قومی اردو کونسل کے زیر اہتمام ’قومی تعلیمی پالیسی 2020 اور اردو تعلیم‘ کے عنوان سے آن لائن مذاکرہ،ماہرینِ تعلیم کا اظہارِ خیال

 

نئی دہلی:آج قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے زیر اہتمام ’قومی تعلیمی پالیسی 2020 اور اردو تعلیم‘ کے عنوان سے ایک آن لائن مذاکرے کا اہتمام کیا گیا جس میں ماہرین تعلیم نے نئی تعلیمی پالیسی کے نکات و مشمولات اور اس کی رہنمائی میں اردو زبان کی تعلیم و ترویج کے امکانات پر سیر حاصل گفتگو کی۔ پروگرام کی شروعات میں تمام مہمانوں کا استقبال اور تعارفی کلمات پیش کرتے ہوئے کونسل کے ڈائریکٹر پروفیسر شیخ عقیل احمد نے کہا کہ نئی تعلیمی پالیسی جو وزیر اعظم نریندر مودی کے خوابوں کی تعبیر ہے اس میں صرف تعلیم پر ہی زور نہیں دیاگیا ہے بلکہ تربیت کو بھی اہمیت دی گئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہندوستان ہزاروں سال سے تعلیم اور تربیت دونوں کا مرکز رہا ہے اور نئی تعلیمی پالیسی میں ہندوستان کے اس کردار کو خاص طورپر مد نظر رکھا گیا ہے،ساتھ ہی طالب علموں کو سیکھنے کی آزادی دی گئی ہے،پہلے کی طرح موضوعاتی بندش یا پابندی نہیں رہی،اب ایک سبجیکٹ کا طالب علم اپنی خواہش اور مرضی سے دوسرے کسی بھی موضوع کو اختیار کر سکتا اور پڑھ سکتا ہے۔ اسی طرح اس میں ابتدائی تعلیم مادری زبان میں دیے جانے کی تاکید کی گئی ہے،جس میں یقیناً اردو زبان بھی شامل ہے۔
این سی ای آرٹی کے سابق ڈائریکٹر پروفیسر ایس راجپوت نے تعلیمی پالیسی میں مادری زبان کو اہمیت دیے جانے پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اس میں متعدد زبانوں کو سیکھنے پر بھی زور دیا گیا ہے جوکہ اچھی بات ہے۔انھوں نے کہا کہ کوئی بھی زبان اسی وقت ترقی کرے گی جب اسے اہمیت دی جائے،پس ہمیں سب سے پہلے خود اپنی مادری زبان کو عزت دینی ہوگی اور اس کا طریقہ یہ ہے کہ ہم اپنے بچوں کو ابتدائی تعلیم مادری زبان میں دینے کا اہتمام کریں۔ اردو کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ آزادی کے بعد ہندی کو فلموں کے ذریعے مقبولیت ملی اور ہندی کو سہارا اردو سے ملا کیوں کہ اس دور میں فلمیں لکھنے والے سارے اردو کے ادیب و تخلیق کار تھے،اردو کا ہر زبان کے ساتھ تعاون رہا ہے،لہذا اس زبان کو سیکھنا اور پڑھنا اپنے آپ میں ایک انوکھا تجربہ ہے۔ انھوں نے ایک اہم بات یہ کہی کہ کسی بھی زبان کو فروغ دینے کے لیے دوسری زبان کو ہٹانے کی بات نہیں کرنا چاہیے،بلکہ اپنی زبان کو فروغ دینے میں تمام صلاحیتوں کا استعمال کرنا چاہیے،اس کا مثبت نتیجہ نکلے گا اور ہم اپنے مقصد میں کامیاب ہوسکیں گے۔
پروفیسر محمد میاں سابق وائس چانسلر مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی نے اظہار خیال کرتے ہوئے قومی تعلیمی پالیسی کے بنیادی وژن اور تصور پرتفصیلی روشنی ڈالی۔ انھوں نے بتایا کہ نئی تعلیمی پالیسی میں کس طرح موجودہ تعلیمی نظام کو مستحکم اور بہتر بنانے پر زور دیا گیا ہے اور اس میں موجود خامیوں پر قابو پانے کی تدبیریں بتائی گئی ہیں۔ انھوں نے نئی تعلیمی پالیسی کے کامل نفاذ میں درپیش مشکلات کی بھی نشان دہی کی اور کہا کہ اس سلسلے میں وزارت تعلیم کے ذریعے ایک متحدہ پروگرام شروع کیا جانا چاہیے۔ اردو اساتذہ کی ٹریننگ پربھی انھوں نے زور دیا۔انھوں نے کہا کہ اس سلسلے میں جو ادارے کام کر رہے ہیں ان کے ساتھ مل کر قومی اردو کونسل بھی اچھا کام کر سکتی ہے۔
پروفیسر شاہد اختر نے قومی تعلیمی پالیسی میں اردو زبان کا تذکرہ نہ ہونے کے سوال پر کہا کہ آٹھویں شیڈول میں درج جتنی زبانیں ہیں یہ پالیسی ان سب کے تحفظ اور فروغ کی ضمانت دیتی ہے۔ ان میں اردو بھی شامل ہے اور اردو اس ملک کی ایسی زبان ہے جس کے اثرات اس ملک کی تمام زبانوں پر پائے جاتے ہیں اور اس کی کشش پوری دنیا میں محسوس کی جاتی ہے۔ قومی اردو کونسل اس زبان کے فروغ کے لیے پابند عہد ہے اور ہم سرکار سے مسلسل رابطے میں رہ کر اپنی کوششوں کو مزید منظم کررہے ہیں۔ اردو اساتذہ کی تربیت اور مختلف ریاستوں کے سرکاری اسکولوں میں اردو طلبہ کو پرائمری تعلیم مادری زبان میں فراہم کرنے کے لیے بھی ہم سب کوشش کر رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ 34 سال بعد عزت مآب وزیراعظم نریندر مودی کی سربراہی میں ایک جامع اور مفید تعلیمی پالیسی تیار کی گئی ہے ، جس کا تمام طبقات کو خیر مقدم کرنا چاہیے۔
جامعہ ملیہ اسلامیہ کی پروفیسر اروندر اے انصاری نے کہا کہ نئی تعلیمی پالیسی نظری اعتبار سے نہایت وسیع اور جامع ہے مگر دیکھنے والی بات یہ ہے کہ اس کے نفاذ کے لیے سرکار کیا انتظام کرتی ہے؟اسی طرح لوکل زبانوں بالخصوص اردو زبان کی تعلیم اور تحفظ کی بھی اس پالیسی میں ضمانت دی گئی ہے مگر اس کے لیے جو ادارے کام کررہے ہیں ان کو خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
ڈاکٹر ظہور گیلانی نے نئی قومی تعلیمی پالیسی کو وقت کی ضرورت قرار دیا۔انھوں نے کہا کہ اس پالیسی میں جدید دور کے تعلیمی تقاضوں کو سامنے رکھ کر اہم نکات کو شامل کیا گیا ہے۔ اشوکا یونیورسٹی کے ڈاکٹر علی خان محمودآباد نے بھی تعلیمی پالیسی کے نظریاتی پہلو کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اس میں جامعیت اور لچک تو ہے مگر اسے عملی جامہ پہنانا اصل مطلوب ہے۔ مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی حیدرآباد کے پروفیسر صدیق محمد محمود نے نہایت خوب صورتی سے نظامت کا فریضہ انجام دیا اور اخیر میں مقررین کے تاثرات کا خلاصہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ بلا شبہ نئی قومی تعلیمی پالیسی اپنے مشمولات کے اعتبار سے نہایت جامع اور مفید ہے مگر اس کی کماحقہ تنفیذ ضروری ہے، جس میں سرکار کے ساتھ ہم تمام لوگوں کو اپنا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ قومی اردو کونسل کے ڈائریکٹر شیخ عقیل احمد کے اظہارِ تشکر کے ساتھ اس مذاکرے کا اختتام عمل میں آیا۔