آن لائن تعلیم اور دارالعلوم دیوبند ـ مولانا ممشاد علی قاسمی

بانی جامعہ فلاح دارین الاسلامیہ، بلاسپور، ضلع مظفرنگر

مورخہ ۲۳/۰۹/۲۰۲۰ کے اخبار میں حضرت مہتمم صاحب دارالعلوم دیوبند نے ایک بیان میں آن لائن تعلیم میں فوائد سے زیادہ نقصانات بتائے اور طلبا کے موبائل رکھنے اور اس کے غلط استعمال و مضر اثرات کا ذکر فرمایا۔

میں اس بنیادی نکتہ سے پوری طرح متفق ہوں کہ طلبا کیلئے بڑے موبائل رکھنا عموما مضر ہوتا ہے اس لئے بہت سے اداروں کی چہاردیواری میں اس کا رکھنا ممنوع ہے لیکن یہاں مسئلہ نا چہار دیواری کا ہے اور نا صرف موبائل کے صحیح یا غلط استعمال کا، یہ تو اپنی اپنی ذہنیت و تربیت پر منحصر ہے بات یہ ہیکہ لاک ڈاؤن کے اس دورانیہ میں جب کہ طلباء دارالاقاموں میں ہیں ہی نہیں اور گھروں پر ان کے موبائل رکھنے پر پابندی لگانا عملا ممکن نہیں، وہ منع کرنے کے باوجود اور آن لائن تعلیم نہ ہونے کے باوجود موبائل رکھنا چاہیں تو رکھ لیں گے۔ تمام تعلیمی ادارے بند پڑے ہیں، طلباء کے تعلیمی سال کا بڑا حصہ ضائع ہو گیا اور مستقبل قریب میں بھی کوئی قطعی تاریخ مدارس کھلنے کی مقرر نہیں، ایسے میں طلباء کیا کریں جن کا قیمتی وقت ضائع ہو رہا ہے، اساتذہ کیا کریں جو یا تو گھروں پر بیکار بیٹھے ہیں یا ویران مدرسوں کی چہار دیواری میں بیٹھے گھٹن اور بے چینی محسوس کر رہے ہیں۔ طلباء سے رابطہ کا کوئی طریقہ کوئی ذریعہ ان کے پاس نہیں سوائے آن لائن تدریس کے۔ ایسے میں اگر آن لائن تعلیم پر بھی پابندی لگا دی جائے تو براہ کرم بتائیں اساتذہ کرام اور طلباء کے درمیان رابطہ کا کیا ذریعہ ہوگا؟ کیسے وہ اپنی تعلیمی و تدریسی سرگرمیاں جاری رکھ سکیں گے؟
یہ درست ہے کہ آن لائن تعلیم درسگاہ کی باقاعدہ تعلیم کی جگہ نہیں لے سکتی یعنی اس کا اتنا فائدہ نہیں ہو سکتا لیکن مکمل انقطاع اور خالی رہ کر خرافات میں پڑ کر ضائع ہونے سے تو بہتر ہے کہ آن لائن تعلیم کے ذریعہ ان اوقات کو حتی الامکان کامیاب بنا لیا جائے۔ یہ بھی تسلیم کہ سب طلباء یا مان لیجئے اکثر طلباء آن لائن تعلیم میں دلچسپی نہیں لیتے اور موبائل کو دیگر مقاصد کیلئے استعمال کرتے ہیں لیکن آن لائن تدریس ہوگی تو کچھ فیصد طلباء تو یقیناً ایسے ہوں گے جو اس میں دلچسپی لے کر اپنے وقت کا، اپنے موبائل کا صحیح استعمال کریں گے، اگر ہم نے یہ بھی بند کر دیا تو ان سنجیدہ طلباء کا وقت بھی ضائع ہوگا۔ کوئی قابل عمل مفید متبادل بتائے بغیر پابندی لگانے میں تو سراسر نقصان ہی ہے۔

ایک سوال یہ بھی ہے کیا آن لائن تدریس نہ ہونے سے طلباء اپنے گھروں پر موبائل رکھنا بند کر دیں گے؟ کہا جا سکتا ہے کہ مدارس کی آن لائن تعلیم سے موبائل رکھنے کیلئے ایک جواز پیدا کر سکتے ہیں جس سے طلباء کے موبائل رکھنے سے متعلق حوصلہ افزائی ہوگی، ان کو آزادی ملے گی وغیرہ۔ تو پھر ہم (علماء کا ایک بہت بڑا طبقہ) موبائل پر آڈیو ویڈیو اور تحریری پیغامات کیوں بھیجتے ہیں؟ جن میں سے بہت سے صرف طلباء کیلئے ہوتے ہیں۔ ہمارے قول و عمل میں یہ تضاد کیوں ہے؟ کیا اس متضاد تصویر کا طلباء پر اور معاشرہ پر اچھا اثر پڑتا ہے یا موبائل پر صرف تدریس غلط ہے اور دیگر ویڈیو وغیرہ بھیجنا سب درست؟
جہاں تک طلباء کو مدرسہ کے اندر موبائل رکھنے سے روکنے کا معاملہ ہے تو اس کا جواز یقیناً ہے اور یہ ممکن اور قابل عمل بھی ہے، ادارے کھلنے پر یہ کیا بھی جا سکتا ہے لیکن طویل جبری تعطیلات میں نہ ہم کسی پر پابندی لگا سکتے ہیں اور نا یہ قابل عمل ہے۔ ہاں اس کو بنیاد بنا کر آن لائن تعلیم کو روکنا طلباء اور اساتذہ کے ساتھ زیادتی ضرور ہے۔ انتظامیہ کو سنجیدگی اور ہمدردی سے نظر ثانی کرنی چاہئے۔

صحیح بات یہ ہیکہ یہ ایک موقع ہے اپنے طلباء کو انٹرنیٹ کو تعمیری تعلیمی اور مثبت کاموں میں استعمال کرنے کی ترغیب دینے کا۔ اب یہ ہمارے اوپر ہے کہ ہم کتنے موثر انداز میں طلباء کو قائل کر پاتے ہیں اور اس سے تعلیمی فوائد اٹھانے کا ماحول بنانے میں کتنے کامیاب ہوتے ہیں۔
جو ادارے یا افراد آن لائن تعلیم کا کام کر رہے ہیں حقیقت میں وہ قابل تحسین، بڑا تعمیری اور مفید کام کر رہے ہیں۔ دارالعلوم دیوبند کو بے دلی سے معذرت خواہانہ انداز میں نہیں بلکہ وسیع النظری اور اعتماد کے ساتھ ان کی رہنمائی اور حوصلہ افزائی کرنی چاہئے۔

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*