اویسی کی مسلم دوستی سچی یا سنگین سازش؟-میم ضاد فضلی

بیرسٹر اسد الدین اویسی اس وقت سے میرے ذہن و دل میں چیستاں بنے ہوئے ہیں ، جب 2019 عام انتخابات میں ووٹنگ کی خبریں سامنے آئی تھیں اور ان سے معلوم ہوا تھا کہ اس الیکشن میں تلنگانہ میں سب سے کم پولنگ کا ریکارڈ حیدرآباد نے اپنے نام کیا تھا۔
عام انتخابات 2019 میں سب سے کم پولنگ جموں اینڈ کشمیر کے بارہ مولا حلقے میں ہوئی تھی، جہاں محض ستائیس اعشاریہ ترانوے فیصد(93.27)فیصد رائے دہندگان نے ووٹ کیا تھا۔دوسرے نمبر پر بہار کا اورنگ آباد پار لیمانی حلقہ تھا ،جہاں 50.38اڑتیس اعشاریہ پچاس فیصد لوگوں نے ووٹ ڈالے تھے۔بہار کے جموئی حلقہ میں 34 فیصد پولنگ ہوئی تھی، وہیں سے رام ولاس پاسوان کے بیٹے چراغ پاسوان جیتے ہیں اور پاسوان کا پورا خاندان دلت کے نام پر دلتوں کا حق ماررہا ہے۔ بہر حال کہاں اور کس حلقہ میں کم یا زیادہ پولنگ ہوئی تھی اس کی تفصیل پیش کرنا میری اس تحریر کا مقصد نہیں ہے۔
میری زیر نظرتحریر کا مقصد اسد الدین اویسی کے حلقہ میں کم پولنگ کے فیصد کا جائزہ لینا ہے۔اگر آپ پولنگ میں فیصد کی تفصیل جاننا چاہیں تو الیکشن کمیشن کی سائٹ پر جاکر دیکھ سکتے ہیں۔
اب میں اپنے مقصد کی طرف آتا ہوں۔ رپورٹ کے مطابق ریاست تلنگانہ میں ساٹھ اعشاریہ ستاون فیصد(57.60%) پولنگ ہوئی تھی ،مجموعی طور پر کہاجا سکتا ہے کہ پوری ریاست میں تقریباً 60 فیصد پولنگ ہوئی تھی ، جبکہ اویسی کنبہ کا ناقابل تسخیر قلعہ کہے جانے والے پارلیمانی حلقہ اور تاریخی شہر حیدرآباد میں چالیس فیصد سے بھی کم پولنگ ہوئی تھی۔یہی حالت جڑواں شہر سکندر آباد کا بھی تھا، جہاں کا پولنگ فیصد بھی کچھ اسی قدر ہے۔میں نے کئی زاویے سے پولنگ کی اس ناقص شرح کو جانچنے پرکھنے اور سمجھنے کی کوشش کی ۔مگر میری ریسر چ جس قدر آگے بڑھ رہی تھی اس سے کہیں زیادہ حیدرآباد میں کم پولنگ کا مسئلہ پیچیدہ ہوتا جارہا تھا۔ اسی کے ساتھ کئی سوال بھی ذہن میں جنم لینے لگے تھے ، کیا حیدرآباد جہا ں کے معزز شہری اپنی تعلیم اور دور اندیشی کے لیے منفرد شناخت رکھتے ہیں، ان کے اندر اپنے ووٹ اور انتخاب میں حصے داری کا احساس باقی نہیں رہا۔ کیا انہیں یہ معلوم نہیں ہے کہ ووٹ ہر ایک ہندوستانی کا جمہوری حق ہے اور وہ اس کے ذریعے اپنی پسند کے نمائندے منتخب کرتے ہیں۔کیا انہیں اس کی خبر نہیں ہے کہ پارلیمنٹ میں حزب اختلاف کی متعدد جماعتوں کے واک آؤٹ کرنے کی وجہ سے آسانی کے ساتھ موجودہ ظالم حکومت نے طلاق ثلاثہ اور اس کے بعد بعد 370 ، این آر سی اور سی اے اے بل پاس کرا لیا تھا۔جہاں اویسی کی تقریر اور ان کے جذباتی آنسو کئی دنوں تک جذباتی مسلمانوں کو کھَولاتے رہے تھے اوراویسی کے وہی بھکت دیگر مسلم اراکین پارلیمنٹ کو بھانت بھانت کی گالیاں بک کر اپنی بھڑاس اور اویسی کو خدا تسلیم کرانے پر تلے ہوئے تھے۔اویسی کی پارلیمنٹ والی تقریر پر ان کے ماننے والے اور بھکت انہیں مسلمانوں کا مسیحا،کہیں وطن عزیز میں قیادت کی بہتات کے دور میں انہیں مسلمانوں کا واحد نمائندہ اور قائد ثابت کرنے کی ضد کی جارہی تھی۔ نتیجہ کار حیدرآباد سے باہر کے مسلمان جنہوں نے عملی طور پر اویسی کے ملی اور عوامی مفادات کے اقدامات کو دیکھا اور مشاہدہ نہیں کیا ہے وہ لوگ ان پر تنقید کرنے والوں کو خوں خوار نظروں سے دیکھتے ہیں اور گالیوں کا ایسا سلسلہ شروع کردیتے ہیں کہ مودی کے بھکت بھی اس معاملے میں اویسی کے بھکتوں کی گرد ِپاکو بھی نہیں چھو سکتے۔اس کے مقابلے میں جن بھکتوں نے حیدرآباد اور تلنگانہ میں اویسی کی کار کردگی دیکھی ہے، ان کا رد عمل نپا تلا اور محتاط رہتا ہے۔
میں نے ابھی تک صرف اتاترک کمال پاشا اور مصرکے کمیونسٹ فرماں روا انور سادات اور لیبیا کے کرنل قذافی کے بارے میں یہ تجربہ کیا تھا کہ ان غاصبوں کی ایسی دھاک تھی کہ مذکورہ ممالک کے شہری بند کمرے میں حتیٰ کہ دوسرے ملکوں میں بھی ان کے خلاف سچ بولنے سے کانپتے تھے اور ان کے عتاب کا خوف چہروں پر عیاں ہوجاتا تھا۔مگر اب پہلے جیسی بات نہیں رہی ،بھلے ہی کم تعداد اور محتاط لہجے میں ہی سہی مذکورہ ممالک کے ارباب حکومت کی تنقیدیں سننے اور پڑھنے کو ملتی رہتی ہیں۔اب اگر کسی آمر کی دہشت عوام ذہن و دل پر حاوی ہے تو وہ صرف دو ملک ہیں اور بد قسمتی سے دونوں ہی ملک خود کو مسلمانوں کا عالمی پیشوا اور رہنما مانتے ہیں۔ ان میں ایک سعودی عرب ہے اور دوسراایران۔ سعودی عرب میں شاہ سعود کے گھرانے پرزبان یا قلم چلانے والے کی گردن کاٹ دی جائے گی تو ایران میں پاسداران انقلاب اور خمینی کنبہ پر انگشت نمائی کرنے والے واجب القتل قرار دیدیے جاتے ہیں ، بل کہ انہیں کسی نہ کسی بہانے قتل کرکے ہی دم لیا جاتا ہے۔
مجھے یہ شبہ بھی نہیں تھا کہ اویسی کے حیدرآباد میں باہمت اور جری عوام بھی اس خاندان کے خلاف بات کرتے ہی کانپنے لگتے ہوں گے۔آپ اگر صحافی ہیں اور کسی سیاسی نمائندہ کے بارے میں وہاں کے عوام کی رائے جاننا چاہیں تو میرے خیال سے ملک کے دیگر علاقوں میں اس نمائندہ کے حامی اور مخالفین سامنے آجائیں گے۔ مگر اویسی کی یہ خوش قسمتی ہے ان کے خلاف بولنے والی زبان آج کے حیدرآباد میں موجود نہیں ہے۔ آپ کسی سے بھی اسدالدین اویسی یا ان کے بھائی اور بیٹے وغیرہ کے بارے میں بات کریں تو جواب دینے کی بجائے وہ گونگا ہوجائے گا۔عوام کے اندر اتنی دہشت پیدا کرنے میں اویسی خاندان کو کم ازکم دوپشت کی توانائی اور طاقت لگانی پڑی ہے۔سب سے پہلے اسد الدین اویسی کے والد اور بزعم خویش سالار ملت سلطان صلاح الدین اویسی نے ایک ایک کرکے اس شہر مردم خیز سے مقابلے میں آنے والے قدموں کا صفایا کردیا ، اے آئی ایم آئی ایم کی اس صفائی مہم میں کئی کانگریسی لیڈر کام آئے تو کئی مقامی مسلم نمائندوں کا نام ونشان مٹ گیا۔ بالآخر میدان میں اویسی خاندان تن تنہا رہ گیااور ان کا مقابلہ کرنے کے لیے کوئی بھی مسلم سیاسی لیڈر باقی نہیں بچا۔انہیں حالات نے حیدرآباد کے باشعور اور تعلیم یافتہ رائے دہند گان کو مایوس کیا ہے اور انہوں نے ووٹنگ میں دل چسپی لینی کم کردی ہے۔
اگر آج کا باشعور اور سیاسی بازیگری کو قریب سے جاننے سمجھنے اور پرکھنے والا مسلمان طبقہ اویسی کو بی جے پی اور سنگھ کا آلۂ کار قرار دیتا ہے تو ان کی بات کو سرے سے نظر انداز نہیں کیا جانا چاہئے ؛ بل کہ انہیں بھی سننا اور سمجھنا چاہئے ۔زندہ اور باحوصلہ قومیں کھسیاکر کھمبا نہیں نوچتیں ، نہ حریف کو گالیوں اور مغلظات سے زیر کرکے اپنی پشت تھپتھپاتی ہیں۔زندہ قومیں ایسی احمق بھی نہیں ہوتیں کہ وہ شتر مرغ کی طرح اپنی گردن زمین میں گاڑ کر خود کو محفوظ سمجھ بیٹھیں۔انہیں ماضی اور حال کا مطالعہ کرکے صحیح صورت حال کا جائزہ لینا ہوتا ہے تاکہ تابناک مستقبل کے خاکے اور منصوبے مرتب کیے جاسکیں۔ انہیں سوچنا پڑتا ہے کہ جب اورنگ آباد کارپوریشن انتخابات میں مجلس کو شیو سینا سے ہاتھ ملانے میں کوئی شرم یا گریز نہیں ہے تو کیا بہار کے مسلمانوں کو اس کا حق نہیں ہے کہ وہ اویسی جیسے امپورٹیڈ آئٹم کو ٹھوکر مارکر مخالفین کی پولرائزیشن کی پالیسی کو خاک میں ملادیں۔ اویسی کی کارکردگی سے بہار کے مسلمان 2014 کے عام انتخابات سے ہی مسلسل چوٹ کھارہے ہیں۔ مگر یہ ایک طویل تجزیاتی موضوع ہے، جس پر با ضا بطہ گفتگو آئندہ کی جائے گی اور آئندہ آپ کو اویسی کے مندر کی زیارت بھی کرائی جائے گی ۔علاوہ ازیں اویسی کی جنت یعنی ’’دارالسلام‘‘ کی سیر بھی کرائی جائے گی ،جہاں غریبوں خاص کر مسلمانوں کے نام پر کئی قسم کی دکانیں چل رہی ہیں اور خوب پھل پھول رہی ہیں، ان کے دروبام کی زیارت بھی آپ کرسکیں گے ، تاکہ آپ اپنے اویسی صاحب کو اچھی طرح سے جان اور پہچان سکیں۔
ہاں! چار مینار کے نیچے قائم وہی مندر جسے عام لوگ اویسی کا مندر کہتے ہیں، جس کے اوپرسلطنت نظام کا تعمیر کردہ تاریخی چار مینارہے اور اس کے اندر باضابطہ ایک مسجد بھی ہے۔مگر برسوں بیت گئے یہ تاریخی مسجد اذان کی آواز کو ترس رہی ہے اور اپنے فرش پراہل ایمان کی جبینوں کے سجدے کا انتظار کررہی ہے۔ جب کہ اسی کے نیچے اویسی کا مندر خوب آباد ہے ،میں نے تقریباً پندرہ دن تک ایک سے ڈیڑھ گھنٹہ وہاں مستقل کھڑا ہوکر دیکھا ہے ، اس مندر میں پوجا کرنے اور ’’جل ‘‘ چڑھانے والوں کی بھیڑ رہتی ہے۔
فی الحال تلنگانہ کے تعلق سے میرے ایک دوست نے اپنی فیس بک وال پر اسد الدین اویسی سے ریاست کے مسلمانوں کے مطالبات پر کئی سوال اٹھائے ہیں۔حقیقت میں یہ تلنگانہ کے ایک ایک مسلمان کا سوال ہے،جس کا اویسی کے پاس کوئی جواب نہیں ہے۔
میرے دوست کہتے ہیں۔’’مسلمانوں کے ساتھ جھوٹی ہمدردی کا دعوی کرنے والے اسدالدین اویسی، پورے ملک میں مسلمانوں کی حمایت کا ڈرامہ کرتے ہیں، لیکن اپنے تلنگانہ میں اقتدار کی لالچ میں مسلمانوں پر ہو رہے ظلم وزیادتی پر خاموش ہیں‘‘۔
تلنگانہ سرکار نے مسلمانوں کو 12 فیصد ریزرویشن دینے کا اعلان کیا تھا۔ آج تک یہاں کے مسلمانوں کو ان کا ریزرویشن (جائزحق) نہیں دیا گیا۔
2014 میں چندر شیکھر راؤ نے وعدہ کیاتھا کہ جب ان کی حکومت قائم ہوگی تو وہ محض 4 مہینے میں تلنگانہ کے مسلمانوں کو 12 فیصد ریزرویشن دینگے، وقف بورڈ کوعدالتی پاور دی جائےگی، جو موجودہ اسکالر شپ ہے،اس میں اضافہ کیا جائے گا، لیکن گزشتہ چھ برسوں میں کوئی وعدہ پورا نہیں کیاگیا ، نہ ہی مسلمانوں کا کوئی کام کیا گیاہے، مسلمانوں کوایک فیصد بھی ریزرویشن نہیں دیا جا رہا ہے،بلکہ مسلمانوں کی حالت پہلے کے مقابلے اور زیادہ خراب ہوگئی ہے ۔
اسد الدین اویسی کی مزید کرامات آپ تک پہنچائی جاتی رہیں گی اور بہار انتخابات میں ان کے کودنے کی وجوہات یا سازش کو بھی مدلل طریقے سے پیش کرنے کی سعی کی جائے گی ، تاکہ اللہ کریم مسلمانوں پر رحم فرمائے اور سیاسی شعور عطا فرمائے اور سنگھ کی پولرائزیشن کی مذموم پالیسی کو خاک ملادے ۔ مگر اس کے سبب کے طور پر مسلمانوں کو ہی کمان ہاتھ میں لینی ہوگی۔

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)