بی جے پی نہ اویسی کو پسند کرتی ہے اور نا ہی اسے اویسی کی ضرورت ہے- شیوم  وِج

ترجمہ:احمد الحریری

اکثر ایسا کہا جاتا ہے کہ بی جے پی انتخابات جیتنے کے لیے ہر وہ چیز جس کی اسے ضرورت ہوتی ہے کرلیتی ہے لیکن ایک چیز جو وہ نہیں کرتی اور خاص طور سے مودی اور شاہ والی بی جے پی، وہ یہ ہے کہ بی جے پی مسلمانوں کو شاید ہی کبھی ٹکٹ دیتی ہے، چاہے اس کی قیمت مسلم اکثریتی سیٹوں سے ہی کیوں نہ چکانا پڑے، بی جے پی کا مقصد صرف نشستیں جیتنا ہوتا تو وہ خوشی خوشی مسلمانوں کو ٹکٹ دیتی۔ ٹکٹ کی تقسیم میں مسلمانوں کو کچھ نمائندگی دے کر بی جے پی شاید مدھیہ پردیش، کرناٹک، دہلی اور راجستھان کے ریاستی انتخابات کو جیت سکتی تھی،انتخابات کی جیت پر اجارہ داری رکھنے والی پارٹی سے جڑنے کے لئے آپ کو بہت سے خواہش مند مسلمان مل جائیں گے،دوسری بہت سی کمیونیٹیز کی طرح مسلمان بھی اہل اقتدار کے ساتھ رہنے کو کوئی مسئلہ نہیں مانتے۔

یہ بے جے پی ہی ہے جو مسلمانوں کی خواہشات پر توجہ نہیں دیتی ، کیونکہ بی جے پی نظریہ جیسی چیزوں کو انتخابات جیتنے سے زیادہ ویلیو دیتی ہے، 2014 کے بعد تو یہ پہلے سے کہیں زیادہ صاف ہوگیا ہے کہ بی جے پی کا نظریاتی مقصد مسلمانوں کو پسماندگی کے اس نقطے پر لے آنا ہے کہ وہ منظر سے بالکل ہی غائب ہی ہوجائیں،ان کے نظریے کے اعتبار سے مسلمانوں کو خاموش اور گھروں میں قید رہنا چاہئے، مسلمانوں کو ایم ایل اے، ایم پی، منسٹر اور لیڈر نہیں بننا چاہئے، مسلمانوں کو آواز بلند نہیں کرنی چاہئے اور ان کے مطالبات نہیں سنے جانے چاہئیں۔

شہریت ترمیم بل مخالف مظاہروں میں ایک یا دو سڑک جام کردینا کون سا بڑا معاملہ تھا کہ دہلی میں فسادات بھڑک گئے؟شمالی دہلی میں ایک  ایسے روڈ کو جسے کوئی بھی سچ میں مسافروں کے لئے مسئلہ نہیں مانتا تھا کو بلاک کردینا کون سا بڑا معاملہ تھا؟لیکن بے جے پی کے لئے مسلم سیاسی آواز سخت ناقابل قبول تھی۔

بی جے پی اویسی کو پسند نہیں کرتی ہے:

یہ کہنا بالکل مذاق ہے کہ بی جے پی اویسی کے سیاست کے ارد گرد رہنے کو پسند کرتی ہے، بی جے پی داڑھی اور ٹوپی والے مسلم کو پسند نہیں کرتی ہے، میری سمجھ یہ ہے کہ بی جے پی پارلیمنٹ میں کھڑے ہونے والے ایک مسلم کو پسند نہیں کرتی ہے پھر وہ پہلی صف میں ایک ہندو راشٹر کے پارلیمنٹ میں مسلمانوں کی موجودگی کو کیوں پسند کرے گی؟

بہار کی سیاسی تاریخ میں ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ حزب اقتدار میں ایک بھی مسلم ایم ایل اے نہیں ہے، بہار کی سترہ فیصد آبادی والی کمیونٹی کو بی جے پی نے ایک بھی ٹکٹ نہیں دیا، یہ واحد پارٹی ہے جو سیاسی  گلیاروں سے پوری کمیونٹی کو قوت کے ساتھ ختم کر دینا چاہتی ہے، کیا آپ سمجھتے ہیں کہ اسمبلی میں مجلس کے پانچ ایم ایل اے کو دیکھنا پسند کرے گی؟

پانچ سیٹوں پر مجلس کی جیت کے بعد وہی عام سی بحث شروع ہوگئی ہے کہ اویسی کے عروج کو جس طرح سے بی جے پی چاہ رہی ہے وہی ہورہا ہے کہ مسلم مسلم پارٹی کو اسی طرح سے ووٹ دیں جس طرح ہندو ہندو پارٹی کو ووٹ دیتے ہیں، بی جے پی کے ایجنڈہ کی یہ ایک غلط ترجمانی ہے، بی جے پی اور آر ایس ایس نے سیکولر جماعتوں کو مسلم ووٹوں کے تئیں شرمندہ کردیا ہے اور ایسا ہندوستانی سیاست اور عوامی زندگی میں مسلم کمیونٹی کی آواز کو خاموش کرا کر کیا جا رہا ہے، اس لئے اب اگر مجلس اور اویسی کے ذریعے مسلمانوں کو ایک سیاسی قوت حاصل ہورہی ہے تو اس سے بی جے پی کا مقصد پورا نہیں ہوتا ہے۔

بلکہ اس کے بجائے  بی جے پی تو چاہتی ہے کہ مسلمانوں کا مطلق کوئی ووٹ ہی نا ہو،اور دھیرے دھیرے یہ مقصد ترتیب وار این پی آر، این آر سی اور سی اے اے جیسے قوانین سے حاصل کیا جاسکتا ہے، یہ وہ قوانین ہیں جو بہت سارے مسلمانوں کو شہریت سے محروم کرسکتے ہیں،آسام میں این آر سی کی بار بار کوششیں یہ بتاتی ہیں کہ بی جے پی کس طرح انتخابی رول سے مسلم رائے دہندگان کی تعداد کم کردینا چاہتی ہے، اس سے نہ یہ کہ حزب اقتدار سے مسلم نمائندگی ختم ہوجائے گی بلکہ حزب اختلاف میں بھی مسلم نمائندگی نہیں رہے گی۔

بی جے پی کو اویسی کی ضرورت نہیں ہے:

پولرائزیش کے لئے بی جے پی کو اویسی کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ  بی جے پی نے بہر حال پولرائزیش گیم کی منزل کو طے کر لیا ہے، اور اس میں اسے اویسی کی ضرورت نہیں ہے، مثال کے طور پر مسلمانوں کے خلاف اس جھوٹی خبر کو ہی لے لیجئے کہ جب پال گھر میں سادھوؤں کی ماب لنچنگ کر دی گئی تھی تو اس کے فوراً بعد مسلمانوں پر اس کا الزام لگا دیا گیا تھا،حالانکہ اس میں کوئی بھی فرقہ وارانہ پہلو نہیں تھا، اگر اویسی کے آئینی نیشنل ازم کا اظہار تھوڑا بھی بی جے پی لیڈران اور ان کے حمایتیوں کی راہ میں آتا ہے تب مسلمانوں پر ہندؤوں سے نفرت، پاکستان پرست اور گائے ذبح کرنے جیسی چیزوں کا الزام لگا دیا جاتا ہے۔

ایک بڑی غلط فہمی یہ ہے کہ ہندو رائے دہندگان صرف مذہب کی بنیاد پر ووٹ کرتا ہے، اگر مذہبی شناخت کافی ہوتی تو وزیراعظم مودی کو”خود انحصار ہندوستان”یعنی "آتم نربھر ” اور اس جیسے دوسرے جدید نعرے بیچنے کی ضرورت نہیں پڑتی،اس طرح کے رائے دہندگان جو بی جے پی کو ووٹ کرتے تھے وہ بہر حال بی جے پی کو ہی ووٹ کرینگے،اویسی کی موجودگی اور عدم موجودگی ہندوتوا ذہنیت کے حامل رائے دہندگان کو بی جے پی کے تئیں متاثر نہیں کرے گا۔

اویسی کی ضرورت کسے ہے؟

اگر اویسی کی کسی کو ضرورت ہے تو وہ مسلمان ہیں، ہندوستانی مسلمانوں کو پبلک ڈسکورس میں ایک آواز سے محروم کیا جارہا ہے کیونکہ وہ سیکولر پارٹیاں جو ان کے مفادات کے تحفظ کا دعویٰ کرتی تھیں وہ بھی خاموش ہوچکی ہیں بلکہ وہ خاموشی سے بڑھ کر ہندو بنیاد پرستی کے ساتھ عملی تعاون اور اشتراک کر رہی ہیں اگر آپ اروند کیجریوال، کمل ناتھ اور پرینکا گاندھی کی حالیہ سرگرمیوں کو دیکھیں گے تو یہ صاف نظر آئے گا۔

ایسے وقت میں اویسی ہندوستانی سیاست میں اچھائی کی ایک طاقت ہیں، وہ کوئی وزیر اعلیٰ یا وزیر اعظم نہیں بننے جا رہے ہیں اور وہ یہ جانتے بھی ہیں، انہیں جو کچھ حاصل ہوگا وہ یہ ہوگا کہ وہ مسلم ووٹوں کے لیے کچھ چیلنج پیدا کردیں گے جو سیکولر پارٹیوں کو اس بات کے اعتراف پر مجبور کرے گا کہ ہاں ہندوستان میں مسلمان ہیں اور ان کے ساتھ تمام سیاسی پارٹیوں کو اسی عزت کا معاملہ کیا جانا چاہیے جو دوسرے ووٹروں کے ساتھ کیا جاتا ہے۔

 

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*