حجاب تنازع:زمینی حقائق کو نظر انداز نہیں کر سکتے- نمیتا بھنڈارے

ترجمہ:نایاب حسن

 

کرناٹک ہائی کورٹ کے ذریعے طالبات کے حجاب پر پابندی کو برقرار رکھنے کا فیصلہ آنے سے دو دن پہلے ہندوستان کے چیف جسٹس ایک نئے آربٹریشن سینٹر کے سنگ بنیاد کی تقریب میں شرکت کے لیے حیدرآباد میں تھے۔ تقریب کی تصاویر جن میں ہندو پجاری مذہبی رسوم ادا کر رہے ہیں، وہ ہماری سیکولر زندگی میں مذہب کے وسیع کردار کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔
کرناٹک ہائی کورٹ کی تین ججوں کی بنچ نے فیصلہ دیا کہ ’مسلم خواتین کا حجاب پہننا اسلامی عقیدے کے مطابق لازمی مذہبی عمل کا حصہ نہیں ہے۔‘
یہ بیان بہت سی طالبات کو درپیش زمینی حقیقت کو نظر انداز کرتا ہے۔ مصنفہ اور تاریخ نگار رعنا صفوی کا کہنا ہے کہ مسلم بچے، خاص طور پر مسلم لڑکیاں”اپنے مذہبی طور طریقوں کی حفاظت میں” اسکول جانا چاہتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں’آئیڈیلی پردہ نہیں ہونا چاہیے؛ لیکن والدین اور لڑکیوں کا ماننا ہے کہ یہ ان کے مذہب کا حصہ ہے۔‘ لہذا اگر کوئی لڑکی سر پر اسکارف ڈال کر اسکول جانا چاہتی ہے، تو یہ اس کی مرضی ہے۔
فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا ہے؛ لیکن کرناٹک ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد دو طرح کے رد عمل کا خطرہ ہے اور دونوں کے ثبوت پہلے سے موجود ہیں۔

 

پہلا: عوامی مقامات پر حجاب پوش مسلم خواتین پر حملے عام ہوں گے۔ ابھی 16 مارچ کو اس کا ایک نمونہ سامنے آیا ہے، ممبئی میں مقیم ایک ڈینٹسٹ نے ٹویٹ کیا کہ اس کی حجاب پوش بیوی لوکل ٹرین میں اپنے ہاتھوں میں ایک بچے کولیے کھڑی تھی ، جب اسے ایک شخص نے سیٹ کی پیش کش کی اور خود کھڑا ہوگیا، تو دوسرے مسافروں کا اصرار تھا کہ اس حجاب پوش خاتون کی بجاے کسی اور عورت کو وہ سیٹ ملنی چاہیے۔
دوسرا ردعمل: بڑی تعداد میں خواتین حجاب کو اپنائیں گی اور اپنا رہی ہیں، جو بڑھتی ہوئی اسلامو فوبیا اور اکثریت پرستی کے خلاف ان کی مزاحمت کی علامت ہے۔
ایک ایسے وقت میں، جب مسلمان خود کو روز بہ روز انتہا پسند دائیں بازو کی بڑھتی ہوئی ہندوتوا تحریک کے ہاتھوں ستائے ہوئے محسوس کرتے ہیں، ان لڑکیوں کو حاشیے پر دھکیلنے کی کوشش کی جارہی ہے،جن کے پاس مزاحمت کا واحد راستہ یہی بچے گا کہ وہ زیادہ سے زیادہ حجاب اختیار کریں ،اسی طرح خواتین کی آزادی کا مقدمہ کمزور ہوگا، نیز اس فیصلے کے نتیجے میں بہت سے لوگ اپنے مذہب اور شناخت کی ظاہری علامتوں کو اپنانے کی طرف بڑھیں گے، جنھیں وہ خطرے میں دیکھ رہے ہیں۔

 

129 صفحات پر مشتمل فیصلہ اس طرف اشارہ کرتا ہے کہ مسلم لڑکیوں کی ’برین واشنگ‘ کی سازش کی جا رہی ہے۔ یہ فیصلہ بلند بانگ الفاظ میں ’آزادی اور خصوصاً تعلیم تک رسائی کی سمت میں ایک قدم آگے‘ کی بات کرتا ہے۔ اس میں غیر ضروری طورپر پردے کی تاریخ کو چھیڑا گیا ہے اور حجاب سے متعلق گاڑھے گاڑھے علمی مضامین کے حوالے دیے گئے ہیں؛ لیکن طالبات کو برقعے اور اسکارف اتارنے پر مجبور کیے جانے والی اشتعال انگیز ویڈیوز کے بارے میں یہ فیصلہ کلیتاً خاموش ہے، جو بلا شبہ عوامی طورپر خواتین کی عزت اچھالنے جیسا عمل ہے۔
اس فیصلے میں ان لڑکیوں کے لیے ہمدردی کا ایک لفظ نہیں کہا گیا،جن پر اسکول،کالجوں کے دروازے بند کردیے گئے یا جنھیں بھگوائی غنڈوں نے روکنے اور ہراساں کرنے کی کوشش کی اور ایک اکیلی لڑکی کو کلاس روم سے روکنے کے لیے اس کے سامنے اشتعال انگیز نعرے لگاتے رہے۔
اگر صرف اسکارف کی وجہ سے امن عامہ میں خلل پڑ سکتا ہے، تو اس کا ذمے دار کون ہے، اسے پہننے والی طالبہ یا قانون نافذ کرنے والے ادارے، جن کا کام ہی یہ ہے کہ وہ امنِ عامہ کو برقرار رکھیں ؟ بدقسمتی سے کرناٹک ہائی کورٹ کا فیصلہ اس اہم سوال کا کوئی جواب نہیں دیتا۔

 

(اصل مضمون آج کے روزنامہ ’ہندوستان ٹائمس‘ میں شائع ہوا ہے)

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*