قومی سیاست میں اویسی کا عروج:مضمرات و عواقب کیا ہوسکتے ہیں؟-کانچا اِلائیّا

ترجمہ:نایاب حسن

آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے رہنما اسدالدین اویسی مسلمانوں کے قومی رہنما بننے کی تیاری میں ہیں۔ ان کا انتخابی دائرہ حیدر آباد کے باہر مہاراشٹر اور اب بہار تک پھیل گیا ہے ، جہاں ان کی پارٹی نے اسمبلی اور میونسپل دونوں سیٹیں جیتی ہیں۔ 2019 کے لوک سبھا انتخابات میں مجلس نے حیدرآباد سے باہر مہاراشٹرمیں ایک نشست پر کامیابی حاصل کی تھی۔ مجلس کے عروج کی وجہ دراصل آر ایس ایس اور بی جے پی کا سیاسی اُٹھان ہے ، جو ہندوستانی مسلمانوں کو لگاتار مین اسٹریم سے علیحدہ رکھنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ 2011 کی مردم شماری کے مطابق اس ملک میں مسلمان کل آبادی کا 14.2 فیصد ہیں۔ بعض شہری حلقے ایسے ہیں کہ وہاں اگر مسلمان یک طرفہ ووٹ کریں تو مجلس کئی سیٹیں جیت سکتی ہے۔

اسدالدین کے والد صلاح الدین اویسی (1931-2008) حیدرآباد انتخابی حلقے کی نمایندگی کرنے والے رکن پارلیمنٹ تھے ، ان کی شبیہ قومی سطح کے  جدید مسلم رہنما کی نہیں تھی؛ان کے مقابلے میں ان کے بیٹے اسدالدین اویسی انگلینڈ سے تعلیم یافتہ ہیں ، انھوں نے بیرسٹری کی تربیت بھی حاصل کی ہے ، انھیں گہرا یقین ہے کہ ہندوستان میں مسلمانوں کی فلاح و بہبود کے لیے جمہوریت ایک ضروری سیاسی نظام ہے۔ انھوں نے 2012 میں یو پی اے سے علیحدگی اختیار کی ، جس کے بعد  ان کے قومی عزائم کو برق رفتاری حاصل ہوئی۔ اس کے بعد ہی وہ ایک ایسے مسلم چہرے کے طورپر سامنے آئے جسے بی جے پی / آر ایس ایس نے مسلسل تنقیدوں کا نشانہ بنایا۔

مجلس کے پھیلاؤ میں بی جے پی اور کانگریس دونوں کے لیے گہرے مضمرات پوشیدہ ہیں۔ مسلم سیاسی حلقہ کھڑا کرنے میں ان کی کامیابی کا فائدہ بی جے پی کو ہوگا اور دوسری طرف کانگریس بےحال ہوتی جائے گی۔ اگر مسلمان کانگریس سے دور ہوگئے تو بی جے پی کے ہر ریاست میں کامیاب ہونے کے امکانات بڑھ جائیں گے۔ کچھ علاقائی جماعتیں جیسے سماج وادی پارٹی اور آر جے ڈی بھی شکست سے دوچار ہوں گی؛ لہذا اویسی کا علانیہ مسلم لیڈر کے طور پر عروج جتنا مجلس اتحاد المسلمین چاہتی ہے ،اتنا ہی بی جے پی بھی چاہتی ہے۔

اسی طرح  ہندوستانی  مسلمانوں کی زندگی پر اس کا ایک اور اثر ہوسکتا ہے۔ چونکہ مسلم آبادی کا ایک بہت بڑا حصہ شہری علاقوں میں بساہوا ہے ؛ لہذا ان کی سیاسی تنظیمی سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا اور ایک مذہبی – نظریاتی قیادت سامنے آئے گی۔ مسلم عوام بھی بڑے پیمانے پر سیکولر زم سے ناخوش ہیں ، جو انھیں اقلیتی- اکثریتی ڈسکورس میں الجھاتا ہے، جس میں ان کی مسلم شناخت ختم ہوگئی ہے۔

ایس سی / ایس ٹی / او بی سی و اقلیتی اتحاد کے پرانے نعرے میں بھی اب اتنا دم نہیں رہا۔ اگرچہ اویسی دلت مسلم اتحاد کی بات کرتے ہیں؛ لیکن اویسی کے پاس شودروں یا او بی سی سے خطاب کرنے کی کوئی زبان نہیں ہے۔ آر ایس ایس-بی جے پی گٹھ جوڑ اویسی کی جارحانہ مخالفت کرکے تلنگانہ جیسی ریاست میں اپنی گرفت مضبوط کرنا چاہتا ہے۔ بی جے پی؍آرایس ایس نے حیدرآباد شہر میں بنیادی طور پر او بی سی کو مسلمانوں کے خلاف متحرک کرکے اپنے لیے راستہ بنایا ہے ، جس کے واضح اثرات حالیہ بلدیاتی انتخابات میں دیکھے گئے ہیں۔ اب یہی سیاست وہ تلنگانہ کے دیہی علاقوں میں کریں گے۔ چونکہ ماضی میں مجلس کی  ایک آزاد نظام ریاست (جسے 1940 کی دہائی میں قاسم رضوی کی رضاکار تحریک کے دوران جنوبی پاکستان کہاجاتا تھا) کے مطالبے کی تاریخ رہی ہے؛ لہذا ہندوتوا طاقتیں آسانی سے پرانے شہر کو  پاکستان اور اویسی کو اس کا جناح قرار دے دیتی ہیں۔

حیدرآباد کی طرح بہت سے ایسے شہروں میں ، جہاں مسلمانوں کی خاصی آبادی ہے ، وہاں شودر/ او بی سی اور مسلمانوں کے درمیان کوئی گہرے تعلقات نہیں ہیں۔ او بی سی طبقے کے لوگ عموماً گوشت خور ہیں ؛ لیکن بہت سے لوگ نہیں بھی کھاتے ہیں۔ آر ایس ایس / بی جے پی نیٹ ورک ان اختلافات کو استعمال کرکے شودر / او بی سی عوام کومسلمانوں کے خلاف منظم کرنا چاہتا ہے۔ ذات پات کے حوالے سے اویسی نے حالیہ دنوں میں بولنا شروع کیا ہے، جبکہ ان کے تندگو بھائی تو تمام اوبی سیز کو ہندو ہی مانتے ہیں۔

در حقیقت اب تک کسی بھی مسلم رہنما اور دانشور نے ذات پات کے نظام اور اس کے فالٹ لائن کا کماحقہ مطالعہ نہیں کیا ہے۔ ان کی توجہ ہمیشہ ہندو- مسلم تقسیم و تفریق کے معاملات  پر رہی ہے۔ ذات پات کے نظام کے تضادات کے بارے میں ان کی تفہیم البیرونی کی کتاب الہند تک محدود ہے؛ لیکن ہندوستان میں ویدک کلچر کے دنوں سے ہی طبقاتی جبر کی ایک طویل تاریخ موجود ہے ،یہی جبر  11 ویں صدی میں مسلم حکومت کے قیام  کی تمہید ثابت ہوا تھا۔

آر ایس ایس-بی جے پی کی جعلی ہندوتوا قوم پرستی نے سیکولرزم کے نظریے کو چیلنج کردیا ہے ، جس میں مسلم رہنماؤں کو ایک مقام حاصل تھا۔ اویسی کی سربراہی والی مجلس بھی  مسلم قوم پرستی کی زبان بولتی ہے۔ چونکہ اویسی کے آباو اجداد نے حیدرآباد چھوڑ کر پاکستان جانے سے انکار کردیا تھا ؛ لہذا مجلس کے رہنما اپنی ہندوستانی مسلم قوم پرستی کو بی جے پی-آر ایس ایس کی مسلمانوں کو غیر ملکی یا پاکستانی قرار دینے کی کوشش کے خلاف ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہیں؛ اسی لیے ہندوستان بھر کے مسلمان ان کی طرف متوجہ ہوسکتے ہیں، مگرجس طرح سنگھ مسلمانوں کو اپنے مستقل دشمن کے طور پر نشانہ بناتا ہے اور اس کے مقابلے میں جس طرح اویسی مسلمانوں کو انتخابی سطح پر منظم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ،یہ قومی انتشاراور بہ تدریج ملک تباہی کا باعث بن سکتی ہیں۔

(مضمون نگار معروف سیاسی مفکر،مصنف اور مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی،حیدرآباد میں سینٹر فار سٹڈی آف سوشل ایکسکلوزن اینڈ انکلوزیو پالیسی کے ڈائریکٹر ہیں۔یہ مضمون آج روزنامہ انڈین ایکسپریس میں شائع ہوا ہے۔مضمون نگار کے خیالات سے مترجم یا قندیل کا اتفاق ضروری نہیں ہے۔)

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*