے مکتبِ وحشت میں داخلہ لیا تھا
پڑھائی کم ہے وہاں اور کھیل کود بہت

اداسیوں کا تعفن رہا وہیں کا وہیں
جلایا کمرے میں لوبان اور عود بہت

جنوں کے مالی ادارے سے قرض مت لینا
میں لے چکا ہوں اور اِس پر ہے شرحِ سود بہت

وہ ذات حق ہے اور اُس پاک ذات کے حق میں
کوئی ثبوت نہیں ہے مگر شہود بہت

قدیم خوابوں کی روحیں مگر نہیں نکلیں
اگرچہ آنکھوں پہ کروائے دم درود بہت

عمیر! شعر میں اب شور ہے بجائے شعور
نمو تو کم ہے سخن میں ترے، نمود بہت

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*