اپوزیشن کی مخالفت کے باوجود لوک سبھا نے وقفۂ سوال کو ختم کرنے کی تجویز منظورکرلی

نئی دہلی:کانگریس اور کئی دیگر اپوزیشن جماعتوں کی مخالفت کے درمیان حکومت نے پیر کو لوک سبھا میں پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے دوران وقفۂ سوال اور غیر سرکاری سرگرمیوں کی معطلی کی تجویز پیش کی ہے جسے ایوان زیریں نے منظور کرلیاہے۔حزب اختلاف نے وقفۂ سوال کی معطلی کی مخالفت کی اورحکومت پر سوالات سے گریزکرنے کاالزام عائدکیاہے جس پرحکومت نے کہاہے کہ ایک غیرمعمولی صورتحال ہے جس میں سیاسی جماعتوں کو تعاون کرناچاہیے۔وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے کہاہے کہ یہ سیشن غیرمعمولی حالات میں منعقد ہورہا ہے اورفیصلہ کیاگیا ہے کہ یہ ایوان چار گھنٹے چلے گا۔ اس دوران پارلیمانی امورکے وزیراورپارلیمانی امور کے وزیر مملکت نے مختلف پارٹیوں کے رہنماؤں سے سوالیہ اوقات اور غیر سرکاری کاموں کے موضوع پربات کی۔انہوں نے کہاکہ ہم نے مختلف جماعتوں کے رہنماؤں سے بھی بات کی تھی اور بیشتر جماعتوں نے اس پراتفاق کیاتھا۔سنگھ نے کہا کہ میں تمام جماعتوں کے ممبروں سے درخواست کرنا چاہتا ہوں کہ سیشن غیر معمولی حالات میں چل رہاہے اور آپ سب کے تعاون کی ضرورت ہے۔اس سے قبل لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلانے کہا کہ عالمی سطح پر غیر معمولی حالات میں سب سے تعاون کی توقع کی جاتی ہے۔سب کو لوک سبھا کے قواعد و ضوابط کے تحت خاطر خواہ وقت اور موقع دیا جائے گا۔پارلیمانی امور کے وزیر پرہلاد جوشی نے اس سلسلے میں لوک سبھا میں تجاویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ حکومت سوالوں سے بھاگ نہیں رہی ہے اور وہ تمام سوالوں کے جواب دینے کے لیے تیار ہے۔جب پارلیمانی امور کے وزیر نے اس کی تجویز پیش کی تو ایوان میں کانگریس کے لیڈر ادھیر رنجن چودھری نے کہا کہ آزادی کے 73 سال بعد حکومت سوالیہ وقفے کو دور کرکے جمہوریت کا گلا گھونٹنے کی کوشش کر رہی ہے۔