آن لائن تعلیم میں مشکلات کی وجہ سے 43 فیصد معذور طلبہ چھوڑسکتے ہیں تعلیم:سروے

نئی دہلی:آن لائن تعلیم میں مشکلات کی وجہ سے تقریبا 43 فیصد معذور طلبہ پڑھائی چھوڑنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ ایک سروے میں یہ بات سامنے آئی ہے۔ معذور افراد کے حقوق کے لئے کام کرنے والی ایک تنظیم سوابھیمان نے مئی میں اڑیسہ، جھارکھنڈ، مدھیہ پردیش، تریپورہ، چنئی، سکم، ناگالینڈ، ہریانہ اور جموں و کشمیر میں یہ سروے کیا تھا۔ طلبہ، والدین اور اساتذہ سمیت کل 3627 افراد نے حصہ لیا۔سروے کے مطابق 56.5 فیصد معذور بچوں کو روزانہ کلاس پڑھنے کے باوجود بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جبکہ 77 فیصد طلبہ نے کہا ہے کہ وہ آن لائن تعلیم کے طریقوں سے آگاہ نہیں ہیں۔ سروے میں بتایا گیا ہے کہ 56.48 فیصد طلبہ اپنی تعلیم جاری رکھے ہوئے ہیں جبکہ بقیہ 43.52 فیصد طلبہ تعلیم چھوڑنے کا ارادہ کررہے ہیں۔ تقریبا 44 فیصد بچوں نے یہ شکایت کی ہے کہ ویبنار میں کوئی سائن زبان کا ترجمان موجود نہیں ہے۔ سروے میں کہا گیا ہے کہ اساتذہ نے یہ بھی کہا تھا کہ 64 فیصد معذور بچوں کے پاس گھر میں اسمارٹ فون یا کمپیوٹر موجود نہیں ہیں۔ 67 فیصد طلبہ نے کہا کہ انہیں آن لائن تعلیم کے لئے ٹیب یا کمپیوٹر کی ضرورت ہے۔ سروے پر مبنی ایک رپورٹ میں کووڈ19 عالمی وبائی مرض کے وقت پالیسی میں تبدیلی اور ضروری ترامیم کی سفارش کی گئی ہے۔سوابھیمان کے بانی اور چیف ایگزیکٹو شروتی مہاپترا نے کہا ہے کہ تمام معذور بچوں کو ایک گروپ میں نہیں رکھا جاسکتا،کیوں کہ ان کی جسمانی معذوری مختلف ہے اور اسی وجہ سے ان کی ضروریات بھی مختلف ہیں۔ انہوں نے کہاکہ موجودہ وباء معذور طلبہ کو پیچھے چھوڑ سکتی ہے، اگر فوری طور پر اقدامات نہیں اٹھائے جاتے ہیں تو ان کے تعلیم اور زندگی کے حق کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔