اویسی کا کانگریس، سماج وادی پارٹی اور بی جے پی کے نام پیغام، ’’آپ سب بیٹھ کر طے کرلیں کہ میں کس کا ایجنٹ ہوں‘‘

نئی دہلی(ایجنسیاں): آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ اسد الدین اویسی نے کانگریس، سماج وادی پارٹی اور بی جے پی کے لیے ایک پیغام جاری کیا ہے، جس میں ان پر کی گئی بدزبانی پر اتفاق رائے پیدا کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔ اتر پردیش میں اگلے سال ہونے والے اسمبلی انتخابات میں حصہ لینے کے اپنے فیصلے کے بعد سے ان پارٹیوں کے حملوں کا نشانہ بنے مسٹر اویسی نے آج مزاح کا سہارا لے کر اپنی بات کہی۔
’’آپ نے اتر پردیش کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ کو یہ کہتے ہوئے سنا ہوگا کہ اویسی سماج وادی پارٹی کے ایجنٹ ہیں۔ ایس پی کہتی ہے کہ اویسی بی جے پی کے ایجنٹ ہیں، کانگریس کہتی ہے کہ میں فلاں اور فلاں کی بی ٹیم ہوں۔ میں ان سب سے کہنا چاہتا ہوں کہ بیٹھ جائیں اورمل کر فیصلہ کریں کہ میں کس کا ایجنٹ ہوں‘‘،یہ بات انھوں نےجونپور میں نامہ نگاروں سے کہی۔
یہ کانگریس ہی تھی جس نے گزشتہ سال بہار میں اسمبلی انتخابات کے بعد مسٹر اویسی کو ’’ووٹ کٹوا‘‘ قرار دیا تھا۔ مسٹر اویسی کی پارٹی نے 20 امیدواروں کو سیمانچل علاقے میں کھڑا کیا تھا، جہاں مسلمانوں کی بڑی آبادی ہے۔ وہاں پارٹی نے پانچ سیٹیں جیتیں، مسلم ووٹوں کی تقسیم کا سبب بنی اور خطے میں کلین سویپ کرنے کی کانگریس کی امیدوں کو کچل دیا۔
خبر رساں ایجنسی اے این آئی نے پارٹی کے سینئر لیڈر ادھیر رنجن چودھری کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ’’بہار انتخابات میں اویسی صاحب کی پارٹی کو استعمال کرنے کی بی جے پی کی حکمت عملی ایک حد تک کامیاب ہوئی ہے۔ تمام سیکولر پارٹیوں کو ووٹ کاٹنے والے اویسی صاحب کے بارے میں چوکنا رہنا چاہیے۔‘‘ جبکہ کانگریس لیڈر رندیپ سرجے والا نے انہیں بی جے پی کا ایجنٹ قرار دیا۔
ابھی دو دن پہلے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ نے مسٹر اویسی کو سماج وادی پارٹی کا ایجنٹ بتایا تھا۔ انھوں نے ایک ریلی میں کہا تھا ’’ہر کوئی جانتا ہے کہ مسٹر اویسی ایس پی کے ایجنٹ کے طور پر جذبات بھڑکا رہے ہیں، لیکن اب یوپی فسادات کے لیے نہیں بلکہ فسادات سے پاک ریاست کے طور پر جانا جاتا ہے‘‘ ۔
یہ دعوی کرتے ہوئے کہ پچھلی حکومتوں کے دوران ریاست میں ہر ’’تیسرے یا چوتھے دن‘‘ فسادات ہوتے تھے، انہوں نے کہا ’’میں ہر اس شخص کو خبردار کرنا چاہتا ہوں جو ایک بار پھر سی اے اے (شہریت ترمیمی قانون) کے نام پر جذبات بھڑکانے کی کوشش کر رہا ہے۔‘‘