مغربی بنگال کے محکمہ تعلیم کے ہیڈ کوارٹر کے باہر 5 اساتذہ نے کھایا زہر، نوکری سے متعلق مطالبات کولے کرکررہے تھے احتجاج

 

کولکاتہ: مغربی بنگال کے ایک پرائمری اسکول ششو شکشاکیندر کے پانچ کانٹریکٹ اساتذہ نے مبینہ طور پر محکمہ تعلیم کے ہیڈ کوارٹر کے باہر زہر کھا لیا۔ یہ تمام اساتذہ نوکری سے متعلق اپنے مطالبات کے حوالے سے محکمہ تعلیم کے ہیڈ کوارٹرز کے باہر احتجاج کر رہے تھے۔ سب کو ایک سرکاری اسپتال لے جایا گیا، جہاں ان میں سے دو کی حالت نازک بتائی جاتی ہے۔یہ واقعہ وکاس بھون کے سامنے اس وقت پیش آیا جب اسکول کے کچھ کانٹریکٹ اساتذہ اپنے گھروں سے تقریبا 600 سے 700 کلومیٹر دور دور دراز علاقوں میں مبینہ ٹرانسفر کے خلاف شکشک اوکیا منچ (ٹیچرز ایکتا منچ) کے بینر تلے احتجاج کر رہے تھے۔ جب پولیس نے موقع پر پہنچ کر مشتعل اساتذہ کو منتشر کرنے کی کوشش کی تو پانچ خواتین اساتذہ نے زہر کی بوتل نکال کر پی لیا۔پولیس کے مطابق ان میں سے تین موقع پر ہی بیہوش ہو گئے۔ انہیں فوری طور پر بدھان نگر سب ڈویژنل ہسپتال لے جایا گیا لیکن ان کی حالت بگڑتے ہی دو کو این آر ایس میڈیکل کالج اور اسپتال منتقل کیا گیا، جبکہ دیگر کو آر جی کار میڈیکل کالج اسپتال منتقل کیا گیا۔ منگل کو خودکشی کی کوشش کرنے والے پانچ اساتذہ سمیت کل 16 افراد کو مبینہ طور پر ریاستی سکریٹریٹ نابنا کے سامنے احتجاج کے بعد شمالی بنگال منتقل کر دیا گیا ہے۔ سرکاری پے رول میں نہیں ہیں کانٹریکٹ اساتذہ لیکن انہیں ماہانہ 10000 سے 15000 روپے کے درمیان تنخواہ دی جاتی ہے۔ وہ ایک عرصے سے مستقل ملازمتوں اور تنخواہوں میں اضافے سمیت مختلف مسائل پر احتجاج کر رہے ہیں۔ ایک مشتعل استاد نے کہا کہ ہم کانٹریکٹ اساتذہ ہیں، اگر نئی تعلیمی پالیسی نافذ ہوئی تو ہمیں روزگار نہیں ملے گا، ہم ایک عرصے سے حکومت سے اپنے مطالبات سننے کا مطالبہ کر رہے ہیں، لیکن یہ ادائیگی کے لیے تیار نہیں ۔ ایک اور استاد نے کہا کہ حال ہی میں ہم نے احتجاج کیا تھا اور اس کے بعد اساتذہ کے تبادلے کر دئے گئے تھے۔اس واقعے نے سیاسی حلقوں میں بحث چھیڑدی ہے۔ بی جے پی لیڈر اور ترجمان شمک بھٹاچاریہ نے کہا کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت گیلری سے کھیل رہی ہے۔ اساتذہ کا کوئی احترام نہیں، کوئی روزگار نہیں اور کوئی انسانیت نہیں ہے۔ حکومت لوگوں کو بیوقوف بنا رہی ہے۔