اویسی نے پی ایم اوسے پوچھا،بیرون ملک سے ملنے والا تعاون کہاں گیا؟

نئی دہلی:مغربی بنگال میں تشدد کیس سے متعلق آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے سپریمو اور رکن پارلیمنٹ اسدالدین اویسی نے منگل کوکہاہے کہ جینے کاحق سب کا بنیادی حق ہے۔ لوگوں کی زندگی کی حفاظت حکومت کا اولین فرض ہوناچاہیے۔ اگر وہ ایسا نہیں کرتی ہے تو وہ اپنے بنیادی فرائض کی انجام دہی میں ناکام ہیں۔ ہم ہندوستان کے کسی بھی حصے میں کسی بھی حکومت کی ناکامی کی مذمت کرتے ہیں۔جب کہ اویسی کوبھی معلوم ہے کہ جب تک سرکارکی تشکیل نہیں ہوتی،انتظامیہ ریاست کے ہاتھ میں نہیں ہوتی ہے بلکہ نظم ونسق گورنراورالیکشن کمیشن کے ہاتھ میں ہوتے ہیں لیکن اویسی نے مرکزیاگورنریاالیکشن کمیشن کونشانہ بنانے کی بجائے براہ راست ریاستی حکومت کونشانہ بنایاہے۔اصل میں اویسی کی پارٹی کووہاں زبردست شکست ملی ہے اورمسلمانوں نے پورے طورپران کی سیاست کومستردکیاہے۔حال یہ ہے کہ بیشترسیٹوں پرضمانت ضبط ہوئی ہے۔اویسی نے کہاہے کہ نریندر مودی اپنے محل میں آرام سے بیٹھے ہیں اور محل کے باہر آکسیجن کی کمی کی وجہ سے لوگ مر رہے ہیں ، قبرستان بھرے جارہے ہیں اورشمشان جل رہے ہیں۔اے آئی ایم آئی ایم کے صدر نے بحران میں غیر ممالک سے ملنے والی امداد کے بارے میں پی ایم او سے معلومات حاصل کیں۔ انھوں نے یہ بھی کہاہے کہ 300 ٹن تعاون جو بیرون ملک سے موصول ہوا وہ سیاسی ڈرامہ کی وجہ سے اسٹوریج میں پھنس گیا ہے۔ اس بارے میں انہوں نے ٹویٹر ہینڈل پر بھی لکھا ہے۔ اس میں بیرون ملک سے آنے والی مدد کی تفصیلات طلب کرتے ہوئے انہوں نے لکھا ہے کہ ملک کو کم سے کم 300 ٹن بین الاقوامی امداد موصول ہوئی ہے۔ پی ایم او ہمیں اس بارے میں معلومات نہیں دے رہا ہے کہ اس کا کیا ہوا ، بیوروکریسی کی وجہ سے کتنا جان بچانے والا سامان اسٹوریج میں پھنس گیا ہے؟ یہ معذوری نہیں بلکہ ملک کے شہریوں کے لیے ہمدردی کا فقدان ہے۔