موہن بھاگوت اور راج ناتھ نے کی ساورکر کی تعریف،ا ویسی نے کہا، ’ ایسا ہی رہا تو گاندھی کے بجائے ساورکر کو ’بابائے قوم‘ بنادیا جائے گا‘

نئی دہلی : انگریزوں سے معافی مانگ کر رہائی پانے والے نام نہاد ’ویر‘ ساورکر کی ستائش اور تحسین پر سیاسی بیان بازی تیز ہو گئی ہے۔ مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ اسد الدین اویسی نے آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت اور وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کے ساورکر سے متعلق بیان اور موقف کو نشانہ بنایا ہے۔ نئی دہلی میں بھاگوت اور راج ناتھ نے منگل کے روز منعقد ایک پروگرام میں کہا تھا کہ آزادی کے بعد سے ساورکر کو بدنام کرنے کی مہم چلائی گئی ۔ اس پر اویسیؔ نے کہا ہے کہ تاریخ کے ساتھ کھلواڑ کیا جا رہا ہے ، اور اسے مسخ کرنے کی کوش کی جارہی ہے ۔ اگر ایسا ہی رہا تو ایک دن وہ مہاتما گاندھی کے بجائے ساورکر کو’بابائے قوم‘ بنالیں گے۔اویسی نے یہ بھی کہا کہ ساورکر نے اپنی رہائی کے لیے انگریزوں کو معافی کے خط لکھے تھے۔حتیٰ کہ ساورکر پر مہاتما گاندھی کے قتل کی سازش میں ملوث ہونے کا الزام لگایا گیا اور یہ بات جسٹس جیون لال کپور کی تحقیقات میں بھی کہی گئی۔ خیال رہے کہ موہن بھاگوت نے منگل کو کہا تھا کہ ہندوستان میں ساورکر کے بارے میں معلومات کا فقدان ہے۔ ان کے بعد سوامی وویکانند ، سوامی دیانند سرسوتی اور یوگی اروند کو بدنام کیا جائے گا ، کیونکہ ساورکر ان تینوں کے نظریات سے متأثر تھے۔ بھاگوت نے کہا کہ سید احمد(شہید) کو مسلم عدم اطمینان کا بانی مانا جاتا ہے، واضح ہو کہ سید ا حمد شہید نے انگریزوں کیخلاف جنگ لڑی تھی۔موہن بھاگوت کے مطابق’ دارا شکوہ اور اکبر تاریخ میں ہوئے ، وہیں اورنگزیب بھی تاریخ کا حصہ ہیں ۔ بھاگوت نے یہ بات دہلی میں ساورکر پر ایک کتاب کے اجراء کے پروگرام میں کہی تھی۔اسی پروگرام میں وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ ساورکر کے خلاف جھوٹ پھیلایا جا رہا ہے کہ انہوں نے انگریزوں سے معافی مانگی تھی۔ اس کے برعکس سچائی یہ ہے کہ اس نے قانونی اختیار کے تحت اور صرف مہاتما گاندھی کے کہنے پر انگریزوں کو درخواست دی تھی ،تاکہ وہ جیل سے رہا ہو کر تحریک آزادی میں شامل ہو سکیں۔ وہ ہندوستانی تاریخ کے ’آئیڈیل‘ ہیں ۔ ان کے بارے میں اختلاف رائے ہو سکتا ہے ، لیکن ان کو کم تر سمجھنا درست نہیں ہے۔