اوشیوارہ قبرستان کے مکینوں کی خوش نصیبی-مسعود جاوید

کہتے ہیں ریئل اسٹیٹ (زمین) کی قیمت اس کے لوکیشن کے اعتبار سے کم یا زیادہ ہوتی ہے۔ پرائم لوکیشن کی زمینوں کی قیمت سب سے زیادہ ہوتی ہے۔ اسی طرح رہائشی غرض کے لئے مکان خریدنے والے بسا اوقات اچھے پڑھے لکھے مہذب کلچرڈ کلاس پڑوس والے پلاٹ زیادہ قیمت دے کر بھی خریدنے کے خواہش مند ہوتے ہیں۔ لیکن یہ مادی دنیا کے اعتبارات ہیں۔ روحانی دنیا کی ترجیحات دیکھی جائے تو سب سے مہنگی وہ زمین ہوتی ہے جس قبرستان میں اللہ کے نیک بندے لیٹے ہوں۔ ان کے پڑوس میں لیٹنے کی خواہش ہر خدا ترس انسان کو ہوتی ہے۔

جوگیشوری ممبئی کے اوشیوارہ قبرستان کی زمین معنوی اعتبار سے آج سے پرائم لوکیشن یعنی قیمتی ترین زمینوں میں شمار ہوگی۔ دارالعلوم دیوبند کے شیخ الحدیث مفتی سعید احمد پالنپوری رحمہ اللہ کی اس قبرستان میں تدفین کی وجہ سے وہاں مدفون مرحومین کی قسمت کو آج چار چاند لگ گیااور کیوں نہیں ، توقع کے بر عکس عالم اسلام کی اتنی نیک طینت شخصیت جس نے چالیس سالوں تک بر صغیر کے معتبر،مرجع خلائق اور ازہرِ ہند دارالعلوم دیوبند میں مسلسل احادیث نبویہ پڑھایا ہو اور لاکھوں کی تعداد میں جن کے شاگرد رشید ہوں،وہ آج ان کے پڑوسی بن گئے۔ خلافِ توقع اس لئے کہ معمول کے مطابق ان کو دیوبند قبرستان میں دفن ہونا تھا،جہاں ان کی اہلیہ محترمہ لیٹی ہوئی ہیں،مگر جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ کوئی شخص نہیں جانتا کہ زمین کے کس ٹکڑے پر اس کی موت ہوگی ” بأی أرض تموت”، مولانا پالنپوری بغرض علاج ممبئی ہسپتال میں داخل کیےگئے تھے اور وہیں ان کا انتقال ہو گیا؛ لہذا تجہیز و تکفین اور تدفین بھی وہیں عمل میں آیا۔
اگر اس تناظر میں دیکھا جائے تو واقعی وہ قبرستان اور سیمیٹری زیادہ قیمتی ہیں،جہاں بڑے بڑے علما فقہا،محدثین، موجدین، سائنٹسٹس اور عبقری شخصیات مدفون ہیں۔ علم جس قدر تقسیم کیا جائے،گھٹنے کی بجائے بڑھتا ہے اور علم (مظروف) جس دماغ (ظرف) میں ہوتا ہے، وہ ظرف یعنی دماغ کبھی خالی نہیں ہوتا، ہاں مرنے کے بعد لینے دینے کا پروسیس رک جاتا ہے۔
خوش قسمت ہیں اوشیوارہ قبرستان کے لوگ کہ اب اس قبرستان میں مولانا مرحوم کی قبر پر فاتحہ پڑھنے کے لئے جید علماے حق ، اہل صفا، بزرگ ہستیاں اور نیک صالح علمی و دینی وارثین پہنچیں گے اور ان کے طفیل میں اس قبرستان کو رونق بخشتے رہیں گے۔

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)