اویسی کی مسلم دوستی سچی یا سنگین سازش؟-میم ضاد فضلی

(دوسری قسط)
مذہب کی افیم کانشہ اس قدر شدید ہوتا ہے کہ اس کاشکار فرد حق و ناحق اور سیاہ و سفید میں تمیز کرنے کی صلاحیت کھودیتا ہے۔ اگر اس کی مثال دیکھنی ہوتو آپ آر ایس ایس اور بی جے پی کی ٹرول آرمی کو دیکھ لیجیے۔ البتہ اس میں آپ کو تھوڑی سی ترمیم کرنی پڑے گی، اس لیے کہ یہ ٹرول آرمی دوقسم کی ہے ۔ایک قسم وہ ہے جو دوروپے فی ٹیوٹ کے حساب سے مزدوری پر رکھی گئی ہے۔ اب اگر کوئی سچ بات بول دے اوروہ بولنے والا ہندو ہی ہو ، اس کے باوجوداگر اس سچائی سے مذہب کی آڑ میں اپنی سیاسی دکانیں چلانے والے لیڈروں اور سیاسی پارٹیوں کا نقصان ہورہا ہے تو مزدوری پر رکھی گئی یہ ٹرول آرمی اپنی ڈیوٹی پر لگ جاتی ہے۔ اور اس سچ کے خلاف اتنے جھوٹ بولتی اور بہتان تراشی کرتی ہے کہ بے چارا سچ اپنی عزت بچانے کے لیے خاموشی سےکسی کونے کھدرے میں بیٹھ جاتا ہے۔ جب کہ سچ بولنے والے کوبھگوا بریگیڈ کی ٹرول آرمی ایسی ایسی بھدی گالیوں سے نوازتا ہے کہ اسے کوئی شریف آدمی سن لے تو اس کے کان سے خون ٹپکنے لگے۔ مگر بی جے پی اور شرافت ،اورراویتی ’’بھارت کی مریادا‘‘میں اتناہی فاصلہ ہے جتنا زمین اور آسمان میں،دونوں میں اتنا ہی بیر ہے، جتنا آگ اور پانی میں۔اگر حقیقت جاننی ہوتو کبھی میری ہم پیشہ صحافیہ بھاشا سنگھ، عارفہ خانم شیروانی، اروندھتی رائے اور رعنا ایوب جیسی حق گو خواتین سے پوچھ لیجیے کہ ان کی ریسرچ اور دلیل سے مزین سچی اسٹوریز کی وجہ سے بی جے پی کی ٹرول آرمی اور مذہب کی افیم کےنشے میں دھت پاگلوں کا ٹولہ انہیں کس قسم کی گالیوں اور دھمکیوں کا شکار بناتا ہے۔ راہ چلتے اٹھالینے اور ریپ کر دینے کی دھمکی تو بھگوا بریگیڈ نے کے ایک معمولی سی بات ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ ’’ جے شری رام‘‘ ، ’’ ہر ہر مہادیو‘‘، ’’جے بجرنگ بلی ہنومان کی‘‘ اور ’’جے ماں کالی ‘‘ بولنے کے بعد ہر قسم کی بدکرداری کا سرٹیفکیٹ انہیں مل جاتا ہے۔ یعنی ’’جے شری رام ‘‘بول کر اگر یہ اپنی ماں ، بہن یا بیٹی کے ساتھ بھی وہی کام کردیں ، جس کی دھمکی یہ لوگ دوسری عورتوں کو دیا کرتے ہیں تو انہیں کوئی پاپ نہیں لگے گا۔ٹرول آر می کی دوسری قسم ان اندھ بھکتوں کی ہے جو مزدوری پر نہیں لگے ہوئے ہیں ، بلکہ انہیں دھرم کی افیم اتنی پلائی گئی ہے کہ وہ اپنا آپا کھوچکے ہیں اوررضاکارانہ طور پر بی جے پی اور سنگھ کو اپنی سیوا دے رہے ہیں۔حالاں کہ اس میں ان کا ہی نقصان ہور ہا ہے، یہ ایک کڑوی سچائی ہے کہ جب کسی کو اپنی ذات پر قابو نہیں رہ سکے تو وہ کچھ بھی کرسکتا ہے ، حتیٰ کہ وہ ہر برےکام اپنے گھر سے بھی شروع کرسکتا ہے ، جس کی دھمکی وہ سچ بولنے والی دوسری خواتین کو دیا کرتا ہے۔ ایک مرتبہ معروف تجزیہ نگار اور صحافی پنیہ پرسن واجپئی نے اعدادو شمار کے ساتھ بتایا تھا کہ ایسے وقت میں جب مودی سرکار نے ملک کے بیشتر پڑھے لکھے اور اعلیٰ تعلیم یافتہ ہندو نوجوانوں کو دھرم کا نشہ پلاکر پاگل بنادیا ہے ، اور ان کے لیے روزگار اور معاش کوئی مسئلہ نہیں رہ گیا، ایسے حالات میں بھی بی جے پی اور دیگر جماعتوں کی ٹرول آرمی میں روزگار کے بے حساب مواقع پیدا کردیے گیے ہیں۔ان حالات میں یہ سوال سب سے اہم ہوجاتا ہے کہ بالخصوص اقلیتوں کو اس کے سد باب کے لیے کیا کرنا چاہیے؟
کیا دھرم کی افیم کے شکار عناصر کی طرح مسلم نوجوانوں کو بھی اینٹ کا جواب پتھر سے دینے پر ابھارا جائے۔ گالی کے بدلے میں اس سے بھی کٹیلی گالیوں کی ڈکشنری ان کے ہاتھوں میں تھمادی جائے ، تاکہ وہ بھی بھگوا بریگیڈ کی ٹرول آ رمی کی طرح بھدی اور بازاری گالیاں بکیں اور وہ بھی سوشل میڈیا کے ذریعہ مخالفین کی ماں ، بیٹی اور بہنوں کے جسمانی استحصال کی دھمکیاں دیں ۔کیا اکبر الدین اویسی کی ’’پانچ منٹ کا ٹائم دیدو اور پھر تمہارا خاتمہ ‘‘ جیسی جذباتی تقریریں نفرت کی اس آگ کو سرد کرپائیں گی۔ نہیں ہرگز نہیں۔
اس سے جذبات کی رو میں بہنے والے گمراہ نوجوانوں کے جوش میں وقتی ابال تو پیدا کیاجاسکتا ہے۔ مگر یہ عامۃ المسلمین کو درپیش مسائل کا پائیدار حل نہیں ہے۔اس طرح کی تقریر یں آگ میں گھی ڈالنے کا کام تو ضرور کریں گی ۔مگر نفرت کو محبت کے اکسیر سے ختم کرنے والے مجرب فارمولہ کو ہمیشہ کے لیے غیر مؤثر بنادیں گی۔المیہ یہ ہے کہ بیرسٹر اویسی نے حیدرآباد کے باہر جہاں بھی اپنی پارٹی کو میدان میں اتارا ہے، وہاں پارٹی کی زمام کار ایسے ہی لوگوں کے ہاتھوں میں دی ہے ،جن کی زبانیں شعلہ اگلتی ہیں اور مسلمانوں کی کٹی گردنوں پر جشن مناتی اور اپنے مفاد روٹیاں سینکتی ہیں۔ اس سلسلے میں اخترالایمان کی تقاریر اور ان کی سیاسی گرمجوشی اور معاملہ فہمی کا جائزہ لینا بھی ضروری ہے۔ مگر یہ ایک مستقل اور علیحدہ موضوع ہے، جس پر باضابطہ گفتگو آئندہ ۔
فی الحال اپنے نفس موضوع کی طرف لوٹ چلتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا جذباتی تقریروں اور اشتعال انگیزیوں سے کبھی بھی مسلمانوں کا بھلا ہوا ہے ، کیا ہمیشہ اس قسم کی زہر افشانیوں سے بی جے پی کو براہ راست فائدہ نہیں پہنچا ہے!اگر اس کا جواب اثبات میں ہے تو یہ کہنا مناسب ہوگا کہ نفرت کا جواب نفرت اور بھڑکاؤ بھاشن سے دینا مسئلے کا حل نہیں ہے۔ہم دہائیوں سے دیکھتے آرہے ہیں کہ آگ اگلنے والوں کی سیہ کاریوں سے ہمیشہ سیکولر اقدار خاص طورپر مسلمانوں کا ہی نقصان ہوا ہے اورہماری اشتعاانگیزیوں سے بی جے پی کو بغیر ہاتھ پیر مارے کامیابی ملی ہے۔اگر آپ کی جذباتی تقریروں سے مسلمانوں کا ہینقصان ہوتا ہے تو یہ کہنا حق بجانب ہوگا کہ آپ ہمارے مخلص نہیں ہیں، بلکہ آپ سنگھ کے آلہ کار اور بی جے پی کے وظیفہ خوار ہیں۔
کیا ایسے حالات میں جب اقتدار ، پولیس انتظامیہ ،حتیٰ کہ عدالتیں اور سی آئی سی جیسے خود مختار اداروں میں بھی جنونی عناصر نے اپنے ہم خیال لوگوں کو بٹھا دیا ہے اوربقول اکبر الٰہ آبادی:
ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہوجاتے ہیں بدنام
وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا
اس وقت ملک گیر سطح پر بالخصوص بی جے پی اور اس کی حمایت سے چلنے والی سرکاروں کی ریاستوں میں پولیسیا دہشت گردی کا منظر کھلے عام دیکھنے کو مل رہا ہے۔زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ ابھی چند ماہ پہلے ہی مشرقی دہلی میں مسلمانوں کے ساتھ جو کچھ ہوا اور ان کی جان و مال کو جس طرح بربریت کے ساتھ لوٹا ، جلایا اور بھنبھوڑا گیا۔اس کی ساری داستان مین اسٹریم میڈیا کے ذریعہ پردے میں ڈالنے کے باوجود عالمی میڈیا کی صاف گوئی اور دیانت داری کے نتیجے میں ساری دنیا تک پہنچ چکی ہے۔ یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ بھگوا بریگیڈ اور دلی پولیس نے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کے اشارے پرجو ظلم و سفاکیت کا ننگا ناچ کیا ہے، وہ سب ’’پبلک ڈومن ‘‘ میں آ چکا ہے۔ کل ہی کئی انگریز اخبارات اور ویب پورٹل پر یہ خبر نمایاں تھی کہ دہلی پولیس سنگھی ظالموں،سازش کاروں اور اپنے گناہوں کو دھونے کے لیے مظلوم مسلمانوں کے لہوں کے نشانات کھرچنے اور مٹانے میں لگی ہوئی ہے۔
جس وقت دہلی میں آر ایس ایس اور بی جے پی کے غنڈے اور دلی پولیس مسلمانوں پر مظالم کی برسات کررہی تھی ، اپنے سیاہ کارناموں کو چھپانے کے لیے سی سی ٹی وی کیمروں کو پولیس والے توڑ رہے تھے ، اسی وقت یہ معلوم ہوگیا تھا کہ دہلی کا دنگا ہندو مسلم فساد نہیں تھا، بلکہ آرایس ایس کے ذریعہ انجام دی جارہی مسلم نسل کشی تھی ،جس میں بی جے پی ، ہندو شدت پسند تنظیمیں اور دلی پولیس شامل تھی اور یہ سب منصوبہ بند طریقے سے انجام دیا گیا تھا۔اس وقت حزب اختلاف کی کارکردگیوں کو بہت باریکی سے میں دیکھ رہا تھا۔میں ہی کیا ہر صاحب نظر اور دیانتدار صحافی اس موقع پر اپوزیشن پارٹیوں کی نقل و حرکت پر پینی نگاہ رکھے ہوا تھا۔آپ معمر اور جہاں دیدہ صحافی ونود دواکے اس وقت کے تجزیوں کو یوٹیوب پر سنیں،آپ سمجھ جائیں گے کہ وہ’’ ہند ومسلم فساد‘‘ نہیں تھا۔ افسوس ہے کہ اس وقت اروند کیجریوال بھی گونگے ہوچکے تھے، اکھلیش یادو، مایا وتی، شرد پوار، اوپیندر کشواہا ، نوین پٹنایک ،کے سی آر، جگن موہن ریڈی اور اویسی تک کی زبان کو لقوہ مار گیا تھا۔ اس نازک وقت میں خاص طور پر بہوجن اور دلت واقلیت کی مظلومیت پر آٹھ آٹھ آنسو بہانے والے وامن میشرم اپنے مولویوں کے ساتھ کسی بل میں گھس گئے تھے۔کچھ آواز آئی بھی تو کانگریس، ٹی ایم سی اور چندر شیکھر آزاد اور عالمی میڈیا کے ذریعہ یا مٹھی بھر دیانتدار اور حق پسند صحافیوں کی جانب سے ۔اس وقت مظلوموں کی دادرسی سے زیادہ کجریوال کی توجہ اپنے ووٹ پر تھی، وہ سمجھ رہے تھے کہ اگر اس وقت فسادات متاثرہ علاقوں میں وہ یا اس کی پارٹی کا کوئی نمائندہ چلا گیا تو اس سے ہندوووٹ کھسک جائے گا۔ حالاں کہ اگر اس وقت کجریوال اور اویسی وغیرہ دنگاکے ناپاک منصوبہ کا شدت کے ساتھ بھانڈا پھوڑنے کے لیے میدان میں اتر جاتے اور علاقہ کے ہندو مسلم باشندوں کو یہ سمجھانے کی کوشش کرتے کہ مشرقی دہلی کا دنگا ’’ ہندو مسلم فساد‘‘ نہیں تھا ، بلکہ یہ بی جے پی ،آر ایس ایس اور دلی پولیس کی ایک مذموم سازش تھی ، جس کا مقصد یہ تھا کہ کسی طرح قومی دار الحکومت دہلی میں فسادات کی آگ بھڑکادی جائے ، تاکہ سی اے اے ،این آر سی اور اسی قسم کے دوسرے شاطرانہ بلوں کے خلاف جو مزاحمت جاری ہے، اسے طاقت کے زورپر ختم کرنے کابہانہ مل جائے ۔ اگر مثبت اور مخلصانہ ارادے ساتھ اگر میدان میں اترے ہوتے توآپ کی ادنیٰ کوششوں سے سنگھی سازش کے غبارے سے ہوا نکل جاتی اور بی جے پی کا سفاک چہرہ نمایاں ہوکر ساری دنیا کے سامنے آجاتا۔مگر اس وقت آپ کے آوازکی گونج کیوں دھیمی پڑ گئی تھی، کیوں اسے سانپ سونگھ گیا تھا؟
مگر کیا کبھی کسی نے بھی کجریوال یا اویسی کی زبانی یہ سنا ہے کہ دہلی کا دنگا’’ ہندو مسلم فساد‘‘ نہیں تھا، بلکہ یہ بی جے پی اور آر ایس ایس کے چند ہزار مسلحہ غنڈوں کی کارستانی تھی، جس کو دہلی پولیس لیڈ کررہی تھی۔کیا فسادات کے بعد اویسی کی جماعت کے لیڈران اور ممبران فساد متاثرہ علاقہ کے مظلوموں کے زخموں پر مرہم رکھنے اور اس بے سرو سامانی کے عالم میں ان کی مدد کے لیے کہیں نظر آئے۔ کیا یہ ان کے لیے ایک غنیمت موقع نہیں تھا کہ وہ علاقے میں آتے اور ہندو مسلم تمام برادری کے لوگوں کو یہ سمجھانے کی کوشش کرتے کہ تم اہل علاقہ ایک دوسرے کے قاتل نہیں ہو، بلکہ تمہیں لڑانے کے لیے کرایے کے قاتل بھگوا دھاریوں کو دیگر علاقوں سے بلایا گیا تھا۔لہذا گودی میڈیا والے چاہے جتنا اکسائیں ، مگر تم اس بات پر اٹل رہنا کہ یہ دنگا فرقہ وارانہ فساد نہیں تھا، بلکہ آر ایس ایس اور بی جے پی کے غنڈہ عناصر کی منظم سازش کا نتیجہ تھا۔مذکورہ بالا لیڈروں اویسی اور کجریوال کی کار کردگی بتارہی ہے کہ یہ لوگ کس کے خیر خواہ اور کس کے آلہ کار ہیں اور ان کی سیاست کا محور کیا ہے؟
یہ لوگ سماج اور ملک کی بھلائی کے لیے سیاست کررہے ہیں یا اپنی دنیا چمکانے اور شہرت کی بلندی تک پہنچنے کے لیے۔اب تو اسد الدین اویسی خود کو ہندوستان کے مسلمانوں کا تنہا قائد باور کرانے کے لیے پر تول رہے ہیں۔ مگر اخلاص اور عیاری لاکھ چھپائیں وہ چھپے گی اور ایک نہ ایک دن دنیا کے سامنے آہی جائے گی۔
اویسی کی مسلم دوستی اور جمہوریت پسندی کو سمجھنے کے لیے حیدرآباد کے آغا پورہ میں واقع اے آئی ایم آئی ایم کے صدر دفتر ’’ دارالسلام‘‘ کی تاریخ کو بھی کھنگالنا ضروری ہے تاکہ یہ معلوم ہوسکے کہ یہ جماعت اور وقف کردہ اراضی ’’دارالسلام‘‘مٹھی بھر طاقت ور مسلمانوں کی ذاتی ملکیت کیوں کربن گئی اور اس عوامی مقام پر عام لوگوں خاص طورپر اویسی کی بی جے پی نواز فکر سے اختلاف رکھنے والوں کو قدم رکھنے کا حق کیوں نہیں ہے؟

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*