اویسی پر ممتا بنرجی کا سنگین الزام ، بی جے پی سے پیسے لے کر مسلمانوں کا ووٹ تقسیم کرواتے ہیں

 

کولکاتا: بہار اسمبلی انتخابات کے بعد2021 میں مغربی بنگال میں اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں۔ بی جے پی اس انتخاب میں اپنی پوری طاقت جھونک رہی ہے۔ کچھ دن پہلے ہی حیدرآباد میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات میں بھی بی جے پی نے عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ اس کو دیکھتے ہوئے یہ انتخاب اور بھی زیادہ دلچسپ ہوتا جارہا ہے۔ بی جے پی پہلے ہی انتخابی میدان کی تیاری میں مصروف تھی۔ ایسے میں مغربی بنگال کی سی ایم ممتا بنرجی نے اے آئی ایم آئی ایم سربراہ اسدالدین اویسی کے خلاف سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔

بنگال میں بی جے پی پوری طاقت کے ساتھ انتخابات لڑنے کے لئے تیار ہے۔ پارٹی نے اس کے لئے مکمل تیاری کرلی ہے۔ حال ہی میں بی جے پی کے قومی صدر جے پی نڈا نے بھی ایک ریلی نکالی تھی۔ اب ریاست میں بی جے پی کے بڑھتے ہوئے اثرات کے درمیان ممتا بنرجی نے اویسی پر الزام عائد کیا ہے۔ ممتا نے کہا ہے کہ بی جے پی مجلس کو پیسے دے کر مسلمانوں کا ووٹ تقسیم کروا رہی ہے۔

بنگال کے جل پائی گوڑی میں منعقدہ جلسۂ عام سے خطاب کرتے ہوئے ممتا بنرجی نے کہا ‘انہوں نے اقلیتوں کے ووٹوں کو تقسیم کرنے کے لئے حیدرآباد سے ایک پارٹی پکڑی ہے۔ بی جے پی نے انہیں پیسہ دیا ہے اور وہ ووٹ کی تقسیم کے لئے کام کرتے ہیں۔ بہار کے انتخابات میں بھی یہ دیکھا گیا ہے۔ سی ایم ممتا بنرجی نے بی جے پی کو سب سے بڑا چور بتایا۔ انہوں نے کہا ، ‘بی جے پی سے بڑی چور کوئی پارٹی نہیں ہے۔ وہ چمبل کے ڈاکو جیسی ہے۔ اس نے 2014 ، 2016 اور 2019 کے انتخابات میں کہا تھا کہ چائے کے سات باغات دوبارہ کھولے جائیں گے اور مرکزی حکومت ان کی نگرانی کرے گی۔ وہ اب نوکری کا وعدہ کر رہی ہے۔ وہ لوگوں کو دھوکہ دے رہی ہے۔ مغربی بنگال کی سی ایم ممتا بنرجی نے بی جے پی اور مرکزی حکومت پر کھل کر حملہ کیا۔ ممتا نے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی نے مختلف فرقوں کے مابین فسادات اور نفرت کو ایک نیا مذہب بنایا ہے۔ ممتا نے الزام لگایا کہ بی جے پی بنگال کو گجرات کی طرح فسادزدہ بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔