اویسی اور مجلس پر ردِعمل میں افراط و تفریط کیوں ؟- مسعود جاوید

پارلیمنٹ نے انہیں سنسد رتن ایوارڈ سے نوازا اور آپ انہیں ویلن ثابت کرنے پر تلے ہیں۔ الیکشن کمیشن آف انڈیا نے مجلس کی قانون کے دائرے میں سیاسی سرگرمیوں کا اعتراف کرتے ہوئے ریاستی پارٹی تسلیم کیا اور آپ اسے فرقہ پرست پارٹی ثابت کرنے والوں کے سر میں سر ملا رہے ہیں۔ یہ آپ نہیں آپ کے اعصاب پر سوار فیک سیکولرزم کا بھوت اور خوفزدہ نام نہاد سیکولر پارٹیوں اور میڈیا کے ذریعے پروسے ہوئے بیانیے سے متاثر ذہنیت بول رہی ہے۔
اختلاف رائے کا میں احترام کرتا ہوں لیکن کردار کشی کی میں مخالفت کرتا ہوں۔ میں آپ کی اس رائے سے بہت حد تک متفق ہوں کہ مسلم پارٹی غیر مسلموں کی صف بندی (پولرائزیشن) کا، غیر معقول سہی ، ذریعہ ہے۔ لیکن مجلس یا کسی اور پارٹی کو الیکشن لڑنے کے حق سے دست بردار کرنے کا مشورہ دینے کا بھی قائل نہیں ہوں۔ آپ اپنے نظریہ اور سوچ سے مسلم رائے عامہ ہموار کریں، اگر ان کی سمجھ میں بات آتی ہے تو ظاہر ہے وہ ایسی مسلم پارٹی کے حق میں ووٹ نہیں کریں گے۔ کانگریس پارٹی کے ترجمان کا یہ کہنا کہ سیمانچل میں مجلس نے کھیل بگاڑ دیا،درست نہیں ہے۔ انھیں شرم آنی چاہیے کہ جب اویسی صاحب نے دہلی میں راجد کے لیڈروں سے الائنس کی بات کی، اخترالایمان صاحب نے پٹنہ میں بات کی پھر بھی وہ پارٹی قابل قبول نہیں ، بقول بعض تجزیہ نگارانھوں نے کانگریس کے دباؤ میں ایسا کیا ۔ تو الائنس بھی نہ کریں اور مسلم ووٹ بھی کسی طرف نہ جائے ایسا تو جب ہی ممکن ہوگا جب آپ ان کے الیکشن لڑنے پر پابندی لگوا دیں۔
بعض مسلم دانشور اور بعض ملی تنظیموں کے ذمے داران اویسی صاحب کے کارٹون شیئر کر رہے ہیں، یہ افسوسناک ہے؛ اس لئے نہیں کہ میں اویسی صاحب یا مجلس سے کلی طور پر متفق ہوں، اس کا کارکن ہوں ، حمایتی ہوں یا خیر خواہ ہوں؛ بلکہ اس لئے کہ ایسےکارٹون شیئر کر کے وہ لوگ اپنے وقار کو مجروح کر رہے ہیں۔ ویسے تو ان میں سے بعض وہ لوگ ہیں، جو داعیِ اسلام ہیں اور اقامتِ دین کی بات کرتے ہیں، اکثر و بیشتر دینی موضوعات پر پوسٹ کرتے رہتے ہیں؛ لیکن انہوں نے دین کے اہم اصول ” بغیر تحقیق کسی بات کو آگے بڑھانا، شیئر کرنا غیر اسلامی فعل ہے” کو طاق پر رکھ دیا ہے۔
بعض لوگ مسلم عوام کو بے سر پیر کی باتوں سے گمراہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، مثال کے طور پر ” اپنی ریاست میں ایک سیٹ اور بہار میں ٢٠ سیٹ پر الیکشن لڑنے کا مقصد بی جے پی کو فائدہ پہنچانا ہے” وغیرہ وغیرہ۔ ایسے لوگوں کو چاہیے کہ وہ لکھنے سے پہلے اس موضوع پر پڑھ لیا کریں۔پہلی بات یہ کہ بہار کے تناظر میں اگر آپ موازنہ کر رہےہیں تو اسمبلی کی بات کریں۔ مجلس اتحاد المسلمین شہر حیدرآباد کی محدود نوعیت کی ایک پارٹی تھی ۔۔ ٢٠١٤ میں پہلی بار اسے الیکشن کمیشن آف انڈیا نے اس کی سرگرمیوں کے اعتراف میں اسے بحیثیت مقامی ریاستی پارٹی تسلیم کیا اور مجلس نے ٣٥ سیٹوں پر امیدوار کھڑے کئے اور ٧ سیٹ پر جیت حاصل کی۔ مہاراشٹر اسمبلی انتخابات میں بھی ٢ سیٹ اور لوک سبھا الیکشن میں ایک سیٹ حاصل کی اس طرح پارلیمنٹ میں مجلس کے دو نمائندے تلنگانہ سے اسد الدین اویسی اور مہاراشٹر سے امتیاز جلیل ہیں۔
٢٠١٤ میں أسد الدین اویسی صاحب کو سنسد رتن ایوارڈ سے نوازا گیا، اورنگ آباد میونسپل کارپوریشن میں دوسری بڑی پارٹی مجلس ہے۔ کسی پارٹی کی مخالفت کرنا آپ کا دستوری حق ہے؛ لیکن خدارا حقائق سے چشم پوشی نہ کریں اور غلط بیانی سے باز آجائیں۔
جس بہار الیکشن کی بات آپ کر رہے ہیں،وہاں٢٠ سیٹ کے لئے مجلس کے امیدوار میدان میں اترے انہوں نے گٹھبندھن کا ووٹ اتنا نہیں کاٹا کہ اثر انداز ہو چنانچہ ٩ سیٹوں پر گٹھبندھن کے امیدوار اور ٦ سیٹوں پر این ڈی اے کے اور محض ٥ سیٹوں پر مجلس کے امیدوار کامیاب ہوئے پھر بھی سب کی زبان پر ایک ہی شکوہ ہے کہ اویسی نے ووٹ کاٹ لیا۔ ہاں کاٹ لیا ،اس لئے کہ یہ مسلم اکثریتی علاقہ سیمانچل ہی کیوں خدمت کرتا رہے۔ آزادی کے بعد سے کانگریس اس کے بعد لالو اس کے بعد نتیش نے حکومت کی مگر ڈیولپمنٹ نام کی چڑیا نے غلطی سے بھی کبھی سیمانچل کا رخ نہیں کیا۔ ہر سال سیلاب کی آفت سے وہاں کے لوگ پانی پانی ہو جاتے ہیں،اس سیلاب سے انہیں نجات دلانے کی کوشش نہیں کی گئی۔ ایسی صورت میں وہاں کی عوام اگر تبدیلی کا فیصلہ کرتی ہے تو کانگریس، راجد اور جدیو اپنی ناکامیوں کو وجہ مانیں نا کہ مجلس کو۔
مجلس کے پانچ ٥ امیدوار کامیاب ہوئے یہ جوش میں ہوش گنوانے کا اور دوسروں کو چڑھانے کا وقت نہیں ہے ،انہیں اپنی اہلیت ثابت کرنے کا اور برادران وطن کے لیے نمونہ بن کر بلا تفریق مذہب و ذات برادری خدمت کر کے اپنی پہچان بنانے اور مقبولیت حاصل کرنے کا موقع ملا ہے۔
اہانت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ردعمل کو دیکھتے ہوئے ایک سنجیدہ غیر متعصب یہودی نے کہا میں محمد (علیہ الصلوٰۃ والسلام) کو جاننا چاہتا ہوں۔ لوگوں نے اسے سیرت رسول کی کتابیں دیں۔اس نے کہا میں دیکھنا چاہتا ہوں،لوگوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھ کر شرم سے نظریں جھکا لیں، ظاہر ہے کہ خلق عظیم کا ذرہ بھی ہمارے اندر نہیں ہے تو سیرت کا عملی نمونہ کہاں سے پیش کریں۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*