اوباما کی نئی کتاب،نئے ریکارڈز-نایاب حسن

سابق امریکی صدر کے طورپر تو ہم اور آپ باراک اوباما کو جانتے ہی ہیں  اور حالیہ دنوں میں اپنی پارٹی کے صدارتی امیدوار جو بائیڈن کے لیے کمپیننگ کرنے کے حوالے سے بھی ان کا ذکر عالمی میڈیا میں گرم تھا،مگر اس کے کچھ ہی دن بعد ان کی تازہ کتاب (A Promised Land)پر عالمی میڈیا میں بحث و نقاش کا سلسلہ شروع ہوگیا اور 17؍نومبر کو ان کی وہ کتاب منظرِ عام پر بھی آگئی ہے۔

حالاں کہ اوباما اس سے قبل بھی تین چار کتابیں لکھ چکے ہیں اور وہ بھی کافی بکی ہیں ،مگر ان کا تعلق ان کی ذات ،خاندان یا امریکہ سے  تھا؛لیکن  ان کی تازہ تصنیف کا تعلق ان کی اپنی شخصیت کے علاوہ امریکہ اور پوری دنیا سے ہے کہ اس میں انھوں نے 2009سے 2017 تک کے اپنے دورِ صدارت پر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے،یہی وجہ ہے کہ منظر عام پر آتے ہی گویا لوگ اس پر ٹوٹ پڑے ہیں ،مختلف میڈیا ذرائع میں شائع شدہ خبروں کے مطابق محض چوبیس گھنٹوں میں اس کی آٹھ لاکھ نوے ہزار کاپیاں(قیمت تقریبا دوکروڑ ڈالرز) فروخت ہوچکی ہیں اور توقع ہے کہ امریکا اور کینیڈا میں اس کی مجموعی فروخت 2.5 سے 3 کروڑ کاپیوں تک چلی جائے گی۔ اس طرح کتاب کی فروخت سے حاصل ہونے والی مجموعی آمدنی 50 کروڑ ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔کتابوں کی دنیا سے تعلق رکھنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسا لگتا ہے اوباما کی یہ کتاب جدید عالمی تاریخ کی سب سے زیادہ بکنے والی کتاب ثابت ہوگی۔ مالی منافع کے اعتبار سے اس کتاب کی اہمیت یہ بتائی جارہی ہے کہ اس کے ذریعے اوباما اُس تنخواہ کی مجموعی رقم سے بھی زیادہ کما لیں گے، جو انھوں نے وائٹ ہاؤس میں بطور صدر آٹھ برس رہتے ہوئے حاصل کی تھی ۔

اوباما کی یہ کتاب دو جلدوں اور ساڑھے سات سو سے زائد صفحات پر مشتمل ہے۔ کتاب میں انھوں نے 2009سے 2017 تک اپنے دورِ صدارت کا احوال بیان کیا ہے اور اس عرصے میں امریکی و عالمی سطح پر رونما ہونے والے بہت سے اہم واقعات و سانحات سے پردہ اٹھایا ہے۔ اوباما کے مطابق اس کتاب کا مقصد اپنی صدارت کے عرصے کے بارے میں سچائی پر مبنی رپورٹ پیش کرنا ہے۔ علاوہ ازیں کتاب میں امریکہ کی داخلی کشمکش کا علاج ، جمہوریت کو سب کے لیے کارآمد بنانے اور پاکستان میں 2011ء میں اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے متعلق واقعات پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔پہلے ایڈیشن کے طورپر اس کتاب کی 30 لاکھ کاپیاں چھپوائی گئی ہیں اور 24 بین الاقوامی زبانوں میں اس کا  ترجمہ بھی شائع کیاجا رہا ہے۔ کتاب کی قیمت 20 ڈالر(چودہ سو سے زائد ہندوستانی روپے) رکھی گئی ہے ۔ اس کتاب نے اوباما کی اہلیہ مشیل اوباما کی دو سال قبل شائع ہونے والی کتابBecoming کی پہلے دن فروخت کا ریکارڈ بھی توڑ دیا ہے۔ شائع ہونے کے پہلے دن امریکا اور کینیڈا میں مشیل اوباما کی کتاب کی 7.25 لاکھ کاپیاں فروخت ہوئی تھیں۔

اوباما کی کتاب کے اس قدر تیزی سے فروخت ہونے کی ایک وجہ تو ظاہر ہے کہ موجودہ دور میں وہ ایک عالمگیر شخصیت  ہیں،معاصر دنیا کے سپر پاور امریکا کے لگاتار دوبار صدر رہ چکے ہیں مگر ایک اہم اور بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ لوگ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ ان کے آٹھ سالہ دورِ صدارت میں دنیا بھر میں جو انقلاب انگیز واقعات رونما ہوئے ،ان کے بارے میں وہ اس کتاب میں کیا کچھ بتا اور سنارہے ہیں۔ایک اوربات  اس کتاب کی کثرتِ فروخت سے یہ بھی معلوم ہوتی ہے کہ ہمارے مشرقی معاشرے میں بھلے کتاب بینی کا کلچر زوال پذیر ہے،مگر مغرب کا کتاب  کا کلچر آج بھی اپنے عروج پر ہے۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*