اویسی صاحب کی اترپردیش میں انٹری ـ مسعود جاوید

مجلس اتحاد المسلمین ایک سیاسی پارٹی ہے دستور ہند نے اویسی صاحب کو یہ حق دیا ہے کہ کسی بھی شہری اور پارٹی کی طرح وہ اور ان کی پارٹی بھی کہیں سے انتخاب لڑ سکتی ہے۔ شرائط پوری کرنے کے بعد ہی الیکشن کمیشن آف انڈیا نے مجلس اتحاد المسلمین کو اہل سیاسی پارٹی کی حیثیت سے اعتراف کیا ہے اس لیے مخصوص طبقہ کی طرف سے پروسی ہوئی "دوسری مسلم لیگ”، "مذہبی خطوط پر تشکیل شدہ پارٹی” اور "فرقہ پرست پارٹی” جیسے فضول کی بحث میں الجھنے اور ان کو کسی ریاست میں انتخابات لڑنے سے روکنے کی بات کرنے کی بجائے ملک و ملت کے مفاد میں ہماری روش کیا ہونی چاہیے اس پر غور و فکر کی ضرورت ہے۔
مہذب دنیا کے تقریباً سبھی کثیر المذاھب اور مختلف تہذیبوں والے ملکوں میں جمہوری نظام اور سیکولرازم سب سے زیادہ کامیاب تجربہ رہا ہے۔۔۔۔۔ سیکولرازم کا واضح مفہوم یہی ہے کہ ریاست (ملک) کا کوئی مذہب نہیں ہوتا ریاست، ریاست کی مشینریاں اور ریاست کے کارکنندگان ، صدر جمہوریہ، وزیر اعظم تمام وزراء ، نوکرشاہی(بیوروکریٹس) سے لے کر ادنیٰ درجے کا ملازم تک اور سبھی سیاسی پارٹیاں کسی مذہب کے فروغ کے لئے یا کسی مذہب کے خلاف کام نہیں کریں گے۔ ہاں ذاتی زندگی میں دوسرے شہریوں کی طرح یہ افراد بھی اپنے اپنے مذہب کی اتباع کرنے کے لیےآزاد ہیں۔
مذکورہ بالا توضیح کی روشنی میں اویسی صاحب اور تمام سیاسی پارٹیوں کے لیے یہ لازم ہے کہ وہ کسی بھی مذہب کی عبادت گاہ کا سیاسی استحصال کرنے سے گریز کریں۔ بدقسمتی سے پچھلے کئی سالوں سے مذہبی خطوط پر صف بندی انتخابی مہم کی جزء لا یتجزاء بن چکی ہے۔ مذہبی استحصال کی خاطر ہی سیاسی جماعتوں کے سربراہان مندروں مسجدوں درگاہوں اور چرچوں کی زیارت کرتے ہیں۔
دوسری جانب مساجد اور مدارس کے ذمے داروں کو چاہیے کہ وہ سیاسی پارٹیوں کے نمائندوں کے استقبال میں بہت محتاط رہیں۔ وہ ان پارٹیوں اور ان کے امیدواروں کے لیے نیک خواہشات کا عمومی کلمات کہ اللہ ملک و ملت کی خدمت کا موقع دے کہ کر آشیرواد دے دے ۔ ان کی باتوں سے ادارے کی طرف سے کسی قسم کی تائید کی یقین دہانی کا تاثر پیدا نہ ہو۔ اس لئے کہ کوئ متعین پارٹی یا مخصوص امیدوار مہتمم مدرسہ اور متولی مسجد کی ذاتی پسند ہو سکتی ہے لیکن ان اداروں سے منتسبین مختلف سیاسی نظریات کے حامل ہوتے ہیں ضروری نہیں وہ مہتمم اور متولی کے سیاسی رجحان سے متفق ہوں۔ اس لئے ایسا کوئی تاثر دینا کہ ” یہاں کے تمام مسلمان آپ کے ساتھ ہیں” نہ صرف غلط بیانی ہوگی بلکہ لوگوں کا الزام درست ٹھہراۓ گا کہ ” مولانا نے سودا کر دیا” !
مذہبی خطوط پر ہندوؤں کی صف بندی کی جس روش کے لیے ہم بی جے پی کو نشانہ بناتے ہیں اگر اویسی صاحب بھی اپنی تقریر و تحریر اور مسجد مدرسہ درگاہ کی سیاسی زیارت کرکے مسلمانوں کی مذہبی خطوط پر صف بندی کرنے کی کوشش کریں گے اس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوگا کہ ریاست کے تمام مسلم ووٹروں کا ووٹ مجلس اتحاد المسلمین کو بھلے نہ ملے ، غیروں کی نظر میں ‘ مذہبی اداروں کے فرمان کی وجہ سے مسلمانوں نے متحد ہو کر اویسی پارٹی کو ووٹ دیا ہے’ کی افواہ پھیلائی جاۓ گی، مسلمانوں پر مذہبی صف بندی کا الزام لگے گا اور مسلمانوں کو ٹکٹ نہ دینے کے لیےدوسری سیاسی پارٹیوں کو عذر ملے گا۔
دستور ہند کے متعدد بنود سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ مذہب کی بنیاد پر کسی قسم کی مراعات کسی مذہب کے ماننے والوں کے لیے نہیں ہے۔ ہاں ذات برادری اور پسماندگی کے نام پر ریزرویشن جیسی کئی مراعات کا حق دستور دیتا ہے۔ اس لیے اکالی دل (سکھوں کی پارٹی)، بہوجن سماج (دلتوں کی پارٹی) سماجوادی (یادو کی پارٹی) ڈی ایم کے (ڈراوڑ کی پارٹی) پر مجلس کو قیاس کرنا درست نہیں ہے۔ مجلس اتحاد المسلمین یا کسی بھی سیاسی پارٹی کا خالص مسلمانوں کی پارٹی بن کر وجود میں آنا ملک و ملت کے مفاد میں نہیں ہے۔

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)